🌾 ٭٭٭---﴿داستان غم فراق﴾---٭٭٭🍂
ہر شے مسافر ، ہر چیز راہی
کیا چاند تارے ، کیا مرغ و ماہی
✍🏻یہ واقعہ ۲۵ رمضان ۱۴۳۹ھ مطابق مئی ۲۰۱۸ کا ہے جب راقم سال فارسی سے فارغ ہوکر سالانہ چھٹی میں گھر آیا، تراویح میں تکمیل قرآن کے بعد مابقیہ ایام مادر وپدر ،برادر وخواہر، دوست واحباب کے محبت وعنایت کے سایہ تلے گزار رہا تھا -
۲۵ رمضان کو راقم ظہر کی نمازادا کرکےتقریبا ۳بجے گھر آیا تاکہ میں دیکھ سکوں کہ افطار کانظم ونسق کیا ہے،والدہ کیا پکارہی ہے-
جب میں گھر پہونچا تووالدہ مطبخ(کچن) میں افطار کی تیاری کررہی تھی اور والد آنگن میں کھٹیا(چارپائی) لگاکر لیٹے ہوے تھے-
میں قدرےتأمل میں پڑگیا کیونکہ یہ والد کے خلاف معمول عمل تھا، عام طور سے بعد نماز فجر سے دوپہر تک رمضان میں آرام فرماتے تھے،اس کے بعد گھر کے ضروری امور انجام دیتے تھے-
میں گھرکے برآمدہ میں چُکّى مار کے( دونوں زانوں اٹھا کر) بیٹھ گیا-
یہ صورت حال دیکھ کر میں پدر محترم سےعرض گزار ہوا کہ ابوجی !آپ کوکیا ہوا ہے؟ کہ آپ اس وقت بستر استراحت پہ آرام فرما رہے ہیں ، تو وہ گویا ہوۓ کہ کچھ نہیں بس گلے میں معمولی سا درد ہورہا ہے، شاید یہ جملہ میری تسلی کےلیے تھا ،مگر معاملہ گمبھیراور زیادہ سخت تھا-
پھر اگلےدن صبح کو ڈاکٹر سے علاج کےلیے ارریہ نکل گیۓ، وہاں میرے والد کےرشتہ دار ہیں انکو پیش آمدہ عارضہ سے مطلع کیا ،چنانچہ انہوں نے تسلی دی اور کچھ دوائیاں بھی دی،اور والد شام کو گھر واپس آگیۓ ، جب مرض مزید بڑھا اورخاطرخواہ افاقہ نہ ہوا تو پورنیہ کا رخ کیا،وہاں کے اچھے معالج کے زیر نگرانی علاج چلتارہا حتی کہ رمضان اختتام پذیر تھا یہ آخری عید کہ رفاقت اور انکے سایہ میں خوشی بہ خوشی گزر گئی ، عید کے بعد مرض کی تشخیص ہوئی تو بتایاگہ آپ کو کینسر لاحق ہوا،( اس مرض کا مسافر بہت کم زیست کی جولان گاہوں میں چکر زیست پاتاہے) صورت حال تشویناک ہے جلدی سے دہلی کے لیے پابہ رکاب ہوجائیے،اسی پیچ وتاب اور شش وپنج میں میرا تعلیمی سال کاآغاز ہوچکاتھا مدرسہ کھل چکاتھا ،ہربار کی طرح اس بار والدؒ مجھے چھوڑنے کیلیے اسٹیشن تشریف لاۓ-
ہرمرتبہ مجھے محبت بھرے لہجہ میں نصیحت کرتے ، تعلیم اور سفر سے متعلق ہدایات فرماتے،حسرت ومحبت کی نگاہ سے دیکھتے رہتے،اس بار بھی ایسا ہی ہوا، بہت پر وثوق لہجہ میں نصیحت وہدایت آمیز فقرے میرے دامن ذہن وقلب میں بھردیئے ،اور ٹرین کی کھڑکی سے وہ مجھے میں انہیں حسرت سے دیکھتا رہا،مجھے یاانہیں کیا معلوم کہ یہ رخصتی آخری ہوگی اورحسرت بھری نگاہیں سپرد خاک ہوجائیں گے-
جب میں مدرسہ حاضر ہوااور تعلیم بھی شروع ہوگئی ،کچھ دنوں بعد میں نے حال واحوال دریافت کرنے کی غرض سے کال کے ذریعے پدر محترم سے مخاطب ہوا ،صورت حال سے آگہی لی ،والد نے مجھے بتایاکہ میں دہلی آرہاہوں ،مجھے تعجب ہواکہ اچانک دہلی کیوں آرہے ہیں؟ کیونکہ اس بیماری کا مجھے ذرا بھی علم نہ تھا ، جب سے میں سن شعور کو پہونچا والد کو دور درازکاسفرکرتے ہوۓ نہیں دیکھا -
میں نے عرض کیاکہ آپ دھلی کیوں تشریف لارہے ہیں؟ تو فرمایاکہ کسی غرض سے جارہاہوں ،میں مطمئن ہوگیا،اس وقت میری رسائی فہم کم تھی، معاملہ فہم بھی نہ تھا، میں نے زیارت کی درخواست کی تو شفقتا منع فرمادیا کہ تمہارے تعلیم کا حرج ہوگا لہذا آپ تشریف نہ لائیں ،میں نے بادل نخواستہ حکم کی تعمیل کی-
چند ایام اسکے بعد گزارے کہ تعطیل عید الاضحی کا موقع آن پڑا، راقم اس موقع کوغنیمت جان کر عیادت وزیارت کے لیے گھر کی طرف کوچ کرگیا، گھر پہونچا،والد کو بنظر التفات دیکھا، ہیئت جسمانیہ دیکھ کر مجھے تشویش ہونے لگا،چونکہ والد اب پہلے کی طرح نہ تھے، وہ قوت وتوانائی باقی نہ تھی ، روزبروز مائل بہ ضعف ہورہاتھا،جسم لاغر ہوچکاتھا،کھانے پینے میں بھی منجانب ڈاکٹر احتیاط لازم کردی گئی تھی-
کم وبیش۱۵ یوم راقم نے والد کے ہمراہ گزارا ، عیادت کےلیےمتعلقین ومحبین کا تانتا لگارہتا ،والد شروع ہی سے چونکہ بڑے فیاض اور صاحب تھے تو اہل خانہ کو یہ تاکید فرماچکے تھےکہ آنے جانے والے لوگوں کے خیرمقدم میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے، ہم نے اپنےپوری چھٹی خدمتگاری میں گزاری اور یہی وقت میرے لیے لمحۂ آخر بن گیا-
تعطیل پوری کرنے کے بعد میں دوباری سفر تعلیم کےلیے کمربستہ ہوگیا،اس بار طبیعت کے متأثر ہونے کی وجہ سے والد رخصتی کے لیے تشریف نہ لاسکے،دہلیز تک کی رخصتی پر ہی اکتفا کرلیا،میں شوق تعلیم میں سب کوپس پشت ڈال کر چمنستان علم وفن میں حاضر ہوا(جہاں روحانی باپ کی شفقت ومہربانی اور روحانی بھائی کی غمگساری نے گھر کی فکروں سے آزاد کردیا ) اورتعلیم میں منہمک ہوگیا-
گاہے بہ گاہے فون کے ذریعے گفت وشنید ،حال واحوال دریافت کرلیتا، اس پورے عرصہ میں راقم دامن امید سے وابستہ رہا،مگر منظور الہی کچھ اور ہی تھا،وہی ہوا جو حکم ربی سے مقدر تھا مختلف حکماء واطباء سے علاج کے باوجود افاقہ نہ ہوا،مرض آۓ روز شدید ہوتاجاتاتو موت نے بھی فتح کے علم(جھنڈا) بلند کرنےلگے، قطع حیات کے آثار اعضاۓ جسمانی سے نمایاں ہونے لگے،زبان وبیان کے قوت نطق بھی ماند پڑنےلگی،نششت وبرخاست اب دوسرں کے سہارے ہونے لگی ، گلے میں بڑھتے زخم نے پہلے ہی سے اکل وشرب اور آمادۂ تکلم پہ روک لگادی تھی -
گفتگو بہت کم فرماتے ،وفات سے تقریبا ایک ماہ قبل کچھ بات ہوئی( جس میں علیک سلیک،حال واحوال اور احتیاج تعلیم سے متعلق باتیں شامل ہیں) اور برادر بزرگوار کوحکم فرمایا کہ مجھے پیسے ارسال دیں تو انہوں نے تعمیل حکم میں ایک ہزاررقم ارسال کردیئے،اسکے بعد دوبارہ بات نہ ہوسکی شاید بولنے میں زیادہ تکلیف ہونے لگی تھی ،والدہ اوربرادر مکرم نے صورت حال پہ پردہ ڈالے رکھا، اصل حقائق ہم سےپنہاں رکھا، کلفت غم کوخودہی سہتے رہے،اور میرے ہاتھ میں امید ودعاکی ڈور تھمادی،جب بھی والد سے متعلق کچھ دریافت کرتا تو طوعا وکرہا ٹال دیتے-
حتی کہ ماہ رجب جمعہ کے دن نماز فجر سے قبل وقت موعود آپہونچا اوروالد ایسے سفر پہ روانہ ہوۓجہاں کا مسافر کبھی واپس نہ آیا،جان جاں آفریں کے سپرد کرکے اپنی عمر کے ۶۵ بہاریں دیکھنے کے بعد مالک حقیقی سے جاملے
ٹھہرسکا نہ ہواۓ چمن میں خیمۂ گل
یہی فصل بہاری ، یہی ہے باد مراد؟
اورمیں شفایابی کےلیےامید کی کرن دیکھ رہاتھا کہ اسی دن صبح ۹بجےایک قریبی ساتھی کے توسط سے والد کے وفات کی غمناک ونمناک خبر میری سماعت کے حوالے ہوئی، چنانچہ میں عصر کے بعد تحقیق حال کیلیے برادر معظم سے ہم کلام ہوا تو انہوں نے پروثوق لہجہ میں اس کی نفی کردی ،میں ایک ماہ تک مسکت رہا ،پھر اسی ساتھی نے رابطہ کرکے دوبارہ آگاہ کیاتو اب میرا شک یقین میں تبدیل ہوگیا،جب یقین آگیاکہ راقم اور راقم کے برادر وخواہر شفقت پدری سےاب ہمیشہ کےلیے محروم ہوگیا تویہ خبر صاعقہ آسمانی بن کر مجھ پہ گری اور ذہنی ہیئت کچھ لمحے کیلیے توقف میں پڑگیا،ذہنی ساخت تھم ساگیا،پیر تلے زمیں کھسک گئی، اور آنسؤوں کا ایک سیل رواں جاری ہوگیا،اور ماضی کی یادوں کا پورا نقشہ (جس میں محبت وشفقت ،تنبیہ وتسخیر، خوشگوار وناگوار لمحات وساعات شامل ہیں) کھل کر سامنے آگیا، جب کچھ غم فروتر ہوا تو راقم نےقضاۓ الہی پہ رضاۓ راہی کا اظہار کیا میں نے وہی کہا جو اس موقع پہ کہاجاتا ہے"اناللہ وانا الیہ راجعون"
پھر مدرسہ میں ان کے لیے ایصال ثواب کا خاص اہتمام کیاگیا، اللہم اغفرلہ وراحمہ وارفع درجتہ اعلی علیین ،سقی اللہ ثراہ و اجعل مثواہ فی الجنتہ آمین
آسماں تیری لحد پہ شبنم افسانی کرے
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
✍🏻٭٭٭﴿صداۓ قلب٭٭٭﴾📖
محمد گل رضا راھی بن ایوب عالم ارریاوی
متعلم :عربی پنجم
جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروھہ یوپی