آج کا دور ترقی، علم اور آزادی کے نعروں سے بھرا ہوا ہے، مگر انہی نعروں کے پیچھے ایک خطرناک طوفان سر اُٹھا رہا ہے فتنۂ ارتداد۔

یہ وہ فتنہ ہے جو انسان کے دل سے ایمان کی روشنی چھین لیتا ہے، مگر بظاہر اسے “باشعور” اور “جدید” بننے کا احساس دیتا ہے۔

ماضی میں کفر تلوار کے ساتھ سامنے آتا تھا، آج وہ نظریات، سوشل میڈیا اور فکری گمراہی کی صورت میں دلوں پر حملہ آور ہے۔

نوجوان نسل کو “سوچنے کی آزادی” کے نام پر یہ سکھایا جا رہا ہے کہ دین ایک ذاتی معاملہ ہے،

شریعت پر عمل “قدامت پرستی” ہے،

اور ایمان پر ثابت قدم رہنا “شدت پسندی”۔

یہی نیا ارتداد ہے جو زبان سے نہیں، نظریے سے شروع ہوتا ہے۔

انسان "مسلمان" کہلاتا رہتا ہے، مگر دل سے یقین ڈگمگا جاتا ہے۔

یہی اصل خطرہ ہے کہ ایمان کے خلاف جنگ اب تلوار سے نہیں، بلکہ دلائل اور دعووں کے پردے میں لڑی جا رہی ہے۔

اسلام دشمن طاقتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ مسلمان کی اصل طاقت اس کا ایمان ہے۔

اسی لیے آج وہ تعلیمی نظام، میڈیا اور ثقافتی اثرات کے ذریعے ایمان کی بنیادوں پر کاری ضرب لگا رہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے گھروں، دلوں اور ذہنوں میں ایمان کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کرنا ہوگا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو محض دنیاوی تعلیم نہیں بلکہ دینی شعور اور عقیدۂ توحید بھی دیں۔

ہم اپنے گھروں میں قرآن کی تلاوت اور نبی ﷺ کی سنت کو عام کریں۔

کیونکہ وہی گھر محفوظ ہیں جن میں ایمان کی روشنی جلتی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اَللّٰهُ يُثَبِّتُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ”

(سورۃ ابراہیم: 27)

“اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔”

فتنۂ ارتداد کا مقابلہ کسی نعرے یا بحث سے نہیں بلکہ علم، یقین، اور تقویٰ سے کیا جا سکتا ہے۔

جو قرآن سے جڑا رہے گا، وہ بہک نہیں سکتا۔

جو سنت پر قائم رہے گا، وہ کبھی شکست نہیں کھائے گا۔

آج کے اس فکری انتشار کے زمانے میں اصل کامیاب وہی ہے جو اپنے ایمان پر ڈٹا رہے،

چاہے زمانہ اسے “قدامت پسند” کہے یا “روایتی”۔

کیونکہ آنے والا وقت صرف انہی کا ہے جو یقین کے ساتھ جئیں گے، اور ایمان کے ساتھ مریں گے۔