بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🦋
🌜 دل کی عدالت میں رمضان 💖
##اس عنوان کا مقصود یہ ہے کہ رمضان کو ایک داخلی، اخلاقی اور روحانی محکمۂ احتساب کے طور پر دیکھا جائے۔ یہاں کوئی خارجی قاضی نہیں، نہ کوئی مادی کٹہرا؛ بلکہ قلبِ انسانی ہی منصف بھی ہے اور مدّعی بھی۔
“دل کی عدالت” سے مراد وہ باطنی شعور ہے جسے قرآن نے کبھی قلب، کبھی فؤاد اور کبھی لبّ سے تعبیر کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نیتیں جنم لیتی ہیں، ارادے تشکیل پاتے ہیں اور اعمال کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔
اور “رمضان” اس عدالت کا سالانہ اجلاسِ عام ہے—ایک ایسا موسم جس میں:
نفسِ امّارہ طلب کیا جاتا ہے،
خواہشات کو جرح کا سامنا کرنا پڑتا ہے،
اور ایمان اپنی شہادت پیش کرتا ہے۔
قرآن کا اعلان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا … لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (البقرہ: 183)
گویا مقصد تقویٰ ہے، اور تقویٰ دراصل دل کے فیصلے کا نام ہے۔
**رمضان وہ مہینہ ہے جس میں انسان کا باطن خود اپنا محاسب بن جاتا ہے۔ یہ محض امساکِ طعام کا نام نہیں بلکہ نفس کے استغراق اور روح کے ارتقاء کا مرحلہ ہے۔ دل کی عدالت قائم ہوتی ہے، خواہشات مدّعی کے طور پر کھڑی ہوتی ہیں اور ایمان بطورِ شاہد پیش ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید اعلان فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ … لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (البقرہ: 183)
یعنی روزہ اس لیے فرض کیا گیا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ گویا اصل مدعا بھوک نہیں، بلکہ ضبطِ نفس اور حصولِ تقویٰ ہے۔
اسی طرح ارشادِ ربانی ہے:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ (البقرہ: 185)
رمضان کو قرآن سے نسبت دی گئی، تاکہ بندہ اپنے باطن کو وحی کی روشنی میں پرکھے۔ دل کی عدالت میں یہی کتاب میزان بنتی ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ
“جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” (بخاری و مسلم)۔
یہاں “احتساب” کا لفظ اس امر کی دلیل ہے کہ روزہ محض رسم نہیں، بلکہ شعوری محاسبہ ہے۔
پس رمضان میں ہر سحر استغفار کی تمہید ہے اور ہر افطار شکر کی تکمیل۔ اگر دل میں ندامت پیدا ہو، آنکھ میں خشیت کی نمی ہو، اور کردار میں استقامت جلوہ گر ہو تو سمجھ لیجیے کہ عدالت کا فیصلہ ایمان کے حق میں صادر ہو چکا ہے۔
رمضان ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اصل کامیابی خواہشات کی تسکین میں نہیں، بلکہ ان کی تہذیب میں ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے نفس پر غالب آ گیا، وہی حقیقی معنوں میں سرخرو ٹھہرا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس احتسابی موسم سے حقیقی استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
واللہ اعلم باالصواب 💖