ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
. ٹـوٹـا ہـوا قـلــمــدان 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


یہ 1305ء کی بات ہے۔ دمشق کی موچی والی گلی میں دھوپ ڈھل رہی تھی۔ شام کی اذان میں ابھی تھوڑی دیر تھی، اور ابن تیمیہ اپنے حجرے میں زانوئے تلمذ میں بیٹھے تھے۔ سامنے ان کے استاد تھے—شیخ شمس الدین مقدسی۔ وہی شیخ، جن کے سامنے شام کے بڑے بڑے علما سر جھکاتے تھے۔ وہی شیخ، جن کی ایک نظر طالب علم کی تقدیر بدل دیتی تھی۔

مگر آج شیخ کے چہرے پر وہ ٹھہراؤ نہیں تھا۔

ان کے ہاتھ میں ابن تیمیہ کا قلمدان تھا—ایک سادہ سی لکڑی کا ڈبا، جس پر استادِ محترم کی نظر پڑتے ہی چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ شیخ نے قلمدان کو الٹایا، پلٹایا، پھر اچانک اسے دیوار دے مارا۔

ٹک!

لکڑی کے دو ٹکڑے ہوگئے۔

ابن تیمیہ خاموش تھے۔ ان کی آنکھوں میں کوئی سوال نہیں تھا، کوئی حیرانی نہیں تھی۔ بس ایک اداسی تھی، اور اس اداسی کے پیچھے ایک سمجھ تھی۔

"اٹھو،" شیخ مقدسی نے کہا۔ آواز بھاری تھی، مگر کپکپاتی ہوئی۔ "اٹھو اور مجھے معاف کردو۔"

ابن تیمیہ نہ اٹھے۔ نہ انہوں نے کوئی جواب دیا۔ بس سر جھکائے بیٹھے رہے۔

شیخ نے آہ بھری۔ "تم نہیں جانتے یہ قلمدان کیا ہے۔ میں جانتا ہوں۔ یہ وہی قلمدان ہے جو میں نے بیس برس پہلے بغداد کے ایک درویش سے خریدا تھا۔ اس درویش نے کہا تھا—یہ قلمدان کسی ایسے طالب علم کو دینا جو علم کا وارث بنے۔"

ابن تیمیہ کی آنکھیں اٹھیں۔

"میں نے تمہیں چنا تھا،" شیخ کی آواز میں درد تھا۔ "تمہارے سوال، تمہاری پیاس، تمہاری وہ راتیں جب تم کتابوں کے ڈھیر میں کھوئے رہتے تھے—میں نے سوچا یہی وہ ہے۔ مگر آج مجھے پتہ چلا کہ قلمدان کے اندر کیا ہے۔"

ابن تیمیہ کے چہرے پر ہلکی سی لکیر سی ابھری—وہ لکیر جو مسکراہٹ بھی ہوسکتی تھی اور آنسو بھی۔

"استادِ محترم،" انہوں نے آہستہ سے کہا، "آپ نے وہ دیکھ لیا جو میں نے چھپایا تھا۔"

شیخ نے قلمدان کے ٹکڑے اٹھائے۔ اندر سے کاغذ کا ایک پرزہ نکلا—پھٹا ہوا، مگر حروف صاف تھے۔

"یہ کیا ہے؟" شیخ کی آواز کانپ رہی تھی۔

ابن تیمیہ خاموش رہے۔

"یہ فتویٰ ہے،" شیخ نے خود ہی جواب دیا۔ "تم نے وہ فتویٰ لکھا ہے جو میں نے لکھنے سے انکار کیا تھا۔ وہ فتویٰ جو بغداد کے حکمران کے خلاف ہے۔ وہ فتویٰ جس پر موت لکھی ہے۔"

ابن تیمیہ نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ "استادِ محترم، اگر حق کی بات کرنا موت ہے تو پھر زندگی کیا ہے؟"

شیخ نے قلمدان کے ٹکڑے زمین پر رکھ دیئے۔ "تم سمجھتے نہیں۔ یہ حکمران تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ تمہارا خون بہائے گا۔ تمہارے علم کو مٹا دے گا۔"

"مٹا دے گا؟" ابن تیمیہ کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔ "کیا حق مٹایا جاسکتا ہے؟ کیا سچ کو قتل کیا جاسکتا ہے؟ استادِ محترم، آپ نے خود مجھے پڑھایا ہے—"الحق یعلو ولا یعلی علیہ"۔ حق بلند ہوتا ہے، کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔"

شیخ نے منہ پھیر لیا۔ دیوار کی طرف دیکھنے لگے۔ مگر دیوار بھی کچھ نہیں تھی—بس پتھر اور گارا، جیسے ان کا دل پتھر اور گارا ہوگیا تھا۔

"تم نہیں جانتے،" شیخ کی آواز بمشکل نکلی۔ "تم نہیں جانتے کہ میں نے کیوں یہ فتویٰ نہیں لکھا۔"

"کیوں؟"

شیخ نے گردن گھمائی۔ آنکھیں نم تھیں۔ "کیونکہ میرے بیٹے کو اس حکمران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اگر میں نے فتویٰ لکھا تو وہ پھانسی پر لٹک جائے گا۔"

خاموشی۔

دمشق کی شام خاموش تھی۔ موچی والی گلی میں کسی کے قدموں کی چاپ تھی، مگر وہ بھی دھیرے دھیرے دور ہوتی گئی۔

ابن تیمیہ نے آہستہ سے قلمدان کے ٹکڑے اٹھائے۔ انہیں جوڑنے کی کوشش کی، مگر لکڑی ٹوٹ چکی تھی—نہ جوڑی جاسکتی تھی، نہ ویسے کی ویسی رہ سکتی تھی۔

"استادِ محترم،" ان کی آواز میں وہ ٹھہراؤ تھا جو پہاڑوں میں ہوتا ہے۔ "آپ نے مجھے قلمدان دیا تھا۔ میں نے اس میں فتویٰ رکھا تھا۔ آپ نے قلمدان توڑ دیا—مگر فتویٰ توڑا؟"

شیخ کی آنکھوں سے آنسو گرے۔ "میں ایک باپ ہوں، ابن تیمیہ۔ تم سمجھ سکتے ہو؟"

"میں سمجھتا ہوں،" ابن تیمیہ نے کہا۔ "اور اسی لئے میں یہ فتویٰ خود لے کر جاؤں گا بغداد۔"

شیخ چونکے۔ "کیا؟"

"آپ کا بیٹا بچ جائے گا،" ابن تیمیہ نے کہا۔ "میں خود جا کر فتویٰ پڑھوں گا حکمران کے سامنے۔ میرا سر جائے گا، مگر حق نہیں جائے گا۔"

شیخ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "تم پاگل ہوگئے ہو۔ میں نے تمہارا قلمدان توڑا، تم میرے بیٹے کے لئے جان دے دوگے؟"

ابن تیمیہ مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ جس میں سارے جہنم بھی سما سکتے ہیں، اور سارے جنت بھی۔

"استادِ محترم، آپ نے مجھے علم دیا۔ آپ نے مجھے سوچنا سکھایا۔ آپ نے مجھے بتایا کہ قلم تلوار سے بڑھ کر ہے۔ آج وہی قلم میرے ہاتھ میں ہے، اور وہی فتویٰ میرے سینے میں۔ اگر یہ قلمدان نہ ہوتا تو میں کبھی نہ جانتا کہ استاد کا بیٹا اس فتویٰ کا قیمت ہے۔"

شیخ نے انہیں سینے سے لگا لیا۔ دونوں کے آنسو مل گئے۔ ایک باپ کے آنسو، اور ایک شاگرد کے آنسو—دونوں کی اپنی اپنی توجیہ تھی، مگر ایک ہی درد تھا۔

رات بھر ابن تیمیہ جاگتے رہے۔ فجر کی اذان سے پہلے وہ دمشق سے نکل کھڑے ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں قلمدان کے ٹکڑے تھے—جو استاد نے توڑے تھے، مگر وہ انہیں سینے سے لگائے ہوئے تھے۔

بغداد کا سفر طویل تھا۔ راستے میں وہ سوچتے رہے—استاد نے کیوں توڑا قلمدان؟ ڈر سے؟ محبت سے؟ یا اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ قلمدان کا ٹوٹنا ضروری تھا؟

بغداد پہنچ کر ابن تیمیہ نے حکمران کے محل کا رخ کیا۔ دروازے پر پہرہ داروں نے روکا۔

"کون ہو تم؟"

"ابن تیمیہ۔ دمشق سے آیا ہوں۔ حکمران سے ملنا ہے۔"

پہرہ دار ہنسے۔ "تم جیسے فقیروں سے حکمران نہیں ملتا۔"

ابن تیمیہ نے قلمدان کے ٹکڑے نکالے۔ "یہ لے کر جاؤ حکمران کے پاس۔ کہہ دو کہ وہ شخص آیا ہے جس کا قلمدان ٹوٹ گیا ہے۔"

پہرہ دار حیران ہوئے، مگر پھر بھی قلمدان کے ٹکڑے لے کر اندر گئے۔

کچھ دیر بعد وہ واپس آئے—چہرے پر خوف تھا۔ "اندر آؤ۔"

حکمران تخت پر بیٹھا تھا۔ سامنے قلمدان کے ٹکڑے رکھے تھے۔ ابن تیمیہ نے اندر قدم رکھا تو حکمران نے کہا:

"یہ قلمدان جانتا ہوں۔ شمس الدین مقدسی کا ہے۔ تم کون ہو؟"

ابن تیمیہ نے سیدھا جواب دیا: "وہ شخص جس نے فتویٰ لکھا ہے آپ کے خلاف۔"

حکمران کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ پہرہ داروں نے تلوار اٹھا لی۔ مگر ابن تیمیہ ڈٹے رہے۔

"فتویٰ پڑھو،" حکمران نے کہا۔

ابن تیمیہ نے فتویٰ نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔ ہر لفظ محل کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا۔ ہر جملہ حکمران کے دل میں نیزے کی طرح اتر رہا تھا۔

پڑھ کر فارغ ہوئے تو حکمران خاموش تھا۔ پھر اس نے کہا:

"تم جانتے ہو، اس فتویٰ کی سزا موت ہے؟"

"جانتا ہوں۔"

"پھر بھی تم پڑھنے آئے؟"

ابن تیمیہ نے قلمدان کے ٹکڑے اٹھائے۔ "میرے استاد نے یہ قلمدان مجھے دیا تھا۔ آج وہ ٹوٹ گیا۔ مگر اس ٹوٹنے نے مجھے سکھایا کہ قلمدان ٹوٹ سکتا ہے، قلم نہیں ٹوٹتا۔ فتویٰ جل سکتا ہے، حق نہیں جلتا۔"

حکمران نے گہری سانس لی۔ پھر اپنے وزیر کی طرف دیکھا۔ وزیر نے سر جھکا لیا۔

"تمہارے استاد کا بیٹا،" حکمران نے آہستہ سے کہا، "آزاد ہے۔"

ابن تیمیہ کی آنکھوں میں چمک سی آگئی۔

"اور تمہاری موت؟" حکمران نے پوچھا۔

ابن تیمیہ مسکرائے۔ "اگر میں مر گیا تو یہ فتویٰ میرے ساتھ نہیں مرے گا۔ ہزار اور قلم اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہزار اور ابن تیمیہ آجائیں گے۔ حکمران بدل سکتے ہیں، حق نہیں بدلتا۔"

حکمران نے سر جھکا لیا۔ پھر اس نے اپنی تلوار اٹھائی—اور ابن تیمیہ کے سامنے رکھ دی۔

"تم جیت گئے، ابن تیمیہ۔ تمہارا قلم میری تلوار سے بھاری ہے۔"

ابن تیمیہ نے تلوار کو نہیں چھوا۔ انہوں نے قلمدان کے ٹکڑے اٹھائے، اور محل سے باہر نکل گئے۔

دمشق واپس آئے تو شیخ مقدسی دروازے پر کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا—آزاد۔

شیخ نے ابن تیمیہ کو دیکھا تو دوڑ کر گلے لگا لیا۔

"تم نے میرا بیٹا بچا لیا۔"

ابن تیمیہ نے قلمدان کے ٹکڑے ان کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔

"استادِ محترم، آپ نے یہ قلمدان مجھے دیا تھا۔ آپ نے توڑا بھی۔ مگر میں نے جان لیا کہ کبھی کبھار قلمدان ٹوٹنا ضروری ہوتا ہے—تاکہ قلم کی راہ کھل جائے۔"

شیخ نے قلمدان کے ٹکڑوں کو دیکھا۔ پھر ابن تیمیہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک ہی سچ تھا—استاد اور شاگرد کا سچ، جو قلمدان کے ٹوٹنے سے ٹوٹا نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لئے جڑ گیا۔

✦ ✦

آج بھی دمشق کی موچی والی گلی میں وہ حجرہ موجود ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب رات گہری ہوتی ہے، تو اس حجرے سے قلم کی سرسراہٹ آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ قلم آج بھی لکھ رہا ہے—وہ قلم جس کا قلمدان تو ٹوٹ گیا، مگر قلم نہیں ٹوٹا۔

کیونکہ قلمدان تو استاد توڑ سکتا ہے، مگر قلم صرف حق چلاتا ہے۔

اور حق کبھی نہیں ٹوٹتا۔

✧ ✧ ✧