مت ٹٹولا کیجیے میرے لفظوں سے میری ذات
اپنی ہر تحریر کا عنواں نہیں ہوں میں
انسان کی ذات ایک گہرا سمندر ہے، جس کی تہہ تک ہر کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
الفاظ تو صرف لہریں ہوتے ہیں، جو کبھی جذبات کے زیرِ اثر بلند ہو جاتے ہیں اور کبھی خاموشی کی طرح مدھم۔
لیکن کیا ہر لہر کو سمندر سمجھ لیا جائے؟ کیا ہر تحریر لکھنے والے کی مکمل عکاسی کرتی ہے؟ یقیناً نہیں۔
اکثر لوگ کسی کے چند جملوں کو پڑھ کر اس کی شخصیت کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ قلم سے نکلا، وہی دل کی پوری کہانی ہے۔
حالانکہ تحریر کبھی حالات کا عکس ہوتی ہے، کبھی کسی لمحاتی کیفیت کا اظہار، اور کبھی محض ایک خیال کی تصویر۔
لکھنے والا ہر لفظ میں خود کو نہیں بکھیرتا، نہ ہی ہر مضمون اس کی زندگی کا عنوان ہوتا ہے۔
انسان کے اندر کئی پہلو چھپے ہوتے ہیں۔ خوشی، غم، امید، مایوسی، ہمت، کمزوری —
یہ سب کیفیتیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ایک شاعر اگر درد لکھتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ ہر وقت غمگین ہو۔
اگر وہ مسکراہٹ کا ذکر کرے تو لازم نہیں کہ اس کے دل میں کوئی دکھ نہ ہو۔
لفظ صرف جذبات کے ترجمان ہوتے ہیں، مکمل سچائی نہیں۔
کبھی کبھی انسان وہ بھی لکھ دیتا ہے جو اس نے خود نہیں جیا، مگر محسوس ضرور کیا ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے درد کو اپنے الفاظ میں سمو دیتا ہے، معاشرے کی خاموش چیخوں کو بیان کر دیتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کہانی اس کی اپنی ہے۔
اس لیے کسی کی تحریر کو پڑھ کر اس کی ذات کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔
انسان کتاب نہیں کہ جس کا سرورق دیکھ کر اندر کا حال جان لیا جائے۔
کچھ صفحے وقت کھولتا ہے، کچھ حالات، اور کچھ صرف رب جانتا ہے۔
لہٰذا یاد رکھئے —
ہر لکھنے والا اپنی ہر تحریر کا عنوان نہیں ہوتا،
اور ہر لفظ اس کی مکمل پہچان نہیں ہوتا۔
عائشہ ❤