*یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے!*

ہمارے ایک اسسٹنٹ نے ایک مرتبہ بہاولپور سے لاہور رات کے وقت بس پر سفر کیا. یہ وہ زمانہ تھا جب موٹر وے نہیں بنی تھی اور عام بسیں جگہ جگہ رکتی ہوئی سفر طے کرتی تھیں. اس نے ہمت کر کے ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ لے لی تاکہ سفر نسبتاً محفوظ اور آرام دہ رہے.

جب بس بہاولپور سے روانہ ہو کر لودھراں کے قریب پہنچی تو سڑک کنارے کھڑے ایک شخص نے اشارہ کیا، اسکے ساتھ ایک گدھا بھی تھا. اس نے کنڈکٹر سے کہا کہ اسے لاہور جانا ہے اور گدھا بھی ساتھ لے جانا ہے. کنڈکٹر نے بلا تامل اجازت دے دی. گدھے کی ٹانگیں باندھی گئیں، اسے اٹھا کر بس کی چھت پر چڑھایا گیا اور مضبوطی سے رسیوں سے باندھ دیا گیا. مالک بس کے اندر آ کر پچھلی نشستوں پر جا کر سو گیا.

رات کے تقریباً تین بجے چیچا وطنی کے قریب بس رکی، کچھ مسافر بس سے اترے، انکا سامان چھت سے نیچے اتارا گیا. اسی دوران کلینر کو معلوم ہوا کہ جو گدھا چھت پر باندھا تھا، وہ غائب ہے. غالباً سفر کے دوران کہیں گر گیا تھا. اس نے گھبرا کر ڈرائیور کو اطلاع دی. ڈرائیور نے اطمینان سے پوچھا کہ کیا مالک کو معلوم ہے؟ جواب ملا کہ وہ تو پچھلی نشست پر سکون سے سو رہا ہے. ڈرائیور نے کہا فکر کی بات نہیں، اس کا بھی حل نکال لیتے ہیں.

چند میل آگے سڑک کنارے ایک اور گدھا کھڑا نظر آیا. ڈرائیور نے فوراً کلینر کو اشارہ کیا کہ اسے پکڑ کر چھت پر باندھ دو. چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور نیا گدھا بس کی چھت پر باندھ دیا گیا. ہمارا اسسٹنٹ چونکہ ڈرائیور کے پیچھے بیٹھا تھا، اس نے یہ ساری گفتگو سنی اور ہورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا.

صبح پانچ، ساڑھے پانچ بجے جب بس لاہور پہنچی تو روشنی پھیل چکی تھی. اسسٹنٹ تجسس کے مارے نیچے اترا کہ دیکھے مالک اپنے گدھے کو پہچانتا ہے یا نہیں. اس نے دیکھا کہ مالک گدھے کے سامنے کھڑا حیرت سے اسے دیکھ رہا ہے. اسسٹنٹ نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے جواب دیا: میں گدھے کو دیکھ کر حیران نہیں ہو رہا، میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ لودھراں سے میں نے جو کھوتا بس کی چھت پر چڑھایا تھا، لاہور پہنچ کر وہ کھوتی کیسے بن گئی؟

یہ واقعہ جب میں نے اپنے چند بیرونِ ملک دوستوں کو سنایا تو وہ بے اختیار ہنس پڑے اور کہا کہ اس ملک میں کچھ بھی ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے چاہے وہ الیکشن ہوں یا سیاست، رات رات میں سب بدل جاتا ہے.

 اس واقعے میں چند پہلو بڑے دلچسپ اور قابل غور ہیں:

 1- نچلے درجے کی انتظامی ذہنیت.
مسئلہ حل کرنے کے بجائے معاملے کو ہی بدل دینا. یعنی حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے “متبادل حقیقت” پیش کر دو.

 2- لاعلمی میں اطمینان.
مالک بے خبر سو رہا ہے، اور عملہ “مسئلہ حل” کر رہا ہے. یہ بھی ہمارے اجتماعی مزاج کی جھلک ہے.

 3- آخری جملہ گہرا طنز.
“میں حیران گدھے پہ نہیں، اس بات پہ ہوں کہ کھوتا، کھوتی کیسے بن گیا.”
یہ جملہ ایک علامت ہے کہ بعض اوقات ہمارے ہاں چیزیں اپنی اصل ہی بدل لیتی ہیں!

میں سمجھتا ہوں کہ اس قصے کا اصل حسن یہی ہے کہ “پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے” کیونکہ سہولت پسندی، وقتی حل، اور سچائی کو نظر انداز کرنا ہماری عادت بن چکی ہے…

وآٹسپیات