مساجد کی حفاظت کیسے کریں ؟

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 

شعائر اسلام میں مسجد بھی داخل ہے ،جہاں مؤمن رب کریم کے آگے جبین نیاز خم کرتا ہے،عبادت و ریاضت کرتاہے ،ذکر واذکار اور رب کے حضور آہ وزاری کرتاہے ، اس سے مسلمانوں کی بہت بڑی دینی ضرورت وابستہ ہے ،علاقہ میں مسجد کا وجود مسلم آبادی کی دلیل سمجھی جاتی ہے-

اسلام میں مساجد کا نظام بہت اہم ہے،یہیں سے مسلمانوں کی دینی ودنیوی رہنمائی کی جاتی ہے، یہیں سے عامۃ المسلمین کی دینی تربیت ہوتی ہے،نسل نو کی آبیاری مکتب کی شکل میں مسجد میں ہی ہوتی ہے،اسلام سے وابستگی، لو گوں کے ساتھ خیرخواہی،تزکیۂ نفس کا درس اسی میں دی جاتی ہے-

مساجد سے امن ومحبت، بھائی چارگی، ملک وملت سے یک جہتی ،غیروں کے ساتھ خاطر و مدارت اور احسان وسلوک کادرس ملتا ہے -

مگر ؛ پچھلے ایک صدی سے زائد ملک نفرت کی آگ میں جھلس رہاہے ،ظلم وفساد تیزی سے بڑھ رہاہے ،انسانی جان کی سالمیت خطرے میں ہے -

بطورخاص؛ اس کا شکار مسلمان ہے ،اسلام دشمنی میں فرقہ پرست طاقتتیں بہت آگے نکل گئی ہیں ، اسلام کے اصول پر اعتراضات تو عام سی بات ہوگئی ہے، عملی کوشش میں مآب لینچگ اور مساجد کی مسماری کی کوشش پوری طور پر جاری ہے ،اس میں سب سے پہلے جس مسجد کو مسمار کرنے میں سب سے پہلے کامیاب ہوۓ وہ" بابری مسجد" ہے ،اس کے بعد یکے بعد دیگرے مسجد میں مندر ہونے کا دعوی شروع ہوگیا، گیان واپی مسجد،سنبھل کی جامع مسجد ، متھورا کی مسجد اور اس طرح ملک کی دیگر مساجد خطرے میں ہے ،بعض مساجد تو کاغذات کے صحیح ہونے کے بعد بھی گرادی گئی-

اس کے بعد سے ہی مساجد کو بلڈوز کیا جارہاہے حکومت ان پر قبضہ کررہی ہے،عمارتوں کو نقصان پہونچایا جارہا ہے، صدیوں پرانی مساجد کے خلاف احمقانہ دعوی کیاجاتاہے،عدالت بھی حکومت کی کاسہ لیسی ،تملق بازی میں ایسے کیس کو قابل سماعت بتاکر قبول کرلیتی ہےاور پھر چند کوڑی کی خاطر اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کےلیے بغیر کسی ثبوت کے مدعی کے حق میں فیصلہ سنادیتی ہے،جس سے مسلمانوں کے شعائر کوشدید خطرہ لاحق ہوگیا ،ایسی بے شمار مساجد ہیں جس کو مادر پدر آزاد خسیس ولعین فرقہ پرست طاقت نے مسمار کردیا -
کیونکہ ان سے اس کے علاوہ کی توقع نہیں کی جاسکتی ،قرآن کی کریم نے بھی اس کی صراحت کی ہے ،مسجد کو تعمیر کرنا مؤمنوں کا کام ہے ان کے علاوہ میں یہ اہلیت نہیں ہے -

تعمیر کےکئی مفہوم ہیں جس میں مسجد کی عمارت بنوانا ،مسجد کی صفائی دیکھ ریکھ ،مسجد کو نماز ،ذکر واذکار، تلاوت ،درس وتدریس سب شامل ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نےمؤمن کے علاوہ میں اس کی صفت کفر وشرک کے اختیار کی وجہ سے یہ اہلیت ہی نہیں رکھی کہ وہ مسجد کو آباد کریں اور مؤمن بھی وہ جو صالح ہو کیونکہ وہ دین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا-

اب اگر ہم مساجد کو آباد نہیں کریں گے ،اس کی دیکھ ریکھ اور نگرانی نہیں کریں گے ،نماز ذکر وتلاوت درس وتدریس سےآباد نہیں رکھیں گے تو پھر جو کفر وشرک کے خوگر ہیں وہ اس کی ویرانگی کےلیے سازشیں کریں گے ، طرح طرح کی فریب کاری اور مکاری سے اس کی عمارتوں کو گرادیں گے-

آج کل مساجد کی صورت حال یہ ہے کہ نمازوں میں امام کے پیچھے چار پانچ بوڑھے اور پرانے مصلی ہوتے ہیں پوری مسجد خالی ہوتی ہے ،رمضان جیسے موقع پر بھی گنے چنے چند افراد ہوتے ہیں -
اب ایسی صورت اگر مسجد کی ہوگی تو پیش آمدہ حالات مسجد کی بد دعا بھی ہوسکتی ہے-

سینکڑوں مساجد دنیا میں ایسی ہیں جو ہماری بے توجہی اور غفلت کی وجہ سے یا تو توڑ دی گئی یا اسے دوسرے عبادت گاہوں میں بدل دیا گیا 
اندلس کی مساجد چرچ گاہوں میں تبدیل ہوگئی ہند کی بے شمار مسجد مندر میں تبدیل ہوگئی ،اور جو مندر میں تبدیل نہیں ہوئی وہ کھنڈر بن گئی،وہ کوڑا کٹ ڈالنے کےلیے استعمال ہو رہا ہے، دہلی کے اندر بعض مساجد کی حالت یہ ہے کہ اس میں پیشاب و شراب نوشی ،بدکاری جیسے عمل بد کا ارتکاب ہوتا ہے-
یہ سب مساجد کو آباد نہ کرنے کا نتیجہ ہے-

آج بھی اگر ہم اپنی دینی ضروریات کے ساتھ ساتھ دنیوی ضروریات کو بھی مسجد سے وابستہ کردیں تو ان شاءاللہ مسجد خالی نہیں رہےگی -

جب ایک بڑی جماعت مسجد سے وابستہ رہے گی نماز پڑھے گی تو ان بزدلوں میں اتنی جرأت نہیں ہوگی وہ مسجد کی طرف نظر اٹھاکر بھی دیکھے -

اللہ تعالیٰ ہم سب کو مسجد آباد کرنے والا بناۓ اور اسکی حفاظت کا ذریعہ بنائے 
آمین ثم آمین