گذشتہ کل جمعہ پڑھا کر لوٹا اور سو گیا ۔ کچھ دیر کے بعد والد گرامی جناب مفتی شمشیر حیدر قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کا فون آیا ۔ والد صاحب نے کویت کے حالات کے بارے میں پوچھا اور کویت میں موجود تمام رام پور والوں کے بارے میں پوچھا کہ حالات کیسے ہیں اور رام پور کے تمام لوگ کیسے ہیں ؟ بات چیت کے بعد دوبارہ سوگیا اور ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ سائرن گونجنے لگا۔۔ سائرن کی گونج سن کر سمجھ گیا تھا کہ ایران کی طرف سے حملہ ہونے والا ہے ۔ بس سائرن بجتے ہی میزائل اور ڈرون حملے کی ایسی دھماکہ خیز آواز گونجی کہ میں خوف میں مبتلا ہوگیا۔ کمرہ کے در و دیوار ہلنے لگے؛ ایسا لگا کہ میرے کمرے کے چھت پر ہی ایرانی میزائل و ڈرون سے حملہ ہوگیا اور میزائل اب چھت کو چیر کر مجھ پر آ گرے گا ( اللہ حفاظت فرمائے)۔ اور اس طرح کی مہیب، دہشت ناک اور پر ہول آواز کئی مرتبہ سماعت سے وقفہ وقفہ سے ٹکڑائی۔ میں دروازے اچھی طرح بند کر کے لیٹ گیا اور کمبل میں خود کو چھپا لیا، دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔ خوف سے آنسو جاری ہوگئے تھے۔ تقریباً نصف گھنٹہ تک سائرن بجتا رہا اور اسی گھبراہٹ کے عالم میں کب آنکھ لگ گئی پتہ بھی نہیں چلا۔ کچھ دیر کے بعد جب آنکھ کھلی اور کمرہ سے باہر آ کر آسمان کی طرف جھانکا تو فضا دھوؤں سے اٹی ہوئی تھی۔ دھماکے کی یہ آواز نئی نہیں تھی، کویت میں ایرانی حملے کے بعد سے کئی مرتبہ یہ آواز سنی مگر یہ دھماکہ الگ تھا، لرزہ خیز دھماکہ، خوفناک دھماکہ، ہیبت ناک دھماکہ۔
      اس حادثہ نے میرا تخیل فلسطین کی طرف پھیر دیا کہ میں تو پھر بھی با شعور ہوں، فہم و ادراک ہے۔ میں نے کسی کو ہلاک ہوتے نہیں دیکھا، آنکھوں سے بم پھٹتے، میزائل گرتے نہیں دیکھا بس آواز سنی اور مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔۔۔۔ لیکن فلسطینی معصوم بچے پر کیا گزرتا ہوگا ؟ وہ تو آنکھوں سے بم پھٹتے دیکھتے ہیں، ڈرون حملے دیکھتے ہیں، میزائل گرتے دیکھتے ہیں، اپنوں کی تڑپتی لاشوں کو دیکھتے ہیں، باپ کی خون میں نہائی لاش کو دیکھتے ہیں۔ ماں کی ملبے تلے دبی لاش کو دیکھتے ہیں ، اپنے ہم عمر بچوں کی چیتھڑے اڑتے دیکھتے ہیں۔
     بلاشبہ ارض مقدس کا ایک ایک فرد ہمت و حوصلہ کا کوہ ہمالہ ہے۔ عزم و استقلال کا چٹان ہے۔ ان شاء اللہ ان کی جانثاری و فدا کاری ضرور رنگ لائے گی۔ جمعہ کے اس واقعہ نے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے کرب کا دل میں احساس اور بھی گہرا کردیا۔‌ احمد سلمان نے بڑی اچھی بات کہی ہے 
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے