🥰

*شہزادوں کا امتحان* 

*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*

*قسط نمبر 06*

اُس کی چھت سو میٹر سے زیادہ بلند تھی اور اُس میں جگہ جگہ فانوس لٹک رہے تھے۔ ان فانوسوں کی روشنی سے سارا محل سورج کی روشنی کی طرح جگمگا رہا تھا۔ جن بادشاہ شہزادے کو ساتھ لیتا ہوا ایک بلند چبوترے پر چڑھ گیا اور وہاں پڑے تخت پر ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا۔ شہزادے کو اُس نے اپنے پاس بٹھا لیا۔ محل میں کھانے تقسیم ہو رہے تھے اور اتنے زیادہ جن تھے کہ وہاں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔

شہزادے کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے چن دیے گئے۔ کھانے کے بعد خیاز بادشاہ نے شہزادے سے بات چیت کا آغاز کیا:
"اے شہزادے! ہماری خوش قسمتی ہے کہ تم جیسا بابرکت شخص ہماری سلطنت میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر تم ایک مہینے تک ہمارے ساتھ قیام کرو تو ہم اسے اپنی خوش بختی سمجھیں گے۔ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رضا ہے؟"

جن بادشاہ کی باتوں پر شہزادہ سوچ میں پڑ گیا۔ سب جن ان کی طرف متوجہ تھے اور شہزادے کو سوچ میں گم دیکھ کر سب کے چہروں پر تجسس تھا۔ شہزادہ سوچ کر بولا:
"بادشاہ سلامت! آپ کی جانب سے مجھے جو عزت ملی، سب سے پہلے میں اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یقیناً آپ کی میزبانی میرے لیے باعثِ عزت ہوگی۔ میں آپ کی خواہش پر یہاں ایک مہینے تک قیام کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔"

شہزادے کی بات سن کر محل میں تالیوں اور موسیقی کی آوازیں گونجنے لگیں۔ بادشاہ نے اُٹھ کر شہزادے کو گلے سے لگا لیا۔ خوشی سے اُس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ یہ لوگ ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ ایک جن اُڑتا ہوا سیدھا تخت کے پاس آ گیا۔ وہ سخت گھبرایا ہوا تھا:
"حضور! مداخلت کی معافی چاہتا ہوں!"

جن بادشاہ نے اُس کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا:
"سپہ سالار! کیا کوئی مصیبت آ گئی ہے جو تم اتنے گھبرائے ہوئے ہو؟"

سپہ سالار جن عاجزی سے بولا:
"حضور! جادوگر وزیر نے اپنے ساتھی جادوگروں کے ساتھ ہماری سرحد پر ڈیرا ڈالا ہوا ہے اور وہ جادوئی حصار کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

جن بادشاہ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اُس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا:
"غدار وزیر کی یہ جرات! شاہی جادوگر کو فوراً حاضر کیا جائے!"

اسی وقت ایک نوجوان جن حاضر ہو کر آداب بجا لایا:
"کیا حکم ہے، میرے آقا؟"

جن بادشاہ کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا:
"غدار وزیر کے بارے میں تم نے کچھ سنا کہ وہ کیا کر رہا ہے؟"

"جی ہاں، میرے آقا! وہ جادوئی حصار کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ جب وہ پرستان کے جنوں سے مدد مانگنے گیا ہوا تھا، اُس وقت میں نے اُس کے زیرِ تسلط علاقے پر بھی حصار کھینچ کر اُس کی حکومت ختم کر دی تھی۔ اسی لیے وہ اب ہماری اس سرحد پر بیٹھا تلملا رہا ہے جو پرستان کے ساتھ ملتی ہے۔" شاہی جادوگر نے فخریہ لہجے میں بتایا تو جن بادشاہ کا پریشان چہرہ پھر سے معمول پر آنے لگا۔

"جناب! میں قطعِ کلامی کی معافی چاہتے ہوئے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں!" شہزادے کے ذہن میں ایک منصوبہ آیا تھا۔ سب لوگ اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔

"ہاں، کہو! ہم تمہاری بات سن رہے ہیں!" بادشاہ نے اجازت دیتے ہوئے کہا۔

"اگر شاہی جادوگر ہمارے ہر جن سپاہی کے گرد جادوئی حصار کھینچ دے اور یہ تمام سپاہی غدار وزیر اور اُس کے ساتھیوں پر یکبارگی حملہ کرکے اُن کو گرفتار کر لیں—"

شہزادے نے بات مکمل کی ہی تھی کہ بادشاہ جن اور شاہی جادوگر اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھنے لگے۔

"شہزادہ حضور نے بالکل درست کہا ہے، میرے آقا! اس طرح ہم آسانی سے غدار وزیر اور اُس کے ساتھیوں کو قید کر سکتے ہیں۔" شاہی جادوگر نے جھک کر کہا۔

بادشاہ جن نے مسکراتے ہوئے اس منصوبے پر عمل کا حکم دے دیا اور شاہی جادوگر اسی وقت روانہ ہو گیا۔ شہزادے کے بروقت مشورے پر بادشاہ جن اُس کا اور بھی گرویدہ ہو گیا۔ اُس نے حازم جن کو طلب کیا، جو اُس کا مشیرِ خاص بھی تھا۔ غدار وزیر نے سب سے پہلے اسے اغوا کر کے اُس کی موت کا ڈراما رچایا تھا۔ حازم جن جیسے ہی بادشاہ کے سامنے پہنچا تو بادشاہ جن نے اُسے طلسمی آئینہ لانے کے لیے کہا۔ دو منٹ کے اندر اندر ایک بڑا سا آئینہ بادشاہ جن کے سامنے پڑا تھا۔
بادشاہ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ روشن ہو گیا۔ اب اس پر مختلف مناظر ابھر رہے تھے۔ پھر ایک دم بادشاہ چونک اٹھا۔ غدار وزیر کے ساتھ پرستان کے جادوگر بھی تھے، جنہوں نے اپنے جادو کے زور سے پرستان پر ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ وہ سب مل کر منتر پڑھ پڑھ کر جادوئی حصار پر پھونکیں مار رہے تھے۔ جادوئی حصار سبز رنگ کی ایک دیوار کی طرح نظر آ رہا تھا۔ اُن کے پھونک مارنے سے اس میں تھوڑا سا شگاف پیدا ہوتا تھا، لیکن اُسی وقت بند ہو جاتا۔ بادشاہ جن فکر مند نظر آ رہا تھا۔ اُس کے سپاہی ابھی تک وہاں نہیں پہنچ سکتے تھے۔ شہزادے نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنا ہی چاہا تھا کہ طلسمی آئینے کا رنگ آگ کی طرح سرخ ہونے لگا۔ اُس میں سے بجلی کی کڑک کی طرح آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ طلسمی آئینہ ٹوٹنے لگا ہے۔ بجلی اور شعلوں کی کڑک کافی دیر تک چلتی رہی، پھر یک دم دھماکا سا ہوا اور آئینہ تاریک ہوتا چلا گیا۔

طلسمی آئینے پر تاریکی زیادہ دیر نہ رہی۔ اب آہستہ آہستہ اس پر ستارے سے روشن ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کے فکرمند چہرے پر پہلی مرتبہ مسکراہٹ آئی۔ اُس نے لمبی سانس لی اور شہزادے کی طرف دیکھ کر خوشی سے بولا:
"شہزادے! تمہارا یہاں قدم رکھنا ہمارے لیے بہت مبارک ثابت ہو رہا ہے! پہلے ہم صحت کی جانب مائل ہوئے، پھر ہمیں غداروں کی اصلیت کا علم ہوا، اور اب ہم نے غداروں اور اُن کے پرستانی دوستوں کو گرفتار کر لیا ہے۔"

اب دوبارہ طلسمی آئینے کی سکرین پر وہی سبز دیوار نظر آ رہی تھی۔ شاہی جادوگر اور سپاہی ایک بڑے میدان میں جمع تھے۔ غدار وزیر اور کئی جادوگر جن آتشی رسیوں سے بندھے ہوئے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ جادوئی حصار کے اندر ان کی شیطانی قوتیں ختم ہو چکی تھیں۔ میدان کے ایک طرف سنہری تخت بچھا ہوا تھا۔ پھر جن بادشاہ، حازم اور شہزادہ اُڑن قالین پر اُڑتے ہوئے آئے۔ اُڑن قالین سیدھا سنہری تخت پر اترا۔ سب سے پہلے بادشاہ نے شاہی جادوگر کی تعریف کی اور اُسے انعام و اکرام سے نوازنے کے بعد اُسے وزیر بنانے کا اعلان کیا۔ شاہی جادوگر نے تسلیمات بجا لائیں اور بادشاہ کی بلند اقبالی کے لیے دعا کی۔

جنوں کے بادشاہ نے شہزادے کی طرف دیکھ کر پوچھا:
"تمہارے خیال میں ان غداروں کی سزا کیا ہونی چاہیے؟"

شہزادے نے ادب سے جواب دیا:
"بادشاہ سلامت! غدار کی سزا موت کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟ ان غداروں کو اپنی تمام رعایا کے سامنے موت کی سزا دیں تاکہ آئندہ کسی کو آپ سے غداری کرنے کی ہمت نہ ہو سکے۔"

شہزادے کی تجویز بادشاہ جن کو پسند آ گئی۔ اُس نے شاہی جادوگر کو، جو اب وزیر بن چکا تھا، سارے ملک میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کل غدار وزیر اور اُس کے ساتھیوں کو سرِ عام سزائے موت دی جائے گی۔ ملک کی تمام رعایا اس تقریب میں شریک ہو۔ غدار وزیر نے رو رو کر معافی طلب کی، لیکن بادشاہ نے غضب ناک نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھ کر منہ پھیر لیا۔

اگلے دن اُسی میدان میں جنوں کا جمِ غفیر جمع تھا۔ شہزادہ جنوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ میدان کے چاروں طرف سے غداروں کے خلاف شور بلند ہو رہا تھا۔ پھر بادشاہ نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے وزیر (شاہی جادوگر) کو حکم دیا کہ سزا کی کارروائی شروع کی جائے۔ اُسی وقت میدان میں موجود جلادوں نے غداروں کا کام تمام کر دیا اور سارے جن اپنے بادشاہ کے حق میں نعرے لگانے لگے۔ اس خوشی کے موقع پر بادشاہ جن نے اپنی تمام رعایا کے لیے دعوت کا اعلان کیا جو ایک مہینے تک جاری رہنی تھی۔

عقل مند شہزادہ سوچ رہا تھا کہ دعوت ختم ہوتے ہی وہ اپنے سفر پر روانہ ہو جائے گا۔ اسے معلوم تھا کہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے، اس لیے یہاں رہ کر وہ اپنا قیمتی وقت عیش و عشرت میں نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ لیکن شاید قدرت کو ابھی اُس کی یہاں سے روانگی منظور نہ تھی۔ ایک مہینہ ختم ہونے میں ایک دن باقی تھا اور شہزادہ جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ اسی وقت ایک اور مسئلہ آ کھڑا ہوا۔ پرستان کے غاصب جادوگروں نے بادشاہ جن کو دھمکی دے ڈالی کہ غدار وزیر کا علاقہ ہمارے حوالے کر دو، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔

بادشاہ جن بڑھاپے کی وجہ سے اپنے اعصاب پر قابو پانے میں مشکل محسوس کرتا تھا۔ اُسے خطرہ رہتا کہ کہیں کوئی غلط فیصلہ سرزد نہ ہو جائے۔ اس صورتِ حال میں اُس کی نظر بار بار شہزادے کی طرف اُٹھ رہی تھی۔ اُس کا اپنا کوئی بیٹا نہیں تھا اور اس ایک مہینے میں وہ شہزادے سے اتنا مانوس ہو گیا تھا کہ اُس کے بغیر رہنا مشکل سمجھتا تھا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا اور شہزادے سے بولا:
"شہزادے! میرا تم پر کوئی زور نہیں ہے اور نہ کوئی زبردستی، لیکن تم سے ایک مہینہ اور یہاں گزارنے کی درخواست کرتا ہوں!"

بادشاہ جن کے لہجے سے بے بسی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔ شہزادے نے نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا کر بادشاہ کی بات کا بھرم رکھتے ہوئے کہا:
"بادشاہ سلامت! میری جان آپ پر قربان! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ میں ایک مہینہ اور آپ کے پاس رہنے کے لیے بخوشی رضا مند ہوں!"

شہزادے کی بات سن کر بادشاہ خوشی سے کھل اٹھا:
"مجھے تم سے یہی امید تھی۔ تم نے میری بات کی عزت رکھ کر اپنے آپ کو انمول بنا دیا ہے! اب مجھے مشورہ دو کہ میں غاصب جادوگروں کو کیا جواب دوں؟"

شہزادہ سر جھکا کر سوچنے لگا، پھر پوچھا:
"آپ یہ بتائیں کہ اُن کے ملک کا رقبہ کتنا ہے؟"

"پرستان ہمارے ملک سے بڑا ہے۔" وزیر نے بادشاہ جن کے بولنے سے پہلے ہی جواب دے دیا۔

پھر شہزادے نے جو مشورہ بادشاہ جن کو دیا، اسے سن کر بادشاہ ہی نہیں وزیر بھی چونک اٹھا۔

"میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ غاصب جادوگروں کو غدار وزیر والا علاقہ دے دیں۔" شہزادے نے سنجیدگی سے کہا۔

"یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، جناب؟" وزیر نے چونکتے ہوئے لہجے میں کہا۔

"میں ہمیشہ کے لیے آپ لوگوں کی جان غاصب جادوگروں سے چھڑانا چاہتا ہوں۔" شہزادے نے مسکراتے ہوئے کہا۔

بادشاہ جن بھی وضاحت طلب نظروں سے شہزادے کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے وہ شدید الجھن کا شکار ہو گیا ہو۔

*جاری ہے ۔۔۔۔۔////*
♥️🌼🌸🌹