بہار الیکشن میں مسلم ووٹنگ بینک کی سیاست۔ مفادپرستی یا مجبوری ۔


از قلم ✍🏻 محمد عادل ارریاوی 

---------------------------------------------------


قارئین کرام بہار کی سیاست میں مسلم ووٹنگ ہمیشہ سے فیصلہ کن رہا ہے مگر ہر انتخاب کے بعد یہی ووٹ بے نام وعدوں کے سائے میں کھو جاتا ہے سیاست دان اسے ووٹ بینک کہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ووٹ خوف امید اور بقا کا ترجمان ہے

سوال یہ نہیں کہ مسلمان کس کو ووٹ دیتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ وہ اب تک اپنی آواز کو مفادپرستی کی سیاست سے آزاد کیوں نہیں کر پائے؟ وقت آگیا ہے کہ مسلم ووٹ مفادپرستی کی سیاست سے نکل کر شعور اور خودداری کی سیاست کا نشان بنے۔

بہار وہ سرزمین ہے جہاں گنگا کے کنارے علمی تہذیب اور سیاست کی لہریں ایک ساتھ بہتی ہیں مگر اس دھرتی کی سیاست میں ایک طبقہ ہمیشہ بحث کا مرکز رہا ہے جب بھی انتخابی موسم آتا ہے سیاسی جماعتوں کی زبان پر ایک ہی جملہ گردش کرنے لگتا ہے مسلم ووٹ بینک لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسلمانوں کا ووٹ صرف ایک بینک ہے؟ یا یہ ان کی مجبوریوں امیدوں اور خوفوں کا آئینہ دار ہے؟

مسلمانوں کے لیے ووٹ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ اپنی شناخت اور سلامتی کی گواہی ہے وہ ووٹ دیتا ہے تاکہ اس کا بچہ تعلیم پا سکے اس کا کاروبار محفوظ رہے اس کی مسجد مدرسہ اور دینی تعلیم گاہوں پر کسی کی نظرِ بد نہ پڑے اور وہ خود اس ملک کے شہری کی حیثیت سے سکون کا سانس لے سکے نہ کہ ایک سوالیہ نشان بن کر مگر افسوس ہر انتخاب کے بعد یہی خواب بکھر جاتا ہے سیاست دانوں کے وعدے تقریریں اور نعروں کا شور جیسے ہی ختم ہوتا ہے مسلم محلے ایک بار پھر بے یقینی اور محرومی کی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔

بہار کی سیاست میں مسلمانوں کا ووٹ ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر پارٹی انتخاب سے قبل ان کے جذبات کو گرم کرنے کی کوشش کرتی ہے کوئی خوف دکھاتا ہے کوئی دھمکی دیتا ہے کوئی امید دلاتا ہے کوئی سیکولرزم کا نعرہ لگاتا ہے۔

مگر انجام کیا ہوتا ہے؟ جب اقتدار مل جاتا ہے تو وہی ووٹ بینک خاموش تماشائی بن کر رہ جاتا ہے ترقی کے منصوبے کہیں اور پہنچتے ہیں اور اقلیتوں کے نام پر صرف بیانات کی سیاست باقی رہ جاتی ہے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ مسلمان ایک ووٹ بینک ہے مگر سچ یہ ہے کہ وہ مجبور ہیں انہیں ہر انتخاب میں یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کس کے ساتھ کم نقصان ممکن ہے نہ کہ زیادہ فائدہ یہ کوئی طاقت کی سیاست نہیں بلکہ بقا کی سیاست ہے مگر اب ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے سیاسی شعور کی لہر نوجوان نسل یہ سمجھنے لگی ہے کہ ووٹ کسی کے خوف یا لالچ میں نہیں بلکہ اپنی ترقی تعلیم اور خود داری کے لیے دیا جانا چاہیے وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے ووٹ کو مفاد پرستی کے جال سے نکال کر خود اپنے مستقبل کے نقشے میں رنگ بھریں اب یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ووٹ دینا صرف کسی پارٹی کو جتوانا نہیں بلکہ اپنے کل کو محفوظ کرنا ہے اگر ووٹ صرف مجبوری بن کر رہے گا تو سیاست دان ہمیشہ اسے مفاد کے لیے استعمال کرتے رہیں گے مگر جب ووٹ شعور بن جائے گا تو یہی ووٹ تقدیر بدل دے گا بہار کی مٹی میں محبت بھائی چارہ اور جمہوریت کی خوشبو رچی بسی ہے اگر مسلمان اس خوشبو کو سنبھال کر اپنے ووٹ کو ضمیر کی طاقت بنا لیں تو نہ وہ کسی کے بینک رہیں گے نہ کسی کے مجبور بلکہ وہ اس ملک کی اصل قوت بن جائیں گے جو محبت عدل اور برابری کی بنیاد پر سیاست کی نئی صبح طلوع کرے گی۔

اے اللہ ربّ العزت ہمارے دلوں میں شعور اتحاد اور سچ کی پہچان پیدا فرما ہمارے ووٹ کو خوف یا مجبوری نہیں عدل امید اور بیداری کی علامت بنا دے

آمین یارب العالمین