صدقۂ فطر: عبادت کی تکمیل اور سماجی مساوات کا پیغام

✍️ جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدر الاسلام، بیگوسرائے، بہار

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اہلِ ایمان عبادت و بندگی کی ایک دل آویز فضا میں زندگی گزارتے ہیں۔ دن کے روزے، رات کی تراویح، تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا اور صدقہ و خیرات کے ذریعے بندہ اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنی روح کو پاکیزگی اور دل کو تقویٰ کی روشنی سے منور کرنے کی سعی کرتا ہے۔
اسی روحانی تربیت کا ایک اہم اور بابرکت حصہ صدقۂ فطر ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام پر ادا کیا جاتا ہے۔ صدقۂ فطر دراصل عبادت بھی ہے اور سماجی ہمدردی کا ایک حسین مظہر بھی۔ یہ ایک طرف روزہ دار کے روزے کی تکمیل اور اس کی کوتاہیوں کی تلافی کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف معاشرے کے غریب اور محتاج افراد کے لیے عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کا سامان بھی فراہم کرتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:
“رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کو لازم قرار دیا، ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو ہر غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان کی طرف سے، اور حکم دیا کہ اسے نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔” (متفق علیہ)
اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“ہم صدقۂ فطر میں ایک صاع کھانا یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کشمش نکالا کرتے تھے۔” (متفق علیہ)
ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ صدقۂ فطر ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر لازم ہے اور اس کی ادائیگی کا بہترین وقت نمازِ عید سے پہلے ہے تاکہ عید کے دن محتاجوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صدقۂ فطر کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کو اس لیے فرض فرمایا کہ یہ روزہ دار کے لیے لغویات اور بے ہودہ باتوں سے پاکی کا ذریعہ ہے اور مسکینوں کے لیے خوراک کا انتظام ہے۔ جس نے اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کیا تو یہ مقبول صدقہ ہے اور جس نے بعد میں ادا کیا تو وہ عام صدقات میں شمار ہوگا۔” (ابو داؤد، ابن ماجہ)
اسی مضمون کو ایک روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
“رمضان کے روزے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں اور صدقۂ فطر کے بغیر اوپر نہیں اٹھائے جاتے۔” (الترغیب والترہیب)
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عید کے موقع پر صدقۂ فطر کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ عید کی خوشیاں صرف مالداروں تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کا ہر فرد اس مسرت میں شریک ہو سکے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اغنوهم في هذا اليوم”
یعنی عید کے دن غریبوں کو اس قدر دے دو کہ وہ کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کے محتاج نہ رہیں۔
(دارقطنی)
اگر ایک گھر میں خوشیوں کا چراغ روشن ہو اور دوسرے گھر میں فاقہ ہو تو معاشرے میں حقیقی خوشی کا ماحول پیدا نہیں ہو سکتا۔ صدقۂ فطر دراصل اسی خلا کو پر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
احادیثِ نبویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقۂ فطر کی مقدار بنیادی طور پر ایک صاع ہے۔ موجودہ وزن کے اعتبار سے ایک صاع تقریباً تین کلو دو سو چھیاسٹھ گرام کے برابر ہوتا ہے، جب کہ نصف صاع تقریباً ایک کلو چھ سو تینتیس گرام بنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں صدقۂ فطر کھجور، کشمش، پنیر اور جَو جیسی غذائی اجناس سے ادا کیا جاتا تھا۔ بعد کے ادوار میں جب گیہوں کا استعمال عام ہوا تو اس سے بھی صدقۂ فطر ادا کرنے کا ذکر روایات میں ملتا ہے۔ فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان اجناس میں سے کسی سے بھی صدقۂ فطر ادا کیا جا سکتا ہے۔
البتہ گیہوں کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ جمہور علماء ایک صاع کے قائل ہیں، جب کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک گیہوں سے نصف صاع صدقۂ فطر ادا کیا جا سکتا ہے اور فقہ حنفی میں فتویٰ اسی قول پر ہے۔
احادیث کے مجموعے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ صدقۂ فطر میں اصل چیز فقراء کی نفع رسانی ہے۔ یعنی جو چیز محتاجوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو، اس کو اختیار کرنا بہتر ہے۔ اسی بنیاد پر موجودہ دور میں صدقۂ فطر اناج کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے اور اس کی قیمت کی صورت میں بھی۔
آج کے دور میں مہنگائی اور معاشی تفاوت کے پیش نظر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ صدقۂ فطر کی ادائیگی میں وسعت رکھی جائے تاکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس عبادت میں حصہ لے سکے۔ اس اعتبار سے معاشرے کے افراد کو تین درجوں میں دیکھا جا سکتا ہے:
اوّل: وہ افراد جنہیں اللہ تعالیٰ نے فراخ رزق عطا فرمایا ہے، وہ کشمش یا منقی کی قیمت کے مطابق صدقۂ فطر ادا کریں تاکہ محتاجوں کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔
دوم: درمیانی حیثیت رکھنے والے افراد کھجور یا پنیر کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کریں۔
سوم: عام افراد جَو یا گیہوں کے حساب سے صدقۂ فطر ادا کریں۔ احتیاط کے طور پر جَو کے ایک صاع کی قیمت کو ترجیح دی جا سکتی ہے، البتہ جواز کی حد تک نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت ادا کرنا بھی درست ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر صدقۂ فطر کو صرف نصف صاع گیہوں یا اس کی معمولی قیمت تک محدود کر دیا گیا ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ سے متعدد اجناس کا ذکر ثابت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے سامنے تمام ممکنہ صورتیں واضح کی جائیں تاکہ وہ اپنی وسعت اور رغبت کے مطابق بہتر سے بہتر صدقہ ادا کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ صدقۂ فطر رمضان المبارک کی عبادات کا حسین اختتام اور عید کی خوشیوں کا خوبصورت آغاز ہے۔ یہ عبادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ ہمدردی، مواسات اور اجتماعی خوشی کا بھی پیغامبر ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صدقۂ فطر کو محض ایک رسمی ادائیگی نہ سمجھیں بلکہ اس کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے دل کھول کر ادا کریں، تاکہ کوئی محتاج عید کے دن محرومی کا احساس نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں سے مالامال فرمائے، ہمارے روزوں، عبادتوں اور صدقات کو قبول فرمائے اور صدقۂ فطر کو ہمارے لیے ذریعۂ مغفرت و نجات بنائے۔ آمین۔