🌼

 *ان دونوں نے غیبت پر افطار کیا* 

نبی کریم ﷺ نے سب کو ایک دن کے روزے کا حکم دیا اور فرمایا:

تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک افطار نہ کرے، جب تک کہ میں اسے حکم نہ دوں۔

سب لوگوں نے روزہ رکھ لیا، یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ پھر یہ ہونے لگا کہ ہر آدمی آتا اور کہتا:

یا رسول اللہ! اگر آپ ابھی تک روزہ سے ہیں تو پھر مجھے اجازت دیجئے تاکہ میں افطار کر لوں۔ آپ ﷺ ہر آدمی کو اجازت دیتے چلے گئے، یہاں تک کہ ایک آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ! آپ ﷺ کے خاندان کی دو لڑکیاں ابھی تک روزہ سے ہیں اور وہ دونوں آپ ﷺ کے پاس آتے ہوئے شرماتی ہیں، تو آپ انہیں اجازت دے دیجئے کہ وہ افطار کر لیں۔ آپ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا اور اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ ﷺ نے پھر اسے نظر انداز کر دیا۔ اس نے پھر اپنی بات دہرائی، مگر آپ ﷺ نے پھر اسے نظر انداز کر دیا۔ اس نے پھر اپنی بات دہرائی، مگر آپ ﷺ نے پھر اسے نظر انداز کر دیا اور فرمایا:

ان دونوں نے روزہ نہیں رکھا، اور وہ روزہ دار ہو بھی کیسے سکتا ہے جو آج دن بھر لوگوں کا گوشت کھاتا رہا ہو؟ جاؤ اور انہیں حکم دو کہ اگر ان کا روزہ تھا تو قے کر دیں۔

وہ آدمی ان دونوں لڑکیوں کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، تو ان دونوں نے قے کر دی۔ ہر ایک کے منہ سے خون کا ایک ایک لوتھڑا نکلا۔ وہ آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں واپس آیا اور ساری بات بتا دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

قسم اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر وہ ان کے پیٹ میں رہتے تو ان دونوں کو آگ کھا لیتی۔
(مسند احمد، ابو داود)
🌸🌹🤲🌼♥️