تصورات کا دین
07 مارچ، 2026
دینِ اسلام حقیقت، وحی اور قطعی دلائل کا دین ہے۔ اس کی بنیاد انسانی قیاسات، گمان یا محض تصورات پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم بار بار اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دین وہی معتبر ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ثابت ہو۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: *وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا* یعنی گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کو محض تصورات اور قیاسات پر قائم کرنا دراصل حق سے دوری کا راستہ ہے۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی لوگوں نے وحی الٰہی کو چھوڑ کر اپنے خیالات اور تصورات کو بنیاد بنایا تو دین کی اصل شکل بگڑ گئی۔ بہت سی قومیں اسی وجہ سے گمراہی کا شکار ہوئیں کہ انہوں نے اپنے نظریات، فلسفوں اور رسم و رواج کو دین کا درجہ دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اصل الٰہی تعلیمات پس منظر میں چلی گئیں اور دین محض خیالات اور فلسفوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا۔
اس کی ایک نمایاں مثال برصغیر میں پائے جانے والے ہندو مذہبی تصورات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ہندو مذہب میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف فلسفیانہ نظریات اور انسانی خیالات شامل ہوتے گئے، یہاں تک کہ ایک ہی مذہب کے اندر بے شمار دیوتاؤں، عقائد اور طریقوں کا اضافہ ہو گیا۔ کسی جگہ پتھروں کو مقدس مانا گیا، کہیں درختوں اور جانوروں کو پوجا کا درجہ دیا گیا، اور کہیں انسانوں کو دیوتاؤں کا مظہر سمجھا جانے لگا۔ یہ سب اس بات کی مثال ہیں کہ جب دین وحی کے بجائے انسانی تصورات پر قائم ہو جائے تو اس میں یکسانیت اور واضح ہدایت باقی نہیں رہتی۔
اسلام اس طرزِ فکر کی سختی سے نفی کرتا ہے۔ اسلام
کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرے۔ قرآن نے مومنین کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا” یعنی ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو ایمان کی بنیاد ہے۔ اس کے مقابلے میں جب انسان یہ کہنے لگے کہ دین کو ہم اپنی عقل یا اپنی پسند کے مطابق ڈھالیں گے تو یہی دراصل تصورات کے دین کی ابتدا ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس خطرے کی طرف واضح اشارہ فرمایا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: “میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔” اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ہدایت کا اصل سرچشمہ قرآن اور سنت ہیں، نہ کہ انسان کے خود ساختہ نظریات۔
دورِ حاضر میں بھی یہ رجحان مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے۔ بعض لوگ دین کو محض فکری یا فلسفیانہ بحث بنا دیتے ہیں اور عملی شریعت کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی عقل ہی سب سے بڑا معیار ہے، اس لیے جو بات ان کی سوچ کے مطابق نہ ہو اسے قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ دین کا وہ مضبوط علمی ڈھانچہ کمزور ہونے لگتا ہے جو صدیوں سے علماء اور محدثین کی محنت سے قائم ہوا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام تصورات کا دین نہیں بلکہ اتباع اور وحی کا دین ہے۔ اس میں اصل معیار اللہ کا حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ مسلمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے خیالات اور خواہشات کو شریعت کے تابع کر دے۔ جب انسان اپنی عقل کو وحی کے تابع کر لیتا ہے تو وہ ہدایت پا جاتا ہے، لیکن جب وہ وحی کو اپنی عقل کے تابع کرنے لگتا ہے تو گمراہی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ مسلمان دین کو اس کے اصل مصادر یعنی قرآن و سنت اور سلفِ صالحین کے فہم کی روشنی میں سمجھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو فکری انتشار سے بچاتا ہے اور دین کو محض تصورات اور خیالات کا مجموعہ بننے سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسلام کا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے رب کی ہدایت کو قبول کرے اور اپنی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالے، کیونکہ یہی راستہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ضامن ہے