*💔غریب کا جرم صرف غربت کیوں؟💔*
کبھی سوچا ہے انسان کا سب سے بڑا جرم کیا ہے؟
کسی کا خون؟ کسی کی حق تلفی؟ کسی کا دل توڑ دینا؟
نہیں۔
بلکہ اس دنیا میں سب سے بڑا جرم غریب ہونا ہے، یہ دنیا جس انسانیت کے نعرے پہ ناز کرتی ہے وہ انسانیت ابھی فلسطین میں دیکھی جا رہی تھی اور اب سوڈان میں بھی دیکھی جانے لگی ہے مظلوم لوگوں پر ظلم کی حد ہو گئی خدارا انہیں گاڑیوں کے ٹایر کے نیچے ڈال کر کچلنا انسانیت ہے؟ انکے گھروں میں آگ لگانا انسانیت ہے؟ ان سے جانوروں کی طرح کام لینا انسانیت ہے؟ تابوت میں زندہ لوگوں کو بند کرکے انہیں زندگی سے مایوس کر دینا یہ انسانیت ہے؟ کہاں ہے وہ گورا خنزیر کا بچہ جو ہر وقت انسانیت کے جھنڈے گاڑتا ہے خنزیر کی اولادوں کہاں ہو، نکلتے کیوں نہیں تمہیں دیکھ نہیں رہا ظلم، اور خنزیر کا بچہ ایسے بیان کرتا ہے جیسے اسکی ماں کسی مذہب اسلام کے ماننے والے سے جفتی پائی ہوئی ہے،جب گوروں کا باپ ظلم کرے تو وہ ظلم نہیں بلکہ دہشت گردوں کو ختم کر رہا ہے، اور جب اس پر کوئی پلٹ وار کرے تو وہ ملک دہشت گرد ہے، کسی گورے کا خون ہو جائے، تو آسمان سے پروانے جاری ہوتے ہیں اس نے مار دیا یہ ٹیرارسٹ ہے اور جب گورے مارتے رہیں تب کوئی بات نہیں اور اسی دنیا میں ایک غریب کی چیخ شورِ بازار میں دب جاتی ہے، ایک مزدور کے بچے کا خون
کسی اخبار کی آخری سطر میں بے جان پڑا رہتا ہے، اور امیر کی ایک خراش دنیا بھر کی سرخیاں بن جاتی ہے۔
سوڈان کی جلتی گلیوں میں
ایک ماں اپنے بچے کے لاشے کو سینے سے چمٹائے بیٹھی ہے،اور آسمان پر بارود کا بادل چھایا ہے،نہ کوئی اقوام متحدہ، نہ کوئی امن کا علمبردار، نہ وہ گورے جو انسانیت کا بھاشن دیتے ہیں، کہاں ہیں وہ جو کہتے ہیں ?We stand for humanityکہاں ہے انسانیت کا نعرہ لگانے والا وہ گورا، جو فلسطین کی چیخیں نہیں سنتا، جو سوڈان کے خون کو نہیں دیکھتا؟
کیا انسان صرف وہ ہے جس کی جلد سفید ہو؟ کیا انسان صرف وہ ہیں جن کی فیکٹری ہیں؟ کیا جو صاحب ثروت ہیں بس انکا خون لال ہوتا ہے باقی سب کا پانی؟
اور کہاں ہیں وہ خودساختہ انسانیت کے ٹھیکیدار جو اسلام پر انگلی اٹھاتے ہیں، کہتے ہیں اسلام دہشت گردی کا حکم دیتا ہے۔
ارے ظالمو!
ذرا قرآن کھول کے دیکھو،
*یہ دین تو کہتا ہے: جس نے ایک جان کو قتل کیا، گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا*
پھر بتاؤ؟
سوڈان کے بچے کس جرم میں مارے گئے؟
ان ماؤں کی آہیں کس عدالت میں سنوائی جائیں گی؟
وہ ہاتھ جو بھوک میں دعائیں کرتے ہیں، ان کی ہتھیلیوں سے تمہیں کیا دشمنی ہے؟
کہاں ہیں وہ بڑے ایوانوں کے مدعی؟
کہاں ہیں وہ جو کہہ رہے تھے Freedom, Equaliti, Humanity
کیا تمہاری انسانیت صرف ڈالر کے وزن پر گھومتی ہے؟
کیا تمہارے ضمیر کی قیمت بھی تیل کے بیرلوں سے طے ہوتی ہے؟
ظالموں ان غریبوں کی چیخوں پر آسمان روتا ہے، زمین آہیں بھرتی ہے، پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹنے کی بات کرتے،
لیکن زمین پہ کسی کو پروا نہیں، کیونکہ اس کا جرم بھی وہی ہے غربت۔
میں پوچھتا ہوں؟
کیا غریب ہونا جرم ہے؟
کیا ایمان رکھنا گناہ ہے؟
کیا کمزوروں کا خون سستا ہے؟
اور کیا انصاف صرف ان کے لیے ہے جن کے پاس طاقت ہے؟
یاد رکھو: اللہ کی زمین پہ کسی کا پسینہ رائیگاں نہیں جاتا، ایک دن یہی مٹی تمہارے ایوانوں کے در و دیوار ہلا دے گی، یہ چیخیں خاموش نہیں رہیں گی، یہ آہیں ایک دن فریاد بن کر عرش تک جائیں گی، اور احکم الحاکمین اس دن تمہاری دھجیاں بکھیر دے گا، یقینا میرے رب کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی،ایک روز ظالم و مظلوم کا حساب ہوگا، جب رب پکارے گا،کہاں ہیں وہ جو خود کو انسانیت کے علمبردار کہتے تھے؟
تو نہ گورا بچے گا نہ کالا،
نہ خنزیر نسل بچے گا نہ رئیس،
بس عمل بچے گا۔
اور وہاں صرف ایک سوال گونجے گا:
تم نے فلسطین و سوڈان کے غریبوں کے لیے کیا کیا؟
میں تو کہتا ہوں:
غریب کا جرم صرف غربت نہیں،
بلکہ ہمارا جرم ہے اس کی غربت پر خاموش رہنا، اور یاد رکھنا حضرت صالح کی اونٹنی کے قاتل صرف چند لوگ تھے، باقی کو سزا اس بات پر دی گئی کہ انکا جرم خاموش رہنا تھا۔
میں سوڈان اور فلسطین اور تمام عالم میں جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہے سب کی کھلے دل سے مذمت کرتا ہوں، اور دعا گو ہوں اللہ تمام ظالمین کو نیست و نابود فرمادے، اور ظلم پر خاموش رہنے والوں کو عبرت بنا دے زمانے کے لیے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*