🥰
*شہزادوں کا امتحان*
*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*
*قسط نمبر 08*
وہ بظاہر اس ساری کارروائی سے لاتعلق تھا لیکن اُس کے کان وزیر اعظم کی ایک ایک بات پر لگے ہوئے تھے۔
وزیر اعظم نے ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ اب وہ اپنے آپ کو ملک کا بادشاہ تصور کرنے لگا تھا۔ اُس نے اپنے بیٹے کو شہزادوں جیسا لباس پہنا دیا اور درزی کو اپنے لیے قیمتی شاہی لباس کی تیاری کا حکم دے دیا۔ وزیر اعظم کے ساتھی بھی اس کی طرح بڑھ چڑھ کر تیاریاں کر رہے تھے۔ انھوں نے اس کام کے لیے جمعہ کا دن منتخب کیا۔ پھر جب سب لوگ جمعہ کی نماز میں مصروف تھے، تو ان لوگوں نے بادشاہ کے محل پر دھاوا بول دیا مگر انھیں یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ بادشاہ اور ملکہ محل سے غائب تھے۔ وزیر اعظم نے تخت پر بیٹھ کر اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ پھر اُس نے سارے غداروں میں عہدے اور مال و دولت کی تقسیم شروع کر دی۔ اُس نے سارے ملک میں بادشاہ کے فرار ہونے کا اعلان کر دیا۔
بادشاہ جو بہت عقل مند، رحم دل اور بہادر تھا، اُس نے اپنے خاص خاص وفاداروں کو پہلے ہی سے ایسے وزیروں کے گھروں میں تعینات کر رکھا تھا۔ اُس کے وفادار نے اُسی وقت وزیر اعظم کی بغاوت کی خبر بادشاہ کو پہنچا دی تھی۔ بادشاہ کو کوئی اور ذرائع سے اس طرح کی خبریں موصول ہو رہی تھیں، لیکن وہ ان کا توڑ کرنے سے معذور تھا۔ اس کی فوج کا سپہ سالار بھی وزیر اعظم کا رشتے دار تھا۔ اس لیے بادشاہ فوج کو بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ ابھی شہزادوں کی واپسی میں پانچ مہینے باقی ہیں، شہزادے بہادر اور عقلمند ہیں، وہ ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر لوٹیں گے۔ اس دوران میں وہ اپنی ملکہ کے ساتھ کسی جنگل کا رُخ کرے گا اور جیسے تیسے پانچ مہینے پورے کرے گا۔ اُس نے ملکہ کے علاوہ کسی شخص کو اپنے منصوبے سے متعلق کچھ بھی نہ بتایا۔ پھر جمعرات کی رات وہ محل کو چھوڑ کر اپنے ملک کی سرحد کے قریب ایک جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں اُس نے ایک چھوٹی سی کُٹیا بنا لی اور گزر بسر کرنے کے لیے چند بکریاں خرید کر چرواہے کا روپ دھار لیا۔ وہ کبھی لکڑیاں کاٹ کر انھیں بیچنے کے لیے شہر لے جاتا۔ اب اُسے شدت کے ساتھ چھے مہینے گزرنے کا انتظار تھا۔
رحم دل شہزادہ: آگ کے دریا میں
رحم دل شہزادہ رائیل کی محل ماحولی کے سجے سجائے کمرے میں سویا ہوا تھا، جب آدھی رات کے وقت اُسے بیرونی دروازے پر ہلکی سی دستک کی آواز سنائی دی۔ اُس نے آہستہ سے دروازہ کھول دیا۔ باہر چادر میں ملبوس ایک شخص کھڑا تھا۔ وہ شہزادے کے قریب آ کر اُس کے کان میں بولا: ”آپ یہاں سے اس وقت نکل جائیں، میں بھی حویلی سے فرار ہو رہا ہوں۔ جانا چاہتے ہیں تو اسی وقت فیصلہ کریں، دونوں کو ایک دوسرے کا سہارا رہے گا۔“
شہزادہ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کرے؟ یہاں سے بے سروسامانی کی حالت میں اس شخص کے ساتھ چل پڑنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں تھی۔ شہزادہ فیصلے پر پہنچ چکا تھا۔ اُس نے باہر کھڑے آدمی کو اندر آنے کے لیے کہا تو وہ خاموشی سے اندر آ گیا۔ دونوں آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگے۔ شہزادے نے اُسے کہا کہ تم گودام میں چھپ جاؤ، میں تھوڑی دیر بعد تمھارے ساتھ چلتا ہوں۔ وہ شخص کمرے کے اندر بنے ہوئے چھوٹے سے گودام میں گھس گیا، جہاں غیر ضروری سامان پڑا ہوا تھا۔ شہزادے نے چپکے سے دروازے کو باہر سے گنڈی چڑھا دی۔
شہزادہ کمرے سے باہر نکلا تو وہاں کوئی پہرے دار موجود نہ تھا۔ اُس نے ساتھ بنے ہوئے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔ وہی بڑی بڑی مونچھوں والا آدمی تلوار لیے باہر نکلا، جس نے قاتل ڈاکو کے کان کاٹے تھے۔ شہزادے نے اُس سے پوچھا کہ اس وقت حویلی کا مالک کہاں ہے؟ پہلے تو اُسے شہزادے کی دماغی حالت پر شک گزرا، پھر کہنے لگا کہ یہاں کا مالک رابیل ہے، جو کئی ریاستوں کا مالک ہے۔ وہ کل یہاں آئے گا۔ اس وقت اُس کا نمائندہ جوشی یہاں موجود ہے۔“ شہزادے نے کہا: ”مجھے جلدی سے جوشی سے ملواؤ، بہت ضروری کام ہے۔“ وہ شخص شہزادے کو پکڑ کر جوشی کے کمرے کی طرف چل دیا۔ اُسے یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں یہ تاجر شہزادہ بھاگ نہ جائے۔ جوشی سخت نیند میں تھا اور اسے نیند سے بیدار ہونا اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس نے تاجر کو اس وقت اپنے سامنے دیکھ کر پوچھا: ”کیا مصیبت آ گئی ہے؟“ شہزادہ ادب سے بولا: ”جناب! میرے کمرے کے باہر ایک آدمی دستک دے رہا تھا، میں نے دروازہ کھولا تو وہ مجھے یہاں سے فرار کے لیے اکسانے لگا۔ میں نے اُسے کمرے کے گودام میں بند کر رکھا ہے۔“ پہلے تو جوشی کو شہزادے کی باتوں پر یقین نہ آیا لیکن جب وہ شہزادے کے ساتھ کمرے میں آئے تو وہاں واقعی ایک آدمی کو قید میں دیکھ کر بڑے حیران ہوئے۔ مونچھوں والے آدمی نے اُسے باندھ کر ایک کوٹھڑی میں قید کر دیا اور جوشی نے شہزادے کو آرام کرنے کا کہہ کر اپنے کمرے کی راہ لی۔
اگلے دن رابیل اپنی اس محل نما حویلی میں پہنچ چکا تھا، جہاں شہزادہ تاجر کے روپ میں موجود تھا۔ دوپہر کے وقت رابیل کے آدمی شہزادے کو بلانے آ گئے۔ رابیل ایک بڑے کمرے میں آرام دہ تخت پر نیم دراز تھا۔ اس نے شہزادے کو ایک کرسی پر بیٹھنے کا حکم دیا تو وہ شکر یہ ادا کر کے بیٹھ گیا۔ اسی وقت وہی شخص کمرے میں داخل ہوا جسے شہزادے نے گرفتار کروایا تھا۔ شہزادہ اسے دیکھ کر ایک دم کھڑا ہو گیا: ”یہ۔۔۔ یہ تو وہی شخص ہے جناب!“ شہزادے کا جملہ ادھورا رہ گیا۔ ”بیٹھ جاؤ تاجرا، یہ ہمارا آدمی ہے اور ہم نے تمھیں آزمانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا تھا۔“ شہزادہ عجیب سی نظروں سے رابیل کی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا اور وہ آدمی مسکرا کر رہ گیا۔ اُس نے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی خشک میوہ جات کی پلیٹ شہزادے کے سامنے رکھی اور رابیل کا اشارہ پا کر کمرے سے نکل گیا۔ اب رابیل اُٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔ ”ہم نے تمھارا نام تو پوچھا ہی نہیں؟“ رابیل نے بات چیت کی ابتدا کرتے ہوئے کہا۔ ”میرا نام عظیم البرکت ہے جناب،“ شہزادے نے اپنا اصل نام بتایا۔ ”چلو اب کام کی بات ہو جائے!“ رابیل دوبارہ بولا تو شہزادہ اُس کی باتیں غور سے سننے لگا۔
رابیل اپنی ریاست کا راجا تھا۔ اُس کی ریاست بہت بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اُس نے شہزادے کو بتایا: ”شام کے وقت میں اپنی ریاست کی طرف روانہ ہوں گا۔ تمھیں بھی میرے ساتھ چلنا ہوگا۔ ایک امتحان میں تو تم کامیاب ہو چکے ہو لیکن تمھاری آزمائش جاری رہے گی۔ میں دھوکا دینے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ بس اب تم جاؤ اور سفر کی تیاری کرو!“ یہ کہہ کر رابیل دوبارہ نیم دراز ہو گیا اور شہزادہ اُٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔ کمرے کے باہر وہی شخص کھڑا تھا جسے شہزادے نے قید کر دیا تھا۔ وہ مسکراتا ہوا شہزادے کے ساتھ چل پڑا۔ وہ شخص رابیل کا خصوصی مشیر تھا اور ریاست کے کاموں میں اُس کا گہرا عمل دخل تھا۔ وہ کافی دیر شہزادے کے پاس بیٹھا رہا اور اسے اپنی ریاست کے بارے میں بتاتا رہا۔ شہزادے کا ریاست کو دیکھنے کا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا۔ اتنا خوش حال اور پرسکون تو اُس کا اپنا ملک بھی نہیں تھا، جتنا یہ لوگ اپنی ریاست کے بارے میں بتا رہے تھے۔ پہلے تو وہ یہی سمجھتا رہا کہ بادشاہ اور وزیر اپنے ملکوں کے بارے میں اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں، کیوں کہ انھیں عام لوگوں کے مسائل کا علم نہیں ہوتا۔ مگر یہ لوگ جس تواتر سے اپنی ریاست کی مثالیں دے رہے تھے، وہ حیران کن بات تھی۔ یہی سوچتے سوچتے شام سر پر آ پہنچی۔
وہی آدمی شہزادے کو روانگی کے بارے میں بتانے آیا۔ شہزادہ پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔ محل سے باہر ایک چھوٹا سا قافلہ تیار کھڑا تھا۔ دس بڑے بڑے اونٹوں پر بیٹھنے کا اہتمام کیا گیا تھا اور ہر اونٹ کے پاس دو آدمی کھڑے تھے۔ تھوڑی دیر بعد رابیل بھی محل کے دروازے سے برآمد ہوا۔ وہ ایک سفید رنگ کے بہترین اونٹ پر سوار تھا اور اُس کے پیچھے غلاموں کا ایک چھوٹا سا لشکر تھا۔ رابیل کے محل سے نکلتے ہی سب لوگ اونٹوں پر سوار ہو گئے اور یہ قافلہ اپنی منزل کی جانب چل پڑا۔ رابیل کا اونٹ درمیان میں تھا، جس کے چاروں طرف غلاموں کی سواریاں تھیں۔ شہزادہ رابیل کے اونٹ سے دور تھا۔ اب اُس نے شہزادے پر توجہ دینا چھوڑ دی تھی اور بڑی شان سے اپنے اونٹ پر براجمان تھا۔ یہ قافلہ ساری رات چلتا رہا۔ چودہ گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد وہ صحرا کے ایک ایسے حصے میں پہنچ چکے تھے، جہاں تھوڑے بہت درخت اور گھاس اُگی ہوئی تھی۔ انھوں نے درختوں کے درمیان خیمے لگا دیے اور ناشتے کا اہتمام شروع ہو گیا۔ خیموں کے باہر غلام سارے معاملات سلجھانے میں مصروف تھے۔
دن کے وقت صحرا میں سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ سورج نکلنے کے بعد ریت والے طوفانی جھکڑ چلتے ہیں۔ گرم ریت جب چہرے پر پڑتی ہے تو چہرہ جلنے لگتا ہے۔ ریت کے ٹیلے اپنی جگہیں تبدیل کرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انجان مسافر صحراؤں میں بھٹک کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ رابیل نے بڑی ذہانت سے سفر کے لیے وقت کا خصوصی خیال رکھا تھا۔ جب صحرائی ریت آگ بن کر جلنے لگی تو یہ لوگ اپنے اپنے خیموں میں آرام کر رہے تھے اور جانور گھاس چرنے میں مصروف تھے۔ شام کے وقت دوبارہ سفر کا آغاز ہو گیا۔ ادھر سورج مغربی افق سے غائب ہوا، اُدھر یہ قافلہ چل پڑا۔ آج سفر کے دوران یہ تبدیلی محسوس ہوئی کہ اونٹوں کے قدم اتنی تیزی سے اُٹھ رہے تھے، جیسے وہ ہوا میں اُڑتے چلے جا رہے ہوں۔ دن کو آرام کرنے کی وجہ سے رات کو سب لوگ تازہ دم تھے لیکن اب اُن کی آنکھیں خود بخود بند ہو رہی تھیں۔ شہزادے پر بھی غنودگی طاری ہوئی لیکن وہ مکمل طور پر نہ سو سکا۔ پھر اونٹ فضا میں بلند ہوتے دکھائی دیے اور گانے بجانے کی آوازیں آنے لگیں، جن کے میٹھے سُر ساری فضا میں پھیل کر سفر کو یادگار بنا رہے تھے۔ شہزادہ اس سفر سے بہت لطف اندوز ہو رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ سفر کے اختتام پر رابیل سے اونٹوں کے اُڑنے کا راز ضرور پوچھے گا۔ دوسرے دن کی صبح ہوتے ہوتے صحرا ختم ہو گیا اور درختوں کے جھنڈ نظر آنے شروع ہو گئے۔ اونٹوں کے قدموں نے دوبارہ زمین کو چھوا اور ان کی رفتار دھیمی ہونے لگی۔ اب شہزادہ پوری طرح تازہ دم تھا اور باقی لوگ بھی غنودگی کی حالت سے نکل چکے تھے۔ غلام خوشی کے گیت گانے لگے۔
جلد ہی قافلہ آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ یہاں ہر طرف بڑے بڑے محل نما مکان پھیلے ہوئے تھے۔ وہ اینٹوں کے بجائے قیمتی پتھروں سے بنے ہوئے تھے۔ محلات کے بڑے بڑے دروازے دھوپ میں چمک رہے تھے۔ محلات کے گرد درخت اور باغات نظر آتے تھے، جن پر عجیب عجیب رنگ کے پھل لگے ہوئے تھے۔ یہ سب دیکھ کر شہزادہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔
رابیل کا محل سب سے بڑا تھا۔ شہزادے کو محل کے ایک کمرے میں ٹھہرا دیا گیا۔ یہاں اُسے کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے لیے ایسی ایسی سہولتیں ملیں، جن کا اُس نے اپنی زندگی میں تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایک دن رابیل نے شہزادے کو طلب کیا۔ شہزادہ اُس کے پاس پہنچا تو وہ بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ شہزادے کے پہنچتے ہی وہ بولا: ”جوان! اب تمھارے امتحان کا وقت آ پہنچا ہے۔“ شہزادے نے ادب سے کہا: ”میں ہر امتحان کے لیے تیار ہوں!“ رابیل نے شہزادے کو تفصیلات بتانی شروع کر دیں، جنھیں سن کر وہ دنگ رہ گیا۔
اصل میں رابیل جادوگروں کی ریاست کا راجا تھا۔ یہاں بنے ہوئے تمام محلات اور باغات آنکھوں کا دھوکا تھے اور جادو کے ذریعے بنائے گئے تھے۔ اس ریاست میں بڑے نامی گرامی جادوگر رہتے تھے۔ پھر ایک طاقت ور جن نے رابیل کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اُس نے اپنے جادوگروں سے مدد لی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ جادوگروں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ جن کی جان ایک کالے ناگ میں ہے۔ یہ ناگ بہت دور سات سمندر پار پہاڑوں کے اندر ایک تاریک غار میں ہے۔ غار کے چاروں طرف دلدل ہے اور دلدل سے پہلے آگ کا دریا ہے۔ اس آگ کے دریا کو چاروں طرف سے حفاظتی حصار سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ حفاظتی حصار کی وجہ سے کوئی جادوگر یا جن اس کے اندر داخل نہیں ہو سکتا۔ جس نے بھی کوشش کی، ناکام رہا۔ صرف کوئی انسان ہی اس ناگ تک پہنچ سکتا ہے اور انسان بھی وہ، جو جادو نہ جانتا ہو۔
رابیل نے شہزادے کو لالچ دیا کہ اگر وہ اس مہم میں کامیاب ہو گیا تو اسے بے حد و حساب دولت سے نوازا جائے گا۔ شہزادے نے رابیل کی بات مان کر اس مہم کو سر کرنے کی حامی بھر لی۔ رابیل کے جادوگروں نے پل بھر میں شہزادے کو سات سمندر پار پہنچا دیا اور خود واپس آ گئے۔ جن کو شہزادے کے آنے کی خبر نہ تھی۔ وہ اپنے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے بے فکر تھا۔
اب شہزادے کو آگ کا دریا سامنے نظر آ رہا تھا، جس کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ مگر جس حصار کا ذکر رابیل نے کیا تھا، وہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ شہزادے نے آزمانے کے لیے ایک پتھر اٹھا کر آگ پر پھینکا۔ پتھر ایک گڑگڑاہٹ کے ساتھ آگ کی طرف گیا اور آگ میں پہنچنے سے پہلے ہی ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر گر گیا۔ پھر شہزادے نے ایک لکڑی پھینکی، جو اسی وقت جل گئی۔ شہزادے کی سمجھ میں کوئی ترکیب نہ آ رہی تھی۔ وہ دل ہی دل میں اللہ سے مدد طلب کرنے لگا۔
اسی وقت اُسے ایک آواز سنائی دی۔ شہزادے نے مڑ کر دیکھا تو ایک بزرگ اُس سے کچھ دور کھڑے مسکرا رہے تھے۔ شہزادے نے اس ویرانے میں بزرگ کو دیکھا تو اس کی ہمت بندھی۔ بزرگ اُس سے کہہ رہے تھے: ”شہزادے! گھبراؤ نہیں، میں تمہیں ایک تلوار دے رہا ہوں۔ اللہ کا نام لے کر اس کو اپنے ہاتھ میں پکڑو اور آگ کے دریا میں داخل ہو جاؤ! مگر میری ایک بات یاد رکھو! جس طرح ناگ والا جن ظالم ہے، اسی طرح رابیل بھی ظالم بادشاہ ہے۔ تم نے اُس کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ فی امان اللہ!“ یہ کہہ کر بزرگ غائب ہو گئے اور تلوار شہزادے کے ہاتھ میں آ گئی۔ اُس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کا نام لے کر آگ کے دریا کی طرف بڑھ گیا۔
*جاری ہے ۔۔۔۔////*
🌸🌹🌼♥️