آج ہندوستان کے ہزاروں مدارس سے ہر سال تقریباً دس سے بیس ہزار فضلاء اور حفاظ کرام دستارِ فضیلت باندھ کر نکلتے ہیں۔ سفید لباس، سر پر نورانی عمامہ اور ہاتھ میں قرآن و حدیث کی سند— بظاہر یہ ایک روحانی منظر ہے، لیکن اس منظر کے پیچھے ایک ہولناک حقیقت چھپی ہے۔ جب یہ 'وارثینِ انبیاء' مدرسے کی چہار دیواری سے نکل کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، تو ان کے سامنے مستقبل کا کوئی واضح راستہ نہیں ہوتا۔
المیہ: آٹھ سال کی محنت اور زندگی کی کشمکش
ایک طالب علم اپنی زندگی کے آٹھ سے دس قیمتی سال صرف قال اللہ اور قال الرسول کی صداؤں میں گزارتا ہے۔ لیکن جب وہ فارغ ہوتا ہے، تو اسے پتہ چلتا ہے کہ مساجد اور مدارس کی تعداد ان فارغین کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ وہ بچہ جس نے کبھی دین کی سربلندی کا خواب دیکھا تھا، وہ بیوی بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کبھی 'تعویذ گنڈوں' کا سہارا لیتا ہے، کبھی عورتوں سے جنات اتارنے کا ناٹک کرتا ہے، اور کبھی جھوٹی رسیدیں چھپوا کر چندہ مانگتا پھرتا ہے۔ کیا ہم نے ان بچوں کو اسی دن کے لیے تیار کیا تھا؟
دل دہلا دینے والی حقیقت
سچ تو یہ ہے کہ معاشرے کا مالدار طبقہ ان علماء کو اس نظر سے دیکھتا ہے جیسے وہ کوئی 'مانگنے والے' ہوں۔ وہ علماء جو ممبر و محراب سے ہمیں خدا کا راستہ بتاتے ہیں، اپنی ذاتی زندگی میں وہ ڈرے ہوئے، سہمے ہوئے اور 'جی ہاں جی ہاں' کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ ان کا رزق انہی مالداروں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔
اسلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ دین کا کام کرنے والا دنیا سے کٹ کر رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ تاجر تھے، حضرت عمرؓ تجارت کرتے تھے اور امام ابوحنیفہؒ ریشم کے بڑے تاجر تھے۔
1. عصری ہنر (Vocational Skills) کی شمولیت:
مدارس کے منتظمین کو چاہیے کہ ظہر سے عصر تک کا وقت بچوں کو کوئی ہنر سکھانے کے لیے وقف کریں۔ موٹر سائیکل کی مرمت، واشنگ مشین، فریج، ایئر کنڈیشنر کی ریپیئرنگ یا کم از کم درزی کا کام (سلائی کڑھائی) سکھایا جائے۔
2. رزقِ حلال اور وقارِ علم:
جب ایک حافظ یا عالم اپنے ہاتھ سے کما کر کھائے گا، تو وہ ممبر پر بیٹھ کر حق بات کہنے میں کبھی نہیں ہچکچائے گا۔ اسے کسی مالدار کی خوشامد نہیں کرنی پڑے گی۔ وہ فجر سے ظہر تک مفت میں دین پڑھا سکے گا کیونکہ اس کی معیشت کا سہارا اس کا اپنا ہنر ہوگا۔
3. نظامِ تعلیم میں تبدیلی:
بڑے مدارس کو چاہیے کہ وہ صرف عالم نہ بنائیں بلکہ 'خود کفیل عالم' بنائیں۔ اگر ہم نے آج اپنی پالیسی نہ بدلی، تو خدانخواستہ آنے والی نسلیں مدرسے جانے سے کترائیں گی، کیونکہ پیٹ کا سوال ایمان پر بھی بھاری پڑ جاتا ہے۔
آخری بات:
یہ وقت رونے کا نہیں، بلکہ عمل کرنے کا ہے۔ مدارس کی انتظامیہ اگر ظالم نہیں بننا چاہتی، تو اسے بچوں کے مستقبل کا سوچنا ہوگا۔ دین کی خدمت تب ہی وقار کے ساتھ ہو سکتی ہے جب دین سکھانے والا کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے