*غرور کس بات کا؟*
ہم بڑے لوگوں کی شان و شوکت دیکھ کر رشک کرتے ہیں،
لیکن ان کی بیماریوں اور تکلیفوں کو نہیں دیکھتے۔
کسی کے دسترخوان پر درجنوں کھانے سجے ہوتے ہیں،
مگر وہ صرف چند لقموں کا محتاج ہوتا ھے۔
کوئی اربوں کا مالک ھے،
مگر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے چار لوگوں کا سہارا چاہتا ھے۔
کوئی جہازوں میں سفر کرتا ھے،
مگر ڈاکٹر اور مشینیں ہر وقت ساتھ ہوتی ہیں۔
*اور ہم…؟*
ہم اپنے پاؤں پر چل سکتے ہیں،
اپنے ہاتھ سے کھا سکتے ہیں،
اور اللہ کے حکم سے ہمارا کھایا ہوا جسم سے نکل بھی جاتا ھے
یہ کتنی بڑی نعمت ہے، ہم سوچتے بھی نہیں۔
انسان ایک نس کھچ جانے سے بے بس ہو جاتا ھے،
چمچ تک نہیں اٹھا پاتا۔
یہی ہماری اصل حقیقت ھے۔
*پھر غرور کیسا؟*
*فخر کس بات کا؟*
حضرت بابا بُلھے شاہؒ نے کیا خوب فرمایا:
"پھلاں دا تو عطر بنا…
فیر وی تیری بو نئیں مکنی
پہلے اپنی ‘میں’ مکا"
یعنی جتنا مرضی ظاہر سنوار لو،
جب تک اندر کی “میں”ختم نہیں ہوتی،
*تکبر کی بو نہیں جاتی۔*
آئیے شکر ادا کریں،
توبہ کرتے رہیں،
اور عاجزی اختیار کریں۔