*صبر و رضا کا ہنر اور مقصدِ حیات*
یہ ایک خاص تحریر اس بہن، بیٹی اور دوست کے نام ہے جو اس وقت شدید ذہنی کرب اور اداسی کا شکار ہے، جس نے بوجھل دل کے ساتھ یہ بتایا کہ اس کی نسبت ایک ایسی شخصیت سے طے کر دی گئی ہے، جو اس کی پسند نہیں، میں جانتا ہوں کہ آپ خوش نہیں ہیں، میں آپ کی خاموش سسکیوں اور اداسی سے واقف ہوں، لیکن میں آپ سے ایک ایسی حقیقت بیان کرنا چاہتا ہوں جو شاید آپ کے زخموں پر مرہم رکھ دے، میری عزیز بہن، زندگی کا واحد مقصد صرف پسندیدہ انسان سے شادی کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ زندگی کا اصل حسن ایک بہترین بیٹی، غم گسار بہن، مشفق ماں، ہمدرد خالہ اور مخلص دوست بننے میں بھی پوشیدہ ہے،زندگی کا مقصد محض ایک دلہن بننا نہیں بلکہ ایک ایسی مضبوط عورت بننا ہے جو حالات کے تھپیڑوں میں بھی اپنا وقار برقرار رکھ سکے، میں آپ سے یہ التجا کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے خوابوں کو صرف رخصتی اور شادی کی تقریب تک محدود نہ کریں، بلکہ ان خوابوں کی وسعت کو قبر کی دیواروں تک دراز کریں،حقیقت تو یہ ہے کہ ہر لڑکی کے نصیب میں من چاہا جیون ساتھی نہیں ہوتا، کبھی کبھی زندگی کی خیر اور برکت ان چاہے انسان کے ساتھ بھی بانٹنی پڑتی ہے، یاد رکھیے کہ زندگی صرف ایک بندھن کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ نسلوں کی آبیاری اور ان کی عظیم تربیت کا نام ہے۔
دنیا کے کسی بھی رشتے یا مقام کو اس لیے خیرباد نہ کہیں کہ آپ کو من چاہی مرادیں نہیں ملیں، بلکہ مقصدِ حیات کی جستجو کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں، انسانی زندگی کے ہر مسئلے کا واحد اور سب سے بڑا حل برداشت ہے، یہ وہ نایاب ہنر ہے جو انسان کو ہر قسم کے ذہنی اور قلبی درد سے نجات دلا دیتا ہے، لہٰذا برداشت کرنے کا ہنر سیکھ لیں، ان چاہے مرد کو بھی جھیلنا سیکھیں اور ان چاہی مرادوں پر بھی صبر کرنا سیکھ لیں، آپ دیکھیں گی کہ آپ کی زندگی کا سفر کتنا آسان ہو جائے گا، جو انسان زمین پر چلتا ہے یا دوڑتا ہے، وہ تھک کر رک سکتا ہے، مگر یاد رکھیے کہ جو لہروں کے سینے پر تیرتا ہے وہ رک نہیں سکتا، کیونکہ اس کارکنا اسے موت کی آغوش میں لے جائے گا، ہماری بیٹیاں اور بہنیں بھی ان تیراکوں کی مانند ہیں جنہیں زندگی کے سمندر میں مسلسل ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہیں، اگر آپ ہمت ہار کر رک گئیں تو آپ تنہا نہیں ڈوبیں گی، بلکہ آپ اپنے ساتھ پورے خاندان کی عزت، وقار اور ان کی شان کو بھی لے ڈوبیں گی۔
ایک باہمت بیٹی اسی ماہر تیراک کی طرح ہوتی ہے جو پانی کی لہریں موافق ہوں یا مخالف، اپنا سفرِ حیات جاری رکھتی ہے، اگر آپ کسی ناپسندیدہ شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتیں تو اپنے پسندیدہ مرد سے کہیں کہ وہ ہمت کرے اور آپ کے والدین کے دل کو جیت کر دکھائے، اگر وہ واقعی مردانگی کا حامل ہے اور آپ کا مخلص ہے، تو اسے والدین کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے اور میں ایسی مردانگی کو سلام پیش کرتا ہوں، لیکن اگر وہ ایسا کرنے سے قاصر ہے اور صرف جذباتی باتوں تک محدود ہے، تو میری بہن، اپنی آگاہی کے تالے کھولیں اور خوش فہمی کی دنیا سے باہر نکلیں، جوانی کے جوش میں کسی لڑکی کو متاثر کر لینا کمال نہیں ہے، بلکہ قابلِ ستائش وہ مرد ہے جسے آپ اپنے باپ اور بھائیوں کے سامنے فخر سے کھڑا کریں اور وہ اس کی شخصیت کو رد نہ کر سکیں، اگر آپ کا پسندیدہ انسان اس معیار پر پورا نہیں اترتا، تو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے والدین کے فیصلے اور اس ناپسندیدہ مرد کو قبول کر لیں، یقین جانیے کہ جب آپ رب کی رضا کے لیے ایثار کریں گی، تو وہی ناپسندیدہ شخص ایک دن آپ کا سب سے پسندیدہ جیون ساتھی بن جائے گا، ان شاء اللہ، میں آپ کی اداسی تو ختم نہیں کر سکتا، مگر اپنے الفاظ سے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کر رہا ہوں، میں ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں آپ کے لیے سراپا دعا گو ہوں کہ اللہ پاک آپ کے نصیب اچھے کرے اور آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*