*زکوٰۃ الٰہی معاشی نظام اور فلاحِ انسانیت کا ضامن*

لفظ *زکوٰۃ* کے لغوی معنی پاک ہونا اور بڑھنا کے ہیں، شرعی اصطلاح میں اپنے مال کے ایک مخصوص حصے (2.5%) کو اللہ کی رضا کے لیے مستحقین کو دینا زکوٰۃ کہلاتا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تقریباً 32 مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر فرمایا ہے، جو اس کی اہمیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
زکوٰۃ اسلام کا وہ عظیم الشان مالی نظام ہے جو نہ صرف معاشرے سے غربت کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ انسان کے مال اور روح دونوں کو پاکیزگی عطا کرتا ہے، اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کا حکم دے کر یہ واضح کر دیا کہ جس طرح جسمانی عبادت لازم ہے، اسی طرح مالی عبادت بھی ایمان کا جزوِ لاینفک ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ *﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو* اور اس حکم کی تعمیل دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ جو مال ہمارے پاس ہے وہ ہمارا ذاتی نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی امانت ہے جس میں اس نے معاشرے کے پس ماندہ طبقات کا حصہ رکھا ہے۔
خصوصاً رمضان المبارک کا یہ مقدس مہینہ، جو نیکیوں کے موسمِ بہار کی مانند ہے، زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بہترین موقع ہے، اس ماہِ مبارک میں ایک فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر ملتا ہے، لہٰذا اپنی زکوٰۃ کا حساب کر کے اسی معزز مہینے میں ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ آپ کا مال بھی پاک ہو جائے اور آپ اس عظیم اجر کے مستحق بھی ٹھہریں،موجودہ دور کے فتنوں اور الحاد کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو مدنظر رکھتے ہوئے، زکوٰۃ کی رقم مدارسِ اسلامیہ کو دینا بے حد ضروری اور دورِ حاضر کا اہم تقاضا ہے، مدارسِ اسلامیہ دین کے وہ قلعے ہیں جہاں قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور جہاں سے امتِ مسلمہ کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی جاتی ہے، ان مدارس میں زیرِ تعلیم مستحق اور نادار طلبہ کی کفالت کرنا نہ صرف زکوٰۃ کی ادائیگی ہے بلکہ یہ *دین کی نصرت* اور *صدقہ جاریہ* بھی ہے، جب آپ کی زکوٰۃ سے کوئی بچہ عالم یا حافظ بنتا ہے، تو اس کے پڑھے ہوئے ہر حرف کا ثواب رہتی دنیا تک آپ کے نامہ اعمال میں درج ہوتا رہتا ہے،زکوٰۃ کی ادائیگی کے بے شمار فضائل اور برکات ہیں، یہ وہ ہنر ہے جو بظاہر مال کو کم کرتا نظر آتا ہے مگر حقیقت میں اسے اللہ کی پناہ میں دے کر اس میں غیر معمولی برکت پیدا کر دیتا ہے، جب ایک مسلمان اپنی حلال کمائی سے ڈھائی فیصد اللہ کی راہ میں نکالتا ہے تو وہ دراصل اپنے باقی نوے فیصد سے زیادہ مال کو میل کچیل سے پاک کر کے اسے طیب بنا لیتا ہے، اس عمل سے انسان کے اندر سے بخل، کنجوسی اور دنیا کی بے جا محبت کا خاتمہ ہوتا ہے اور ہمدردی و سخاوت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ اپنے مالوں کو زکوٰۃ کے ذریعے قلعہ بند کر لو، یعنی یہ وہ ڈھال ہے جو آپ کے اثاثوں کو آفات اور ناگہانی نقصانات سے بچاتی ہے۔
دوسری طرف زکوٰۃ ادا نہ کرنا ایک ایسا سنگین جرم ہے جس پر قرآن و حدیث میں سخت ترین وعیدیں آئی ہیں، وہ لوگ جو مال جمع کر کے سانپ بن کر اس پر بیٹھ جاتے ہیں اور مستحقین کا حق غصب کرتے ہیں، ان کے لیے روزِ محشر دردناک عذاب تیار ہے، قرآن کریم کی رو سے جس سونے اور چاندی کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہوگی، اسے جہنم کی آگ میں تپا کر اس سے ان بخیلوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں کو داغا جائے گا، نبی کریم ﷺ نے صاف لفظوں میں تنبیہ فرمائی ہے کہ جس مال میں زکوٰۃ کا حصہ رہ جائے وہ پورے مال کو برباد کر دیتا ہے، قیامت کے دن یہ مال ایک زہریلے اژدھے کی شکل اختیار کر کے صاحبِ مال کے گلے کا طوق بنے گا اور اسے کہے گا کہ *میں تیرا وہ مال اور خزانہ ہوں جس کی تو نے زکوٰۃ نہیں دی تھی۔*
معاشرتی اعتبار سے زکوٰۃ کی عدم ادائیگی قحط سالی اور معاشی بے برکتی کا سبب بنتی ہے، جب کسی قوم میں زکوٰۃ روک لی جاتی ہے تو آسمان سے بارشیں روک لی جاتی ہیں اور زمین اپنی برکات چھپا لیتی ہے، یہ محض ایک مالی فریضہ نہیں بلکہ ایک غریب یتیم بچے کی تعلیم اور دینِ اسلام کی سربلندی کا ذریعہ ہے، لہٰذا ہر صاحبِ نصاب پر لازم ہے کہ وہ اسی رمضان المبارک میں اپنی زکوٰۃ نکالے اور ترجیحی بنیادوں پر مدارسِ اسلامیہ کے علمی چراغوں کو روشن رکھنے میں اپنا حصہ ڈالے تاکہ وہ اللہ کے غضب سے بچ سکے اور اس کا مال دنیا و آخرت میں اس کے لیے سکون کا باعث بنے۔

*جامعہ اشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ کا تعاون کریں*
میں جامعہ اشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ کا طالبِ علم ہوں، یہ وہ عظیم علمی قلعہ ہے جہاں سے ہر سال سینکڑوں طلبہ فارغ التحصیل ہو کر دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام اور دین کو عروج دے رہے ہیں، ہزاروں نادار اور مستحق طلبہ یہاں شب و روز عشقِ رسول ﷺ اور علومِ نبوی کی شمعیں روشن کیے ہوئے ہیں،آپ کی زکوٰۃ ان طلبہ کی کفالت اور دین کی سربلندی کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری ہے، جامعہ کی رسید میرے پاس موجود ہے، آپ کی رقم جمع ہوتے ہی رسید کاٹ کر فوراً آپ تک پہنچا دی جائے گی*تعاون کا طریقہ* آپ اپنی رقم (PhonePay) کے ذریعے اس نمبر پر ارسال کر سکتے ہیں رابطہ و اکاؤنٹ نمبر *7060827902*
​آئیے! اس ماہِ مبارک میں علمِ دین کے ان سفیروں کی معاونت کر کے اپنی آخرت سنواریں۔ جزاکم اللہ خیراً کثیرا و احسن الجزاء فی الدارين کما فی حقکم خیر آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*