*لقمۂ حلال ایک بادشاہ اور بوڑھے کسان کا مکالمہ*
بغداد کی ایک سرد شام تھی، جب خلیفہ ہارون الرشید بھیس بدل کر اپنے شہر کے حالات دیکھنے نکلے، شہر کی فصیل سے دور ایک چھوٹے سے کھیت میں انہوں نے ایک بوڑھے کسان کو دیکھا جو سخت سردی میں زمین کھود رہا تھا اور کھجور کے ننھے پودے لگا رہا تھا،خلیفہ قریب گئے اور مسکرا کر پوچھا: بابا جی! آپ کی عمر تو آرام کرنے کی ہے، کھجور کا درخت تو بیس پچیس سال بعد پھل دیتا ہے، کیا آپ کو امید ہے کہ آپ اس کا پھل کھا سکیں گے؟بوڑھے کسان نے کمر سیدھی کی، ماتھے کا پسینہ پونچھا اور بڑے سکون سے جواب دیا: بیٹا اگلوں نے لگائے، ہم نے کھائے، ہم لگائیں گے، پچھلے کھائیں گے۔
خلیفہ اس جواب کی گہرائی سے بہت متاثر ہوئے اور اسے انعام کے طور پر سونے کے سکوں کی ایک تھیلی دی، کسان نے مسکرا کر کہا: دیکھیے بادشاہ سلامت! میرے درخت نے تو لگتے ہی پھل دے دیا،خلیفہ اس کی ذہانت پر مزید خوش ہوئے اور ایک اور تھیلی پیش کی، لیکن اس بار خلیفہ کے ذہن میں ایک سوال ابھرا انہوں نے پوچھا: بابا جی آپ کی باتوں میں اتنی حکمت اور لہجے میں اتنا سکون کیسے ہے؟ جبکہ آج کل کے نوجوان ذرا سی مشکل پر تلملا اٹھتے ہیں۔
بوڑھے کسان کی آنکھوں میں ایک عجیب نور چمکا اس نے کہا:سلطان اس کا راز اس لقمے میں ہے جو میرے حلق سے نیچے اترتا ہے۔ میں نے پوری زندگی کبھی اپنے بچوں کو وہ لقمہ نہیں کھلایا جس میں کسی دوسرے کا حق چھپا ہو یا جو محنت کے بغیر حاصل کیا گیا ہو،
اس نے مزید کہا یاد رکھیے، حرام رزق انسان کے اندر سے حیا اور صبر چھین لیتا ہے، جو خون حرام لقمے سے بنتا ہے، وہ انسان کو سرکش بنا دیتا ہے۔ جب انسان پاکیزہ اور حلال رزق کھاتا ہے، تو اس کے خیالات پاکیزہ ہوتے ہیں اور اس کی زبان سے حکمت کے پھول جھڑتے ہیں، خلیفہ خاموش ہو گئے، انہیں سمجھ آگئی کہ معاشرے کی بے چینی، بدتمیزی اور افراتفری کی جڑ صرف خیالات کی خرابی نہیں، بلکہ وہ ناپاک رزق ہے جو ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*