*اسلامی سزائیں سختی یا حکمت؟*
✍🏻*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
________________________________
محترم قارئین اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو عدل پاکیزگی امن اور باہمی احترام پر قائم ہو جب معاشرہ جرائم فحاشی ظلم اور ناانصافی کی آماجگاہ بن جائے تو صرف نرم اور علامتی سزائیں اس بگاڑ کا علاج نہیں کر سکتیں جیسے ایک ماہر معالج بسا اوقات مریض کی جان بچانے کے لیے کڑا اور تکلیف دہ علاج تجویز کرتا ہے اسی طرح شریعت بھی اجتماعی صحت و سلامتی کے لیے بعض اوقات سخت معلوم ہونے والے اقدامات اختیار کرتی ہے یہ سختی دراصل معاشرے کے وسیع تر مفاد آنے والی نسلوں کے تحفظ اور اجتماعی امن کے قیام کے لیے ہوتی ہے
بعض لوگ اعتراض کے طور پر کہتے ہیں کہ شرعی سزائیں بہت سخت اور ایک مہذب ملک اور مہذب معاشرے کے لیے نامناسب ہیں۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں کہ اسلامی تعلیمات ہی ملک اور معاشرے کو مہذب بناتی ہیں اور اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی سے بدامنی بد تہذیبی اور بد تمیزی پھیلتی ہے۔
اسلامی سزاؤں کو سخت سمجھنا بھی بہت بڑی حماقت ہے کیوں کہ اسلامی سزائیں انسان کو صحیح انسان بنانے اور انسانیت کو امن و امان بخشنے کا ذریعہ ہیں اور اگر ان سزاؤں کا ان کے جرائم سے ہی مقابلہ کیا جائے تو تب بھی جرائم کی بدی اور برائی ان کی سزاؤں سے کہیں زیادہ سخت ہے اور اگر پھر بھی اسلامی سزائیں سخت معلوم ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر کسی مہلک اور خطرناک بیماری سے بچنے کے لیے سخت آپریشن کے علاوہ کوئی اور علاج کارآمد نہ ہو تو ایسی صورت میں اس سخت آپریشن کا تجویز اور اختیار کرنا ہی عقل مندی کہلاتا ہے۔ اگر انسان کے کسی عضو و جسم میں بیماری کے ایسے جراثیم گھر کر لیں کہ اُن کو اُس عضو و جسم سے جدا کرنا ممکن نہ رہے تو ایسی صورت میں اُس عضو کا انسانی جسم سے الگ کر دینا ہی عافیت اور عقل مندی اور دوسرے سینکڑوں اعضاء کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ جراثیم رفتہ رفتہ انسان کے جسم کے دوسرے اعضاء میں منتقل ہوتے رہتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ پورے جسم کی تباہی و بربادی کا باعث بنتے ہیں۔
بالکل اسی طرح معاشرے کے بعض جرائم کا معاملہ ہے کہ اگر سخت سزا جاری نہ کی جائے تو ان جرائم کے جراثیم معاشرے کے دوسرے افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور اس طرح دوسروں کی بھی تباہی و بربادی کا باعث بنتے ہیں اس لیے شریعت نے معاشرے کے بعض خاص خاص افراد پر مضبوط و مستحکم سزائیں جاری کر کے معاشرے کے ہزاروں اور لاکھوں افراد کو زہر یلے جراثیم سے بچانے کا انتظام کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب اور جس معاشرے میں اسلامی سزاؤں کو کامل اور صحیح طریقے پر نافذ و جاری کیا جاتا ہے تو وہ معاشرہ پوری طرح امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اور یہ ظاہری سختی بھی صرف حدود کے معاملے تک محدود ہے حدود کی سزاؤں خاص طور پر زنا ( جس کی سزا حدود کی دوسری قسموں سے زیادہ سخت ہے ) کے معاملہ میں بھی شریعت نے باضابطہ جرم کے ثبوت کے لیے شرائط اتنی سخت اور کڑی رکھ دی ہیں کہ اگر ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے بلکہ ان شرائط میں ذرا سا شبہ بھی پیدا ہو جائے تو حد ختم اور ساقط ہو جاتی ہے اور پھر وہ سزا حدود سے نکل کر تعزیر میں داخل ہو جاتی ہے۔
شریعت کے اس پورے نظام اور قانون پر غور کیا جائے تو یہ نہایت ہی معتدل ہے اور اس میں ایک منصف اور نیک نیت انسان کے لیے ذرا شبہے کی گنجایش نہیں ہاں اگر کوئی عدل و انصاف کی نعمت سے محروم ہو یا اس نے اسلامی تعلیمات کے متعلق دشمنان اسلام اور خصوصاً مستشرقین کی طرف سے بغض و عناد کا سبق پڑھ رکھا ہو تو پھر اس کا کیا علاج ہے؟
لہٰذا اسلامی سزاؤں پر اعتراض کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان کے فلسفے حکمت اور مقاصد کو سمجھا جائے اگر غیر جانب داری اور انصاف کے ساتھ اس نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ نہ صرف معتدل اور منصفانہ ہے بلکہ انسانی معاشرے کو حقیقی معنوں میں مہذب اور پرامن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اللہ ربّ العزت عقل سلیم عطافرماۓ دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین یارب العالمیـــــن ۔