🌼

 *نجومی گدھا* 

نصیر الدین طوسی جو عام طور پر “محقق طوسی” کے نام سے مشہور ہیں اور منطق و فلسفہ میں مسلم الثبوت علامہ شمار کئے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ یہ کسی عالمِ ربانی کی زیارت کے لئے گئے۔ حاضرینِ مجلس نے ان کا بڑا احترام کیا اور لوگوں نے عالمِ ربانی سے ان کا تعارف اس طرح کرایا کہ یہ اس وقت سب سے زیادہ باکمال اور صاحبِ علم ہیں۔

عالمِ ربانی نے دریافت فرمایا کہ سب سے زیادہ ان کو کسی علم میں کمال حاصل ہے؟

لوگوں نے کہا: “علمِ نجوم میں۔”

یہ سنتے ہی عالمِ ربانی کو بڑی کوفت ہوئی اور انہوں نے ارشاد فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ سفید گدھا ان سے زیادہ علمِ نجوم کا ماہر ہوتا ہے۔

عالمِ ربانی کی اس گفتگو سے انتہائی برہم ہو کر نصیر الدین طوسی اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے گھر کو روانہ ہو گئے۔ اتفاق سے اس سفر میں ایک گدھے والے کے مکان پر رات بسر کرنی پڑی۔ نصیر الدین طوسی نے مکان کے باہر صحن میں اپنا بستر جمایا تو ایک دم گدھے والا کہنے لگا کہ آپ مکان کے اندر بستر لگائیں کیونکہ عنقریب بڑی خوفناک بارش ہونے والی ہے۔

نصیر الدین طوسی نے پوچھا کہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ بارش ہونے والی ہے؟

گدھے والے نے یہ جواب دیا کہ صاحب! میرا یہ سفید گدھا جس رات تین مرتبہ اپنی دم آسمان کی طرف اٹھا دیتا ہے تو رات بھر بارش نہیں ہوتی اور جب یہ اپنی دم زمین کی طرف جھکا کر ہلاتا ہے تو میرا برسوں کا تجربہ ہے کہ اس رات ضرور زور دار بارش ہوتی ہے۔

چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد ہی شدید بارش شروع ہو گئی اور سیلاب آ گیا۔ اب نصیر الدین طوسی کو خیال آیا کہ واقعی عالمِ ربانی نے ٹھیک ہی فرمایا تھا کہ سفید گدھا نصیر الدین طوسی سے زیادہ علمِ نجوم جانتا ہے۔
(روح البیان، ج 1، ص 197)

نتیجہ:
علماءِ ربانیین کی زبانوں سے نکلے ہوئے کلمات بے معنی نہیں ہوا کرتے۔ وہ جو کچھ فرماتے ہیں اپنے نورِ بصیرت کی روشنی میں دیکھ کر اپنے مشاہدات بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا ان بزرگوں کی پُرنور مجالس میں حاضر ہو کر ان کے کلماتِ طیبات کو بہت غور سے سننا چاہیے۔

اگر کوئی بات اپنی فہم سے بالاتر نظر آئے تو اس کے رد و انکار میں نہ جلدی کرنی چاہیے اور نہ کبیدہ خاطر ہونا چاہیے بلکہ پورے سکون کے ساتھ انتہائی غور و فکر کرنا چاہیے اور ہمیشہ اس بات پر دھیان رکھنا چاہیے کہ:

جہاں میں بندۂ کر کے مشاہدات ہیں کیا
تری نگاہ علامت ہو تو کیا کہتے

چند کتابوں کے پڑھ لینے سے ہر شخص عالمِ ربانی نہیں ہو جاتا۔ علم اور چیز ہے اور علم کے نور سے شرحِ صدر ہو کر صاحبِ فراست اور اہلِ بصیرت ہو جانا اور چیز ہے۔ یہ ایک فضلِ خداوندی ہے۔

مولیٰ تعالیٰ جس پر اپنا فضل فرماتا ہے وہی اس رتبہ کی بلندی پر پہنچتا ہے اور عالمِ ربانی کے جلیل القدر لقب سے سرفراز ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اقبال نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا ہے:

خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
🌸🌹♥️🌼🤲