*ڈیـڑھ سـالہ بـچـے کـی لاش* 
(ایک ماں کی داستان غم)

اس کے ڈیڑھ سالہ بیٹے پر سے جب گاڑی گزری تھی تو بیٹے کی انتڑیاں تک باہر ا گئی تھیں وہ بیٹے کی لاش کی طرف لپکی تھی لیکن اسے لاش اٹھانے سے سختی سے منع کر دیا گیا تھا اور حکم دیا گیا تھا کہ جلد از جلد گاڑی کے ٹائر دھو دو ہمیں نکلنا ہے ہمیں دیر ہو رہی ہے اس نے انکھوں میں انسو لیے مالکان کی طرف دیکھا تھا اور ان کے چہرے کے سخت تاثرات کو دیکھتے ہوئے چپ چاپ برتن میں پانی لے کر گاڑی کے ٹائر دھونے لگی تھی گاڑی کے ٹائر ادھے سے زائد اس نے اپنے بہتے انسوؤں سے دھو دیے تھے کیونکہ وہ ٹائر کوئی مٹی لگ جانے کی وجہ سے گندے نہیں ہوئے تھے بلکہ اس کی اولاد کے خون سے گندے ہوئے تھے اور اس کے بیٹے کی لاش ابھی تک وہیں پڑی تھی گاڑی کے ٹائر دھونے کے بعد مالکان گاڑی میں بیٹھ کر نکلے تو اسے حکم دیا کہ وہاں سے لاش اٹھا کر گیلری کی صفائی کر دینا لاش کو دفنا کر ایک ہفتے کے اندر واپس ا جانا کیونکہ تمہارے بغیر گھر کا نظام نہیں چل سکتا 
وہ خاموشی سے اپنے مالکان کا حکم سن رہی تھی اور سوچ رہی تھی کیا میں انسان نہیں ہوں کیا میری اولاد اولاد نہیں تھی ؟ 
کیا میرے بیٹے کی جگہ اگر ان کا بچہ مرا ہوتا تو ان کو گاڑی کے ٹائر صاف کرنا یاد رہتا ؟
اس کے سوالوں کا جواب دینے والا یہاں اب کوئی نہیں تھا وہ چپ چاپ اٹھی ایک چادر بچھائی اس کے اوپر ایک پلاسٹک شیٹ رکھی اس پلاسٹک شیٹ کو رکھ کر اس کے اوپر اپنے بیٹے کی لاش اور انتڑیاں رکھیں اور آبائی گھر جانے کی تیاری کرنے لگی 
جب اس نے سب کچھ تیار کر لیا تو اسے یاد ایا کہ اس کے پاس تو گھر جانے کا کرایہ تک نہیں ہے ایمبولینس کی اسے کوئی ضرورت نہیں تھی اس نے بچے کو چادر میں کچھ اس طرح سے لپیٹ لیا تھا کہ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا اس چادر میں کیا ہے اس کو اب صرف ایک سواری کا کرایہ چاہیے تھا تاکہ وہ اپنے گھر جا سکے اور اس کے پاس وہ بھی نہیں تھا تو وہ بیٹے کو رکھ کر وہیں رونے لگی تھی اس خوف سے اس کی اواز بھی نہیں نکل رہی تھی کہ کہیں اس کے مالکان اس بات پر بھی سختی نہ کریں کہ اس نے ان کے گھر میں شور کیوں مچایا اور ان کے اس پڑوس میں پتہ کیوں چلا کہ اس کا بچہ گاڑی کے نیچے اگیا ہے جب اور کوئی صورت نظر نہ ائی تو اس نے وہ گٹھڑی اٹھائی جس میں بیٹے کی لاش پڑی تھی اسے سر پر رکھا دوسرے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تھاما اور گھر کا دروازہ لاک کرنے کے بعد پیدل اپنے گھر کی جانب چل دی اس کی بیٹی نے معصوم اواز میں پوچھا تھا کہ ماں پیدل تو ہم تین دن تک بھی گھر نہیں پہنچ سکیں گے اپنی بیٹی کا سوال سن کر اس کے انسوؤں کی رفتار مزید تیز ہو گئی تھی وہ کوئی جواب نہیں دے پائی تھی البتہ اپنے بیٹی کو ایک تھپڑ جڑ دیا تھا کہ وہ مزید زبان نہ چلا سکے یہ کہانی ہے مہناز اختر کی 

جس کا تعلق چکوال سے تھا اس کا شوہر بیمار ہوا تو گھر کی کفالت اس پر ان پڑی ساتھ ساتھ شوہر کا علاج معالجہ بھی کروانا تھا پاکستان میں رہنے والے پاکستان کے حالات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہاں اج کے دور میں صرف روٹی تک پوری نہیں ہو سکتی کجا کے کسی مریض کا علاج کروانا 
اس کا شوہر معدے کے کینسر میں مبتلا ہوا تھا جس کا بچنا کسی بھی صورت ناممکن تھا لیکن اس کے باوجود اس کا علاج ضروری تھا کیونکہ جب وہ تکلیف سے کراہتا تھا تو وہ خود برداشت نہیں کر پاتی تھی اس کے بچے بھی رونے لگتے تھے 
مہناز کو اس کے شوہر نے کہا تھا کہ تم اب مجھ پر خرچ نہ کرو مجھے یقین ہے کہ میں اب مزید زندہ نہیں رہ سکوں گا میں نہیں چاہتا کہ میرے بعد میرے گھر کے حالات ایسے ہوں کہ میرے بچوں کے پاس کھانے کے لیے بھی کچھ نہ ہو تم جو کچھ کماتی ہو وہ بچا کر رکھو کل کو بچے بڑے ہوں گے تو ان کے کام ائے گا وہ اپنے مجازی خدا کے قدموں پہ سر رکھتی تھی اور کہتی تھی کہ میں اپ کو تکلیف میں کیسے چھوڑ سکتی ہوں 
اس کو ماضی یاد کرواتے ہوئے بتایا کرتی تھی کہ یاد ہے جب میرا باپ بیمار ہوا تھا تو ہمارے گھر میں بھی ایسے ہی حالات تھے والد کی دوا خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے 

میں اکثر یہاں روتی رہتی تھی لیکن تم سے اپنا مسئلہ بیان نہیں کرتی تھی تم نے کئی بار مجھ سے پوچھا تھا یہاں تک کہ اپنی والدہ سے بھی پوچھا تھا کہ اپ کی اس کے ساتھ کوئی لڑائی ہوتی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا اور میں تم کو بتانے میں جھجک محسوس کرتی تھی یہاں تک کہ ایک دن تم میرے گھر چلے گئے وہاں تمہیں میری والدہ نے ساری بات بتائی جب تمہیں پتہ چلا کہ میں اپنے باپ سے اتنی محبت کرتی ہوں تو اس کے بعد سے تم نے میرے باپ کے علاج معالجے کا ذمہ اٹھایا گو کہ میرے سگے بھائیوں کو میرے باپ کی اتنی پرواہ نہیں تھی جتنی تم نے کی 
مجھے یاد ہے الائیڈ ہسپتال میں جب میرے باپ کا اخری وقت تھا تو میرے باپ نے تمہارے سامنے ہاتھ جوڑے تھے اور کہا تھا کہ میری بیٹی سے کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو اس سے معاف کر دینا تم نے میرے لیے بہت کچھ کیا اتنا کچھ جو کچھ میری سگی اولاد بھی نہیں کر سکی ۔ ان تمام احسانوں کے ساتھ بس ایک اور احسان کر دینا کہ میری بیٹی کی غلطی گستاخی کوتاہی کو نظر انداز کر دیا کرنا تم نے مسکرا کر میرے والد صاحب سے کہا تھا کہ اپ کی بیٹی سے کبھی کوئی غلطی ہوتی ہی نہیں ہے میں اسے کیا خاک معاف کروں گا اور میں نے اپ پر کوئی احسان نہیں کیا اپ میرے لیے میرے والد کی طرح قابل احترام ہیں میرے پاس جو کچھ ہے اس پر اپ کی بیٹی کا اور اپ کا پورا حق ہے میں جتنا ہو سکا اپ کے کام اؤں گا خیر جب میرے والد کا انتقال ہو گیا ان کی تدفین کے کافی عرصہ بعد مجھے پتہ چلا کہ جو کچھ بھی تم نے کیا تھا وہ سب کچھ تم نے ادھار لے کر کیا تھا اور پھر تم ایک لمبے عرصے تک وہ قرض چکاتے رہے تھے تم نے تو وہ قرض چکا دیا لیکن تمہارا جو احسان مجھ پہ ہے میں اس کا قرض عمر بھر نہیں چکا پاؤں گی 
مہناز نے اپنے شوہر کے قدموں پہ بوسہ دیا اور کہا کہ 
اس دنیا میں تو جو کچھ ہے میرے پاس میں وہ سب کچھ تم پہ قربان کرتی ہوں لیکن میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ اگر حشر میں بھی تمہارے گناہ تمہاری نیکیوں پر بھاری پڑ گئے تو میں اللہ تعالی سے کہوں گی یا اللہ میرے نیک اعمال بھی اس کو دے دے اس کے شوہر نے اس کی بات سن کر اسے قریب کر لیا اور کہا کہ تم نے دنیا میں ہی مجھ پہ اتنے احسان کر دیے ہیں کم از کم اب حشر میں اللہ تعالی مجھے تمہارے احسانوں کا محتاج نہ کرے شدید ترین تکلیف میں رہنے کے بعد اس کا شوہر انتقال کر گیا لیکن وہ ایک بار پھر مقروض ہو چکی تھی 

جن لوگوں سے اس نے قرض لے کر اپنے شوہر کا علاج کروایا تھا وہ لوگ اب سے قرض واپسی کے لیے تنگ کیا کرتے تھے اسے اور کوئی صورت نظر نہ ائی تو اپنے کسی جاننے والے کے ذریعے کراچی میں کسی بنگلے پہ کام کرنے کے لیے چلی گئی تھی اس کے دو بچے تھے اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لے گئی تھی وہاں سے کچھ ایڈوانس پیسہ پکڑ کر قرض داروں کا قرض ادا کر دیا تھا اسے امید تھی کہ وہ تین سے چار سال میں یہ قرض اتار کر واپس اپنے گھر ا جائے گی لیکن ایسا اس کی قسمت میں نہیں لکھا تھا اس نے وہاں جاتے ہی اپنی اولاد کو کھو دیا تھا اس کے پاس صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی بیٹا ڈیڑھ سے دو سال کا تھا 
وہ گھر کے اندر کام کر رہی تھی بیٹا اپنی بہن کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اس نے اپنی بیٹی کو اندر بلا لیا بیٹی بے خیالی میں اپنے بھائی کو وہیں چھوڑ کر اندر چلی گئ گھر کے مالکان جب تیار ہو کر کہیں نکلنے لگے تو وہ بچہ ان کو نظر نہ ایا اس پر سے گاڑی گزر گئی گاڑی گزری تو انہیں بھی محسوس ہوا کہ گاڑی کے نیچے کوئی چیز ا گئی ہے انہوں نے گاڑی روک کر دیکھا تو ان کی ملازمہ مہناز بی بی کا بچہ گاڑی کے نیچے ایا تھا اور اس کے جسم کے کچھ اعضاء گاڑی کے ٹائر ساتھ چپک کر رہ گئے تھے بچے کی اخری آہ سن کر اندر سے وہ بھی دوڑی تھی لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے جو کچھ ہونا تھا ہو چکا تھا اس کے بچے کی انتڑیاں تک نکل کر باہر گری پڑی تھی وہ بیٹے کی جانب دوڑنے لگی تھی جب اس کے مالکان نے اسے بچے کی لاش کے پاس جانے سے منع کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے یہ گاڑی صاف کرو انہیں دیر ہو رہی ہے اسے مالکان کے لہجے پہ حیرانی ہوئی تھی لیکن ان کا حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا تو وہ چپ چاپ اندر سے پانی کا ایک ٹب اور ایک برتن لے کر ائی تھی اس نے گاڑی کے وہ دونوں ٹائر تو دیے تھے جو اس کے بچے پر سے گزرے تھے اس کے مالکان گاڑی کے ٹائر چیک کرنے کے بعد اسے حکم سناتے ہوئے چلے گئے تھے اور وہ اپنے بچے کی لاش گٹھڑی میں باندھے پیدل اپنے گھر کی جانب چل دی تھی اس نے سوچا تھا کہ میں ریلوے اسٹیشن پر جا کر کرایہ مانگ لوں گی لیکن پھر اس میں اتنی ہمت بھی نہ پڑی کہ وہ مانگ سکے وہ چپ چاپ گاڑی میں داخل ہو گئی تھی جب اس کے پاس ٹکٹ چیکر ایا تھا تو اس نے ٹکٹ چیکر کو ساری روداد سنا دی تھی ٹکٹ چیکر کو یہ بات سن کر یقین نہ ایا کہ ایک ماں جس کا بچہ اتنی بے دردی سے مارا گیا تھا وہ اتنے صبر سے کیسے بیٹھی ہے اس نے باقاعدہ گھٹڑی کھول کر چیک کیا مگر جب چیک کیا تو وہ خود بھی رو پڑا تھا اس نے اپنی جیب میں موجود تمام رقم اس خاتون کے حوالے کر دی اس کو ایک ٹکٹ دیا وہ جس اسٹیشن پر اتری وہاں سے اس کے لیے گاڑی کا انتظام کروا کے اسے اس کے ابائی گاؤں روانہ کیا اور اس سے ہاتھ جوڑ کر معذرت کی کہ اگر اس کی ذات کی وجہ سے کوئی دل ازاری ہوئی ہو تو معاف کر دے مگر اب مہناز کے دل میں اتنی گنجائش کہاں تھی کہ وہ ازردہ ہوتا وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھی بیٹے کی لاش کو ساتھ لیا اور اپنے ابائی گاؤں پہنچی 

اس نے جا کر اپنے بیٹے لاش گاؤں کی مسجد صاحب کے سپرد کر دی اور ان کو ساری روداد سنا دی امام مسجد صاحب نے اسی وقت بچے کی تدفین کا انتظام کیا اپنے پاس موجود رقم خرچ کی مسجد کی کمیٹی سے بھی اپیل کی امام صاحب کے کہنے پر محلے داروں نے بھی کافی مدد کر دی بچے کی تدفین اور انتظامات سے فارغ ہونے کے بعد امام صاحب نے اپنی خصوصی کوششوں سے ان مالکان کے ساتھ رابطہ کیا جن کی گاڑی کے نیچے بچہ ایا تھا ان کو مجبور کیا کہ یا تو وہ اس خاتون کے قرض معاف کریب بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی کہ انہوں نے اس بچے کو کچل کر مار دیا ہے امام صاحب کو گاؤں کے لوگوں کی حمایت حاصل تھی ان کی بات کا اگلے فریق پر کافی اثر پڑا یوں اس خاتون کا قرض معاف کروا دیا گیا اور اسے اسی گاؤں میں بٹھا دیا گیا وہ اج بھی نیم پاگل ہے وہیں رہتی ہے وہ اپنی بیٹی کو لے کر کہیں باہر نکلے تو اس کا بازو باندھ کر رسی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتی ہے حتی کہ اس کی بچی اج جوان ہے لیکن وہ کہتی ہے کہ بچوں کو پتہ نہیں چلتا یہ گاڑیوں کے نیچے ا جاتے ہیں اج بھی اگر وہ اپنی بیٹی پر غصہ ہوتی ہے تو اس کی بیٹی اسے خود سے لپٹا لیتی ہے لیکن لوگ اس خاتون کی حالت دیکھ کر رو پڑتے ہیں جو اس کی حقیقت سے اگاہ ہیں 
یہ ہمارے معاشرے کی حقیقت ہے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں کسی غریب کی اولاد کی جان بھی چلی جائے تو ہمیں فکر نہیں ہوتی بلکہ الٹا ہمیں اس بات کا غصہ ہوتا ہے کہ وہ غریب کا بچہ ہماری گاڑی کے نیچے ا کر کیوں کچلا گیا اس کے کچلے جانے کی وجہ سے ہماری گاڑی کے ٹائر گندے ہو گئے ہیں ہم ایک ماں کو اس کے بیٹے کی لاش نہیں اٹھانے دیتے بلکہ اسے حکم دیتے ہیں کہ پہلے ہماری گاڑی کے ٹائر صاف کرو میں صرف اس تحریر میں مالی طور پر مضبوط لوگوں سے اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ غریب لوگ بھی انسان ہوتے ہیں ان کا اور ان کی اولاد کا خیال رکھا کیجیے بہت شکریہ
*◈❂•┈•⊰••✿><✿••⊱•┈•❂◈*
 ```ایک بار درود شریف پڑھ لیجئے``` 
*جَـزَی اللّٰهُ عَـنَّـا مُحَـمَّـداً مَّاھُـوَ اَھٌـلُـہٗ*