رمضان رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے
یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہر سچی پکار سیدھے عرش تک جاتی ہے،
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہوں جب وہ افطار کیلئے بیٹھتا ہے اس وقت وہ جو بھی دعا مانگے گا وہ رد نہیں کی جائے گی، یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب پورا دن بھوک اور پیاس میں گزارنے کے بعد، جسم کمزور اور دل نرم ہو چکا ہوتا ہے۔ آنکھیں نم، ہونٹ خشک، اور دل اپنی محتاجی کا اعتراف کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو دعا کو لفظوں سے نکال کر سسکیوں میں بدل دیتی ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
مگر افسوس آج ہم کیا کر رہے ہیں..؟
افطار سے کچھ دیر پہلے کے مناظر کیسے ہوتے ہیں؟
کچن میں چولہے جل رہے ہیں، ایک طرف پکوڑے سموسے تل رہے ہیں تو دوسری طرف لزیز مشروبات وغیرہ سے دسترخوان سجاۓ جا رہے ہیں، جہاں دعاؤں کیلئے ہاتھ اٹھانے چاہیئے وہاں اس قیمتی وقت کو کچن کی بھاگ دوڑ میں گزار رہے ہیں اور اس دوڑ دھوپ کے چکر میں ہم اس لمحے سے محروم ہو رہے ہیں جن لمحوں میں آسمان سے رحمتیں برس رہی ہوتی ہیں، ہم نے افطار کو عبادت کے بجاۓ تقریب بنا دیا ہے حالانکہ افطار کا اصل حسن سادگی میں ہے، شکر میں ہے، دعا میں ہے۔
وہ دعا جو تقدیر بدل سکتی تھی، وہ آنسو جو گناہوں کو دھو سکتے تھے، وہ چند لمحے جو جنت میں جانے کا راستہ آسان کر سکتے تھے وہ ہم خود ہی کھو رہے ہیں،
افطار کے وقت کی دعا صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ یہ اپنے رب سے ایک امید ہوتی ہے اور ہم خود کو اس امید سے محروم کر رہے ہیں، ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دسترخوان پر مختلف قسم کے لوازمات چند لمحوں کی لذت دیتے ہیں مگر ہماری دعا ہمیشہ کیلئے راحت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
کیا ہمارا دل یہ گوارہ کرے گا کہ وہ پاک ذات جو ہماری ایک پکار پر اپنے کُن کا قلم پھیرنے کیلئے تیار ہو اور ہم کچن کا چکر کاٹ رہے ہوں؟
وہ رب جو ہمارے انتظار میں ہے کہ میرا بندہ مجھ سے کچھ طلب کرے اور ہم چولہے اور پلیٹوں میں الجھ رہے ہوں؟
کیا چند سادہ چیزیں دسترخوان پر رکھ دینا کافی نہیں؟
کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کچھ وقت نکال کر اس قیمتی لمحات کو آنسؤں اور دعاؤں کیلئے مخصوص کر لیں؟
یہ مبارک مہینہ پورے 11 مہینے کے انتظار کے بعد ہمیں نصیب ہوتا ہے کیا اس ایک مہینے کو اس 11 مہینے کے اوپر ترجیح نہیں دے سکتے؟
کیا ہم اس ایک ماہ کو صرف عبادت میں نہیں گزار سکتے؟
اس دسترخوان کو تو باقی کے بچے گیارہ مہینوں میں بھی سجایا جا سکتا ہے مگر افطار کی قبولیت والے یہ لمحات صرف رمضان میں ملتے ہیں۔
ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے معمولات کو ترتیب دیں، کھانے کی تیاری پہلے مکمل کریں اور افطار سے کم از کم 10-5 منٹ پہلے سب کام چھوڑ کر بیٹھ جائیں ، گرم چیزوں کے چکر میں اس قیمتی لمحے سے خود کو محروم نا کریں، یہ وقت کھانے سے زیادہ دعا کا ہے۔ افطار سے پہلے کی فضا کو ذکر و دعا سے معطر کریں۔
یاد رکھیں! پکوڑوں اور سموسوں کی لذت چند منٹ کی ہے مگر دعا کی تاثیر تاحیات بلکہ آخرت تک ساتھ رہتی ہے، اذان سے پہلے دعا کیلئے ہاتھ اٹھانا کھجور اٹھانے سے زیادہ اہم ہے کیونکہ شاید یہی ایک دعا سے ہماری تقدیر سنور جائے، ہماری مشکلیں آسان ہو جائیں اور ہمارا نام قبولیت والوں میں لکھ دیا جائے، آئیں! اور عزم کریں کہ اذان سے پہلے کے وہ چند لمحے ضائع نہیں کرینگے ان شاء اللہ۔
کیا خبر! آسمان سے اترتی رحمتیں ہمارے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی منتظر ہوں اور ایک سچی دعا ہماری برسوں کی پریشانیوں کا خاتمہ لکھ دے،کبھی کبھی زندگی بدلنے کیلئے ایک ہی دعا کافی ہوتی ہے اور وہ دعا افطار سے پہلے کے چند لمحوں میں چھپی ہوتی ہے۔