وفاتِ اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ — رمضان کی ایک پُرسوز رات
جس طرح اُمّ المؤمنین خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی وفات رمضان المبارک میں ہوئی، اسی طرح اُمّ المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بھی ماہِ رمضان ہی میں اپنے رب سے جا ملیں۔
آپؓ نے 17 رمضان 58ھ (مطابق جولائی 678ء) کی رات مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ خبر پھیلتے ہی مدینہ میں ایک غم کی لہر دوڑ گئی۔ انصار و مہاجرین گھروں سے نکل آئے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ رات کے وقت ایسا ہجوم کم ہی دیکھا گیا تھا—عورتوں کا اجتماع ایسا تھا جیسے عید کا دن ہو، مگر فضا سوگوار تھی۔
نمازِ جنازہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی، جو اُس وقت مدینہ کے قائم مقام امیر تھے۔ تدفین رات ہی میں ہوئی۔ آپؓ کو جنت البقیع میں دیگر ازواجِ مطہراتؓ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ قبر کے گرد پردہ کیا گیا تاکہ احترام میں کوئی کمی نہ ہو۔ آپؓ کو قبر میں آپ کے قریبی عزیزوں—قاسم بن محمد، عبداللہ بن زبیر، عروہ بن زبیر اور دیگر اہلِ خاندان—نے اتارا۔
آپؓ تقریباً 66 یا 67 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کی وفات کے بعد 47 برس تک آپؓ امت کی رہنمائی فرماتی رہیں۔ ہزاروں احادیث آپؓ کے ذریعے امت تک پہنچیں۔ علم، فقہ، عبادت اور زہد میں آپؓ کا مقام نہایت بلند تھا۔
آخری ایام کی عاجزی
جب کوئی عیادت کو آتا تو فرماتیں: “میں ٹھیک ہوں”۔
اور جب وفات کا وقت قریب آیا تو انتہائی انکسار سے فرمایا:
کاش میں کوئی درخت ہوتی… کاش میں مٹی کا ڈھیلا ہوتی… کاش میں قابلِ ذکر نہ ہوتی…
یہ کلمات مایوسی کے نہیں تھے، بلکہ کسرِ نفسی اور اللہ کے حضور عاجزی کا اظہار تھے۔ ایسی ہستی، جن کے حق میں سورۃ النور کی آیات (11 تا 20) نازل ہوئیں، وہ بھی اپنے رب کے سامنے خود کو کچھ نہ سمجھتی تھیں—یہی بندگی کا کمال ہے۔
آپؓ کے چند نمایاں فضائل
نبی ﷺ نے آپؓ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نکاح نہیں فرمایا۔
آپؓ کے حق میں آسمان سے براءت نازل ہوئی۔
آپؓ کے حجرے میں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور وہیں مدفون ہوئے۔
وحی اکثر آپؓ کی موجودگی میں نازل ہوتی تھی۔
علمِ دین میں آپؓ کا مقام ایسا تھا کہ بڑے بڑے صحابہؓ آپؓ سے مسائل دریافت کرتے تھے۔
آپؓ کا وصال امت کے لیے عظیم صدمہ تھا، مگر آپؓ کی علمی و روحانی میراث آج بھی زندہ ہے۔ جنت البقیع کی خاموش فضا میں ازواجِ مطہراتؓ آرام فرما ہیں—سب امت کی مائیں ہیں، سب پر لاکھوں سلام۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،
اور اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
♥