🖊️روداد سفر بنام
(نکل چکاہوں مے خانۂ علم فن کو خیرآباد کہہ کر )
گل رضاراہی ارریاوی✍🏻
نکل چکاہوں مے خانۂ علم و فن کو خیرآباد کہہ کر
اے زندگی وفا کرنا کہ یہاں آؤں شاد وآباد ہوکر
✍🏻عید الفطر کی تعطیل کلاں مکمل ہونے کے بعد راقم نے یہ عزم کیاتھاکہ اب ایک سال سےزائد کا عرصہ گزارنے سے پہلے گھر کی طرف پا بہ رکاب نہیں ہوگا،
پر کبھی کبھی حالات ایسے رخ پھیرتی ہےعزائم لرزنے لگتے ہیں ،ارادے ٹوٹتے ہوۓ نظرآتےہیں،خیالات کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے ،قدم کے جماؤ بھی حرکت دینے لگتاہے اور انسان کو اپنا قدم پیچھے کرکے قضاۓ الہی کو قبول کرنا پڑتاہے،بریں بنا میرےارادے بھی متزلزل ہوۓ ،کسی اہم معاملہ درپیش ہونے کی وجہ سے اپنے عزائم کو بڑوں کے حکم کی چکی میں پیس کر ان کی اطاعت کو سعادت جانا اور عمل پیرا ہوا-
سفر چاہے زمانۂ قدیم کا ہو یاجدید کا، وہ ایک عذاب سے کم نہیں ،انسان کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن القلوب نہیں ہوسکتا،زمانۂ قدیم کے سفر میں ،گھوڑے، اونٹ اور خچر ہوتے تھے،کئی کئی دن اور مہینوں کے سفر ہوتے تھے،لوگ زاد راہ اور سامان سفر کے ضروری اشیاء ہمراہ لے کر چلتے تھے ،صیف وشتا ،بہار وخزاں ہرطرح کے موسم سے خود کو لطف اندوز ہونے دیتے تھے، لوگوں میں اتنی سادگی تھی کہ کوئی ٹکٹ، کوئی پاسپورٹ کوئی ویزا نہیں ،بلکہ بالکل مفت سیرو فی الارض أیام ولیالیہا ،سیرو فی الارض فانظر کیف عاقبۃ المجرمین پر عمل کرنا کاموقع ملتاتھا،کوئی مسئلہ نہیں کوئی جھگڑا نہیں ، یہ سادہ لوح لوگ تھے ،جہاں طمع وحرص ،حسد وکینہ نہیں پایا جاتا تھا بس محبت ہی محبت ،رحم ہی رحم پایاجاتاتھا،اور آج کئی مہینوں کاسفر چند ساعت میں طے ہوجاتاہے،سکون و آرام کے ساتھ ایک جگہ بیٹھ کرفضائی جہازوں وبحری جہازوں کے ذریعے منزل مقصود تک پہونچ جاتاہے،انسان کو اب سفر کےلیے الگ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی ،ارادہ بننے کے چند گھنٹے بعد میں اپنے ارادوں کی دنیا میں قدم رکھ دیتاہے،پر کئی قوانین کئی رولس نے انسان کو پابہ زنجیر کردیاہے،اگر قوانین پہ عمل نہ ہوا اور حکومتی کارندوں کے گرفت میں آگیاتو وہ سفر نامکمل ہوکر رہ جاتاہے ،چونکہ یہ لوگ غل مال وزر ،دراہم ودنانیر اور پیسوں کے غلام ہوتے ہیں ،اسلیے یہ لوگ زجر و توبیخ سے رعب ڈال کر سفرکی اجازت دیتے ہیں،
سفر زمانۂ جدید میں مشقت سے خالی نہیں ہے پھر بھی کئی ہزار نہیں بلکہ سینکڑوں لوگ سفر کرتے ہیں ،سب کو اس کی معاشی حالت کے مطابق سہولتیں میسر ہوتی ہیں ،نہایت آسودہ حال شخص کو مکمل سہولت ملتی ، معتدل اسباب والے کو اس سے کم اور خستہ و پسماندہ غریب لوگوں کو سب سے زیادہ مشقت کا سامنا کرناپڑتاہے، بھوک پیاس گرمی ،سردی سب کچھ سہناپڑتاہے ،اسلیے یہ لوگ کبھی بھی شوقیانہ سفر نہیں کرتے بلکہ اپنے اہل وعیال کو شکم سیر کرنے اور لوازمات زندگی کو پورا کرنے کےلیے سفر کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو رویہ حکومت اور اس کے کارندے کرتے ہیں وہ اس کے انسانیت پر بھی شرماتی ہے، چونکہ سیاسی لوگوں اور اس کے کارندوں کو مشقت بھرا سفر درپیش نہیں ہوتا اس لیے انہیں احساس نہیں ہے کہ غریب لوگوں کی زندگی کیا ہوتی ہے-
خیر راقم بھی بڑوں کے حکم کو اطاعت و فرمانبرداری کی لڑی میں پرو کر بادل ناخواستہ اس پر مشقت سفر کو عبور کرنے کےلیے راضی ہوناپڑا-
چنانچہ عیدالاضحیٰ کا موقع آیا جام و سبو اور آبخورے اور مے خوار ،اور میکدے سب کے سب نشہ و ومستی فرحت و مسرت میں مدہوش ہوگیے اور وقت سے پہلے چمن کے دور و دیوار کو افسردہ ،روتابلکتا چھوڑ کر اپنے وطن مالوف جہاں سے انہوں حیات نو کی آنکھیں کھولیں تھی نکلنے شروع ہوگیے-
جب تقریبا پھول جھر گیے ،موسم خزاں نے گرم ہوائیں دینی شروع کی تو راقم نےبھی اپنے سفر کے زین کو پکڑا اور چند کتابیں اور کچھ ضروری اشیا لےکر گھر کی طرف کوچ کرگیا جوکہ چار مرحلوں میں مکمل ہوا -
پہلا مرحلہ :امروہہ سے مراد آباد تک
یہ سفر تقریبا 45منٹ کا رہا جس میں کوئی خاص ہجوم نہیں تھا آرام سے نششت گاہوں پہ بیٹھ کر احباب کے ساتھ خوش گپیاں ،مذاق ومزاح ،طرح ومستی میں گزرا،کچھ دیر میں یہ سفر مکمل ہوا
دوسرا مرحلہ: مراد آباد سے آرا تک
جب ہم احباب مراد آباد میں فروکش ہوۓتو دیکھا کہ اگلی ٹرین اسٹیشن پہ آکھڑی ہے
ہم چار احباب میں سے دو احباب نششت گاہ حاصل کرنے کےلیے ٹرین کی طرف لپکے ،باقی دو احباب جن میں راقم بھی تھا ٹکٹ لینے کےلیے دوڑے کیونکہ بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا دارین کے رو سےممنوع ہے ،
کچھ دیر لگی پر ہم نے ٹکٹ حاصل کرلیے واپس بھاگتے ہوۓ گاڑی کی طرف آۓ گاڑی کھل چکی تھی ،توہم نے احباب سے وصال کی فکر کیے بغیر جس کوچ (ڈبہ )میں داخلہ ممکن ہوا داخل ہوگیا ،اس جلدی بازی کے عالم میں میری ٹوپی بھی وقوع زمین ہوگئی پر ایک بھلے انسان نے وہ ٹوپی مجھے اٹھا کردی
اللہ اس کو سعادت دارین سے نوازے-
خیر بھیڑ بہت زیادہ تھی ،نششت گاہ تو بہت دور کہیں بھی جگہ ملنا مشکل تھا،حتی کہ بیت الخلا کے پاس بھی مسافر بیٹھنے پہ مجبور تھے ،الحمد للہ تھوڑی توقف کے بعد راقم کو ایک ڈرام (گول ڈبہ )پہ بیٹھنا ممکن ہوگیا اور پھر پورا سفر شب بیداری کے عالم میں غزل سنتے اور اور ایک بھائی حمید الرحمن اور ایک دوست سےموبائل کے پیغامات کے ذریعے گفت وشنید ہوتی رہی ،راقم نے ان سے علمی استفادہ کرتے کرتے صبحِ نوکر دی-
اور پھر صبح 6:30بجے ہم احباب آرا اسٹیشن پہ اتر گیے
چونکہ ہم احباب سفر کو بھوک کا شدت سے احساس ہورہاتھا،گرمی سے پریشان تھے اگلی گاڑی دو گھنٹے کے بعد تھی ، احباب نے مشورہ کیا کہ کہیں جاکرپرسکون جگہ جو ہجوم وازدحام اور شور وغل سے پاک ہو آرام کیا جاۓ ،ایک ساتھی نےراۓ دی کہ کیوں نہ مسجد چلتے ہیں کہ وہاں بول وبراز سے فارغ ہو کرپھر وہیں تھوڑی دیر دراز ہوجائیں گے چونکہ یہ راۓ بالکل صواب کے عین مطابق تھی تو مسجد کی جستجو شروع کردی ،تلاش بسیار کےبعد ،مسلسل پیدل چلتے چلتے ہماری رسائی مسجد تک ہوگئی
وصال کے بعد دیکھا کہ وہ مسجد تو ہماری بریلوی برادران کی ہے بہت تشویش ہوئی کہ کہیں وہاں ناروا سلوک نہ کریں ،
پر الحمدللہ ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ انہوں اکرام کیا،بقدر استطاعت معاونت بھی کی
وہاں تھوڑی دیر آرام کے بعد بدن کو سکون ملا ،نشاط وحرارت کےبعد اگلی گاڑی حاصل کرنےکے لیے دوبارہ سفر شروع کیا ،چونکہ بھوک لگی تھی تو ہوٹل میں بیٹھ کر ،پری ،سبزی جلیبی کا ناشتہ کیا ، اس طرح آرا اور نوادہ کی تاریخی سرزمین میں قدم رنجائی کا شرف حاصل ہوا
بعد ازاں اگلے سفر کے لیے کمربستہ ہوۓ-
تیسرا مرحلہ:آرا سے کٹیہار تک
تیسرا مرحلہ بھی نہایت دشوار اور پریشان کن تھاجو اول مرحلے سے زیادہ خطرناک تھا،ہجوم اتنی کہ لوگوں کےجسم سے پسینے کی بدبو تارکول کی طرح ٹپک رہاتھا اور تیل کے طرح لغزش تھی، کھڑا ہونا بھی دشوار، بڑی مشکل تھا بیٹھنا ہجوم کی حالت میں میرا چپل پیر سے اتر گیا تھاپیر کی طرف بھی نظر نہیں کرسکتا تھا
گرمی کی شدت اتنی کہ رہا نہیں جارہا تھا،پانی کی طلب بڑھتی جارہی تھی ہم چار احباب مل کر پندرہ سے بیس بوتل پانی صاف کرگیے پتا بھی نہیں چلا، پورا سفر یونہی کھڑے ہوکر چلا غزل ونظم سنتے سناتے ،اس سفر میں سب سے زیادہ جن لوگوں نے پریشان کیا ان میں چیزوں کے خرید وفروخت کرنے والے لوگوں کا آمدورفت ایک لمحہ کےلیے توقف کا موقع فراہم نہیں کیا ،بدن اس قدر ہوگیا جیسا جسم سڑگیا ہواور صبح کے وقت تبدیل کیاہوا کپڑا لگاکہ کئی مہینے ہوگیے زیب تن کیے ہوۓ،تکالیف کو جھیلتے جھیلتے ہم شام 5:05بجےکٹیہار پہونچ گیے جو کہ ہمارے لیے پرمسرت گھڑی تھی کہ ہم اپنے منزل کےبہت زیادہ قریب ہوگیے ،چونکہ صبح کا کھایاہواتھا ،بھوک کا شدت سے احساس تھا ہم نے مشورہ کیا کہ کچھ خورد ونوش ہوجاۓ
ایک ساتھی نے راۓ پیش کی کہ چلو کھانا کھاتے ہیں ،اسٹیشن سے باہر نکلا تو دیکھا ،کھانا فروخت کرنے والا نگاہ منتظر لیے دیکھ رہاتھا،اس لیے ہم لوگوں نے ان سےقیمت وغیرہ معلوم کرکے سب نے اپنے مرضی کا کھانا طلب کیا ،مجھے مچھلی چاول پسند آیا تو میں نے وہ منگوایا خیر کھانے سے فارغ ہوتے ہی راقم نے ٹکٹ کےلیے دوڑ لگائی ،کاؤنٹر پہ پہونچا تو ایک خڑوس (سخت مزاج) بوڑھیا ٹکٹ دے رہی تھی جس کے پاس رقم کلیات کی شکل میں ہوتا اسے بھگا دیتا میرے پاس کلیات کی شکل میں پیسے تھے پر چار احباب کےلیے وہ پیسے کافی تھی اس لیے ٹکٹ مل گئی اور بحمد اللہ مجھے کسی ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا -
چوتھا مرحلہ: کٹیہار سے ارریہ وطن مالوف تک
ٹکٹ لینے سے پہلے ہی گاڑی اعلان ہوگیا تھااور اسی کی وجہ سے تگ ودو کرکے ٹکٹ لیاتھا-
گاڑی آئی دوڑکر جگہ حاصل کرلی سامان رکھ دیا،کٹیہار سے ارریہ تک کا سفر ہمیشہ میرے لیے خوش کن رہتاہے،اس لیے کہ یہاں سے شناسا لوگوں کی بو آنی شروع ہوجاتی ہے ،تمام جگہیں جانی پہنچانی سی لگتی ہے ،اس لیے راقم اکثر نششت گاہ پہ نہ بیٹھ کر گیٹ کے پاس کھڑا ہوجاتاہے اور کھیت کھلیان اور ہرے بھرے سبزہ زار کھلے میدان ،گاۓ بھینس بکریوں کا ریوڑ کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جو نہایت پرکشش دیدہ زیب منظر ہوتاہے، خیر ایک سوا گھنٹے کے بعد ارریہ کے دہلیز پہ قدم رکھا جس کی حساسیت ہمارے قلوب کو اب تک رکھا ہوا تھا ،برار اکبر کو فون ملایا علیک سلیک کے بعد متعینہ جگہ پہونچا اور بائیک سے گاؤں طرف رخصت ہوا،اور پندرہ بیس منٹ کے بعد شب دیجور میں ہجوم میں سکوت وخاموشی ،بادل کی گرج بجلی کی چمک ،متوقع طوفان و ہوا اور بارش کی امید وبیم کے ساتھ اپنے دروازے پہ آیا ،والدہ اور چچازاد بڑے بھائی کو سلام کہتے ہوۓ گھر میں داخل ہوا-
اس طرح بحمد اللہ جوسفر گزشتہ روز یکشنبہ (اتوار)کو شروع کیاتھا وہ پیر کی شام عشاء کے وقت بخیر وعافیت پایۂ تکمیل کو پہونچ گیا-
راہی !ہوگئی سفر کی تکمیل ذرا نگاہ تو دراز کر
کئی لوگ تیری سلامتی کی دعا میں مصروف تھے
اللہ سب کو خوش رکھے اور مشکلات کو دور کرے
آمین ثم آمین