موت کی دستک۔

موت ہر شخص کے گھر دستک دیتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موت پہلی دستک کے بعد ہی گھر میں داخل ہو جاتی ہے اور انسان کی روح کو قبض کر لیتی ہے۔ وہ اچانک دنیا کے امتحان گاہ سے نکال کر آخرت میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں وہ اپنے اعمال کا انجام پائے۔اچانک موت کا یہ معاملہ مختلف صورتوں میں پیش آتا ہے۔ مثلا دل کا تیز دورہ پڑا اور فوری طور پر انسان کی موت واقع هو گئی۔ سڑک پرسخت حادثہ پیش آیا اور ایک لمحہ کے اندر زنده انسان مرده انسان میں تبدیل ھو گیا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان صحت کی حالت میں رات کو سویا اور صبح هوئی تو بستر پر صرف اس کی بے جان لاش پڑی ہوئی تھی۔اچانک موت بلاشبہ بے حد سنگین موت ہے کیونکہ انسان کو اس میں یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ موت سے پہلے اپنی غلطیوں کی تلافی کرسکے۔
دوسری صورت وہ ہے جبکہ موت بار بار ایک انسان کے گھر دستک دیتی ہے لیکن اندر داخل ھونے سے پہلے ہی وہ لوٹ جاتی ہے۔ اس واپسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلا آدمی بیمار ہو کر اچھا ھوجائے۔ سخت حادثہ پیش آجانے کے باوجود وه موت سے بچ جائے۔ اس کے اوپر حملہ کیا جائے لیکن حملہ آور کا نشانہ خالی چلا جائے۔وغيره
یہ دوسری قسم آدمی کو بار بار موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں سوچے۔ وہ اپنی زندگی پر نظر ثانی کرے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرکے زیادہ صحیح زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے۔ موت کا آپ کے دروازہ پر دستک دے کر چلا جانا گویا اس بات کا الارم ہے کہ هوشیار هو جاو۔ جلد ہی تمہارا آخری وقت آنے والا ہے ، اپنی اصلاح کر لو۔ اس سے پہلے کہ اصلاح کا وقت ہی باقی نہ رہے۔
ہر شخص موت کی زد میں ہے۔ کوئی بھی چیز آدمی کو موت سے بچانے والی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی آج مرنے والا ہے اور کوئی وہ ہے جس پر کل کے دن موت آئے گی۔ موت کی یاد سے بہتر کوئی معلم انسان کے لئے نہیں۔

الاعظمی✍️