*تخلیقِ الٰہی میں بے مقصد کچھ بھی نہیں*
کائنات کا ذرہ ذرہ اس عظیم حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ رب العزت نے کسی بھی چیز کو عبث، بے کار یا فضول پیدا نہیں کیا، ایک حقیر نظر آنے والی چیونٹی سے لے کر خلاؤں کی وسعتوں میں تیرتے ہوئے سیاروں تک، ہر تخلیق حکمتِ الٰہی کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کا اپنا ایک خاص مقصد اور توازن ہے، قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر انسان کو جھنجھوڑا ہے کہ *کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے؟* یہ سوال دراصل انسان کو اس کی اپنی عظمت اور تخلیق کے پیچھے چھپے گہرے رازوں کی طرف متوجہ کرتا ہے، جب ہم فطرت کے نظام پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کچرا نامی کوئی چیز موجود نہیں، جسے ہم فضلہ یا بے کار چیز سمجھتے ہیں، وہ بھی کسی دوسری مخلوق کی زندگی کا ضامن ہوتا ہے، مثال کے طور پر درخت وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں جو ہمارے لیے زہر ہے، اور بدلے میں وہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں جو ہماری زندگی کی بنیاد ہے، یہاں تک کہ خزاں میں گرنے والے خشک پتے بھی زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے کھاد بن جاتے ہیں، اسی طرح ایک ننھی شہد کی مکھی نہ صرف شہد بناتی ہے، بلکہ وہ *پولینیشن* کے عمل کے ذریعے دنیا کی خوراک کے نظام کو قائم رکھے ہوئے ہے، اگر یہ ننھی مخلوق ختم ہو جائے، تو انسانی بقا خطرے میں پڑ جائے، یہ تمام مثالیں اس بات کی منطقی دلیل( ہیں کہ اللہ کی صنعت میں کوئی بھی چیز بے کار نہیں، بس دیکھنے والی آنکھ اور اسے صحیح رخ دینے والی سوچ کی ضرورت ہے۔
جب ہم اشرف المخلوقات یعنی انسان کی ساخت پر غور کرتے ہیں، تو عقل دنگ رہ جاتی ہے، انسانی جسم کا ایک ایک عضو، خلیہ اور نظام قدرت کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہماری آنکھیں جو لاکھوں رنگوں میں تمیز کرتی ہیں، ہمارا دل جو بن کہے عمر بھر دھڑکتا ہے، اور ہمارا دماغ جو کائنات کے اسرار کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ سب قیمتی ترین اثاثے ہیں، یہاں تک کہ انسان کی انگلیوں کے پوروں کا ڈیزائن بھی اربوں انسانوں میں ایک دوسرے سے مختلف رکھا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی نظر میں ہر فرد منفرد ہے اور اس جیسا دوسرا کوئی نہیں، اس کے باوجود، معاشرے میں اکثر ایسے لوگ ملتے ہیں جو حالات کی سختی، مالی تنگی یا اپنی کسی جسمانی و ذہنی کمزوری کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو کر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ *ہم کسی قابل نہیں یا دنیا کو ہماری کیا ضرورت ہے؟* ایسے لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا اس دنیا میں موجود ہونا ہی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ کائنات کے اس عظیم نقشے میں آپ کے حصے کا ایک ایسا رنگ ہے جو آپ کے بغیر ادھورا ہے، اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو پیدا کیا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس وہ خاص جوہر موجود ہے جو کسی دوسرے کے پاس نہیں، کوئی بھی انسان ناکارہ نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وہ اپنی اصل جگہ یا صحیح میدانِ عمل سے واقف نہیں ہوتا، اپنی ناقدری کرنا دراصل اس عظیم خالق کی تخلیق پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے جس نے آپ کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔
کائنات کے اس عظیم کارخانے میں کسی بھی شے کے بے مقصد نہ ہونے کو سمجھنے کے لیے اگر ہم ایک عام بڑھئی کی مثال لیں، تو حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے، تصور کیجیے کہ ایک کاریگر لکڑی کا ایک بے شکل ٹکڑا لیتا ہے، اسے آرے سے چیرتا ہے، تیشے سے تراشتا ہے اور پھر بڑی عرق ریزی سے اس پر نقش و نگار بناتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک خوبصورت کرسی کی شکل اختیار کر لیتی ہے، کیا کوئی ذی شعور انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کاریگر کی یہ تمام محنت، لکڑی کو کاٹنا، اسے ہموار کرنا اور اس پر ڈیزائن بنانا فضول تھا؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اس محنت کے نتیجے میں ایک ایسی مخصوص صورت وجود میں آئی ہے جس کا تقاضہ *بیٹھنا اور سکون حاصل کرنا ہے، اب اگر کوئی شخص اس کرسی کو بیٹھنے کے بجائے دیوار پر ٹانگ دے یا صرف نمائش کے لیے سجا دے، تو یہ اس کی مخصوص صورت اور مقصدِ تخلیق کی توہین ہوگی، کیونکہ اس کا ڈیزائن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بیٹھنے کے لیے بنائی گئی ہے نہ کہ محض سجاوٹ کے لیے، بالکل یہی معاملہ انسان کا بھی ہے، جب ایک معمولی کاریگر کی بنائی ہوئی چیز بے مقصد نہیں ہوتی اور اس کی مخصوص ہیئت ایک خاص عمل کا تقاضہ کرتی ہے، تو بھلا اس خالقِ کائنات کی تخلیق کیسے بے مقصد ہو سکتی ہے جس نے انسان کو احسنِ تقویم (بہترین ساخت) پر پیدا کیا؟* جس طرح ایک گھڑی کا چھوٹا سا پیچ بھی پوری گھڑی کو چلانے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے، اسی طرح انسانی معاشرے کے توازن کے لیے ہر فرد، چاہے وہ کتنا ہی عام کیوں نہ لگے، اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔
یہی نظریہ ہمارے بچوں کی تربیت کے لیے بھی بنیاد ہونا چاہیے، ہر بچہ ایک منفرد آئی کیو لیول اور مختلف ذہنی رجحان لے کر پیدا ہوتا ہے، والدین کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کے اس فطری رجحان کو پہچانیں، ہم اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ ذہانت کا معیار صرف سکول کے گریڈز یا ریاضی کے سوالوں کو سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ذہانت کی کئی اقسام ہیں، کوئی بچہ منطقی ہوتا ہے، کوئی الفاظ کا جادوگر ہوتا ہے، کسی میں جذباتی گہرائی زیادہ ہوتی ہے تو کوئی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے، اگر ہم مچھلی کی قابلیت کا اندازہ اس کے درخت پر چڑھنے کی مہارت سے لگائیں گے، تو وہ مچھلی پوری زندگی خود کو نکمّا ہی سمجھے گی، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کا موازنہ دوسروں سے کرنے کے بجائے *ان کے اندر کے چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو تلاش کریں* اور انہیں صحیح سمت دیں، جب بچے کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ اللہ کا ایک خاص شاہکار ہے اور اس کی صلاحیتیں کسی نہ کسی بڑے مقصد کے لیے ہیں، تو اس کے اندر سے مایوسی ختم ہو جاتی ہے اور وہ خود اعتمادی کے ساتھ زندگی کے میدان میں اترتا ہے، یاد رکھیے کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر صلاحیت ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہے، لہٰذا اپنی قدر پہچانیں اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت رخ پر استعمال کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس کائنات کے توازن میں آپ اپنا بہترین کردار ادا کر سکیں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*