روزہ رکھا ہے… یا بس بھوکے ہیں؟
یہ سوال محض معدے کی خالی کیفیت کا استفسار نہیں، بلکہ ضمیر کی عدالت میں پیش ہونے والی ایک بازپُرس ہے۔ روزہ اگر فقط امساکِ طعام و شراب کا نام ہوتا تو بھوک ہر مفلس کی عبادت ٹھہرتی، اور پیاس ہر مسافر کا تقویٰ شمار ہوتی۔ مگر حقیقت اس سطحی تعبیر سے کہیں بالاتر ہے۔
روزہ، نفسِ امّارہ کی سرکشی کے خلاف اعلانِ جہاد ہے؛ خواہشات کے طوفان میں ضبط کی لنگراندازی ہے؛ اور باطن کی ویران دہلیز پر نورِ اطاعت کی شمع فروزاں کرنے کا عزم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس نور کو اپنے اندر اتارا ہے، یا صرف معدے کی خالی گواہی پر مطمئن بیٹھے ہیں؟
بعثتِ مصطفوی ﷺ کے فیضان سے ہمیں جو عبادات عطا ہوئیں، ان میں روزہ ایک باطنی تربیت گاہ ہے۔ قرآن مجید کی صدا ہے کہ روزہ اس لیے مشروع ہوا تاکہ تقویٰ کی روح بیدار ہو۔ مگر جب زبان بدستور غیبت کی آلودگی میں مبتلا ہو، نگاہ بے مہار رہے، اور دل کینہ و حسد کے خارزار میں الجھا ہو، تو پھر یہ امساک کس درجہ کا ہے؟ کیا یہ روزہ ہے یا محض بھوک کی مشق؟
اگر افطار کی دسترخوان رنگین ہو مگر اخلاق پژمردہ، اگر سحری میں اہتمام ہو مگر معاملات میں دیانت مفقود، تو یہ کیسا صیام ہے؟ روزہ تو وہ ہے جو آنکھ کو حیاء کی چادر اوڑھائے، زبان کو صداقت کا پابند کرے، اور دل کو رحمت و شفقت کا سرچشمہ بنائے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم رمضان کو کیلنڈر کی ایک موسمی عبادت سمجھتے ہیں یا روح کی تطہیر کا انقلابی مرحلہ۔ کیا ہمارا روزہ معاشرے میں عدل، نرم خوئی اور ایثار کی رمق پیدا کرتا ہے؟ یا شام کے افطار تک محدود ایک وقتی ریاضت ہے؟
یہ مہینہ محض اوقاتِ امساک کی ترتیب نہیں، بلکہ ارادوں کی اصلاح کا موسم ہے۔ اگر ہماری نگاہیں جھک جائیں، لہجے نرم ہو جائیں، معاملات شفاف ہو جائیں، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے روزہ رکھا ہے۔ وگرنہ، صرف بھوکے رہنے کا اعزاز تو ہر وہ شخص بھی پا لیتا ہے جس کے پاس دسترخوان میسر نہ ہو۔
پس خود سے پوچھئے —
کیا ہم نے روزہ رکھا ہے… یا بس بھوکے ہیں؟
فیصلہ معدہ نہیں کرے گا، کردار کرے گا۔