گھر کے جھگڑے اور بچوں کے خاموش زخم
گھر کے جھگڑے صرف دو بڑوں کے درمیان بات نہیں رہتے،
ان کی آواز سب سے پہلے بچوں کے دل تک پہنچتی ہے۔
وہ بچے جو ہنستے ہوئے سوتے تھے،
آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتے ہیں۔
وہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں،
اور اپنے ڈر کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔
بچوں کو الفاظ سمجھ میں نہ بھی آئیں،
مگر غصہ، نفرت اور تلخی وہ پوری طرح محسوس کرتے ہیں۔
ہر اونچی آواز ان کے دل میں خوف بٹھا دیتی ہے،
اور ہر روز کا جھگڑا ان کے اندر عدمِ تحفظ پیدا کر دیتا ہے۔
آج جو بچہ خاموش ہے،
کل وہ یا تو حد سے زیادہ ضدی ہو جائے گا
یا خود کو بالکل بے قیمت سمجھنے لگے گا۔
یاد رکھیں!
بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم کہتے ہیں،
بچے وہ سیکھتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔
اگر گھر میں صبر ہوگا تو وہ صبر سیکھیں گے،
اگر احترام ہوگا تو وہ احترام سیکھیں گے،
اور اگر جھگڑا ہوگا تو
وہی جھگڑا ان کی شخصیت بن جائے گا۔
اپنے اختلافات بچوں کے سامنے نہ لائیں۔
ان کے لیے گھر کو
جنگ کا میدان نہیں،
سکون کی جگہ بنائیں۔
کبھی ایک لمحہ ٹھہر کر سوچیں:
آپ کی ایک خاموشی
آپ کے بچے کی پوری زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
کیونکہ بچے صرف ہماری باتوں کے نہیں،
ہمارے رویّوں کے بھی وارث ہوتے ہیں۔
عائشہ ❤