زمانہ ہمیشہ سے تغیر کا مسافر رہا ہے مگر آج کی تبدیلی پہلے سے کہیں زیادہ تیزگہری اور ہمہ گیر ہے۔ دنیا ایک گلوبل گاؤں بن چکی ہے فاصلے سمٹ گئے ہیں خبریں پلک جھپکتے میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہیں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو سہل بنا دیا ہےلیکن اس سہولت کے ساتھ ایک عجیب سی بے چینی بھی جنم لے چکی ہے۔ یہی وہ دستک ہے جو وقت ہمارے دروازے پر دے رہا ہے ایک خاموش پیغام کہ ہم رک کر اپنے حال کا جائزہ لیں۔

آج کا انسان معلومات کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے مگر حکمت کی بوند کو ترس رہا ہے۔ ہم نے مشینوں کو تیز کر دیا مگر اپنے رشتوں کی رفتار سست پڑ گئی۔ سوشل میڈیا کے شور میں مکالمہ تو بڑھا ہے مگر دلوں کی بات کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر شخص اپنی رائے کے اظہار میں آزاد ہےلیکن برداشت اور رواداری کا دامن چھوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ معاشرے کی اصل خوبصورتی انسان کے کردار سے ہوتی ہے اور کردار تب پروان چڑھتا ہے جب فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتا اور قبول کرتا ہے۔

مادی ترقی اپنی جگہ اہم ہے مگر اگر اس کے ساتھ اخلاقی اقدار کمزور پڑ جائیں تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف جدید تعلیم دے رہے ہیں یا انہیں اچھا انسان بننے کی تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں؟ کیونکہ آنے والا کل انہی ہاتھوں میں ہو گا۔ اگر ان کے دل میں ہمدردی دیانت اور سچائی کی شمع روشن ہو گی تو معاشرہ خود بخود روشن ہو جائے گا۔

بدلتے ہوئے حالات کا شکوہ کرنا آسان ہے مگر خود کو بدلنا نسبتاً مشکل۔ مگر اصل طاقت اسی میں ہے کہ انسان حالات کا رونا رونے کے بجائے اپنے عمل کو بہتر بنائے اگر ہر فرد اپنے حصے کی روشنی جلائے تو اندھیرا کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر ہر شخص اپنے رویے میں نرمی گفتگو میں شائستگی اور عمل میں اخلاص پیدا کرے تو ماحول خود بخود خوشگوار ہو سکتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وقت کی تیز رفتاری ہمیں پیچھے چھوڑنے نہیں آئی بلکہ آگے بڑھنے کا موقع دے رہی ہے نئی ایجادات نئے نظریات اور نئے امکانات ہمارے سامنے ہیں سوال یہ ہے کہ ہم ان کا استعمال کس نیت اور کس مقصد کے تحت کرتے ہیں اگر نیت مثبت ہو اور مقصد انسانیت کی بھلائی ہو تو ہر تبدیلی خیر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

آخرکار معاشرہ کسی اور سے نہیں بلکہ ہم سے بنتا ہے اور ہم اپنی سوچ اور عمل سے اسے سنوارتے یا بگاڑتے ہیں بدلتے وقت کی دستک کو خطرہ سمجھنے کے بجائے موقع سمجھنا چاہیےموقع اصلاح کا بہتری کا اور نئی تعمیر کا۔ کیونکہ ہر دور اپنی آزمائش کے ساتھ آتا ہے اور ہر آزمائش میں کامیابی انہی کو ملتی ہے جو ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔