قسط ٤
چوتھی اور آخری قسط 
طریقۂ واردات-------ایک اقتباس
مستشرقین کا تاثر صرف ان کی ذات تک محدود نہیں اگر تنہا یہ ہوتا تو وہ ہماری توجہ کا مرکز اور ہماری اس بحث کا موضوع نہ ہوتا ، مسئلہ کا زیادہ سنگین اور دور رس پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو معقول و غیر معقول طریقہ پر ان کمزوریوں کی نشاں دہی اور ان کو نہایت مہیب شکل میں پیش کرنے میں صرف کرتے ہیں، وہ خورد بین سے دیکھتے ہیں اور اپنے قارئین کو دور بین دے دکھاتے ہیں، رائی کا پربت بنانا کا ادنیٰ کام ہے وہ اپنے کام میں(یعنی اسلام کی تاریک تصویر پیش کرنے میں) اس سبک دستی، ہنر مندی اور صبر سکون سے کام لیتے ہیں جس کی نظیر ملنی مشکل ہے، وہ پہلے ایک مقصد تجویز کرتے ہیں اور ایک بات طے کر لیتے ہیں کہ اس کو ثابت کرنا ہے پھر اس مقصد کے لیے ہر طرح کے رطب و یابس، مذہب و تاریخ، ادب و افسانہ، شاعری، مستند اور غیر مستند ذخیرہ سے مواد فراہم کرتے ہیں، اور جس سے ذرا ان کی مطلب برآری ہو (خواہ وہ صحت و استناد کے اعتبار سے کتنا ہی مجروح و مشکوک اور بے قیمت ہو ) اس کو بڑے آب وتاب سے پیش کرتے ہیں اور اس متفرق مواد سے ایک نظریہ کا پورا ڈھانچہ تیار کر لیتے ہیں جس کا اجتماعی وجود صرف ان کے ذہن میں ہوتا ہے، وہ اکثر ایک برائی بیان کرتے ہیں اور اس کو دماغوں میں بٹھانے کے لیے بڑی فیاضی کے ساتھ اپنے ممدوح کی دس خوبیاں بیان کرتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کا ذہن ان کے انصاف ، وسعت قلب اور بے تعصبی سے مرعوب ہو کر اس کی ایک برائی کو(جو تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہے) قبول کر لے، وہ کسی شخصیت یا دعوت کے ماحول تاریخی پس منظر قدرتی و طبعی عوامل و محرکات کا نقشہ ایسی خوبصورتی اور عالمانہ انداز میں کھینچتے ہیں(خواہ وہ محض خیالی ہو)کہ ذہن اسے قبول کرتا چلا جاتا ہے ،اور اس کے نتیجہ میں وہ اس شخصیت و دعوت کو اس ماحول کا قدرتی رد عمل یا اس کا فطری نتیجہ سمجھنے لگتا ہے، اور اس کی عظمت و تقدیس اور کسی غیر انسانی سر چشمہ سے اتصال و تعلق کا منکر بن جاتا ہے ، اکثر مستشرقین اپنی تحریروں میں ’زہر‘ کی ایک مناسب مقدار رکھتے ہیں، اور اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ وہ تناسب سے بڑھنے نہ پائے اور پڑھنے والے کو متنفر اور بد گمان نہ کردے، ان کی تحریریں زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں، اور ایک متوسط آدمی کا ان کی زد سے سے بچ کر نکل جانا مشکل ہے۔ 
اقتباس: مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش از مولانا ابوالحسن علی ندوی ) 
(صفحہ ٢٥٨، ٢٥٩) 
طریقہ واردات کے مراحل 
علماء مغرب(مستشرقین) اپنی تحریروں کو تین میں پیش کرتے ہیں جو ذیل میں درج کیے جاتے ہیں 
۱- مرحلہ استکشاف
یعنی مستشرقین اپنی تحریرات میں وہ اس بات کا انکشاف کرتے ہیں اسلام سے ان چیزوں کو سیکھا ، اور یہ ایک بہترین مذہب ہے اور عوام پر یہ تاثر آتا ہے کہ یہ مستشرقین کا مقصد صرف اشاعت علم ہے اور کچھ نہیں۔ 
۲- مرحلہ اختلاط 
علماء مغرب( مستشرقین)اس مرحلہ میں مذہب اسلام کی اچھائیوں کو چھپا کر اس کی برائیوں کو ظاہر کرنے کی مکمل کوشش کرتے اور اچھائی برائی کو مختلط کردیتے ہیں، ساتھ ہی ایسے نکات کو نمایاں کرتے ہیں جو کہ معاشرے کے لیے بالکل درست نا ہو جیسے کہ معاشرے کو یہ تاثر دینا کہ اسلام ایک پچھڑا ہوا ظالم مذہب ہے 
۳-مرحلہ عدوان
اس مرحلہ میں مستشرقین اسلامی تعلیمات اور اسلامی شخصیات پر کھلم کھلا حملہ کرتے ہیں ، اسطرح کی تصانیف جس میں اسلام کو نشانہ بنایا جائے اور اس کو باطل قرار دیا جائے، یعنی قرآن وحدیث اور ذات نبی ﷺ پر حملے کرنا وغیرہ، ( نعوذ باللہ) اس مرحلہ میں فقہ اسلامی اور تاریخی اسلامی کو ظالم و جابرپیش کیا جاتا ہے 
الغرض اس علمی اعتراف کے باوجود اس کے کہنے میں باک نہیں کہ مستشرقین عمومی طور پر اہلِ علم کا وہ گروہ جس نے قرآن وحدیث، سیرت نبوی ﷺ، فقہ اسلامی اور اخلاق و تصوف کے وسیع مطالعہ سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھایا اور اس سے ان کے قلب و دماغ پر کوئی بڑا انقلاب انگیز اثر نہیں پڑا۔ 

عام مسلمانوں کا استشراق اور مستشرقین کے زیراثر آنے کی وجوہات 

 ان تحریکات اور تنظیمات کے زیر اثر آنے کی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم چند وجوہات ذکر کی جاتی ہیں 
اولاً مسلم معاشرے میں کم علمی اور کم فہمی کا ہونا، یعنی امت کے عام مسلمانوں میں دین کی معلومات کا کم ہونا یا بالکل معدوم ہونا، مسلم معاشرے میں عصری علوم اور تنقیدی فکر کا فقدان بھی ایک وجہ ہے اسی کے ساتھ جب عام مسلمان اپنی دینی اور علمی فقدان کے باعث اپنی دینی اور اسلامی تہذیب وفکر کو سمجھنے کے لیے یا ان مسائل کو سمجھنے کے لیے جن تعلق اسلامی شریعت سے ہے مغربی مصادر پر منحصر ہوتے ہیں ، تو فطری طور پر مستشرقین کی فکر ان ہر حاوی ہونے لگتی ہے، الغرض علمی کم فہمی کی بنا ہر وہ اکثر مستشرقین کے وضع کردہ مصادر پر منحصر ہو جاتے ہیں ، آہستہ آہستہ ان پر استشراق کے اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں 
ثانیاً مرعوبیت ہونا یعنی میڈیا، رسالات و اخبارات کے ذریعے مستشرقین کے موقف کا اتنا پڑھا جانا کہ عام مسلمان کے ذہن میں مغربی تہذیب کے ذریعے کیے گئے بڑے بڑے کارنامے کو سنایا جاتا ہے اور اسے ایک کامیاب تصور بنا کر پیش کیا جاتا ہے خواہ ان میں برائیوں کے انبار ہوں، انہیں ہیش کردہ حقائق کو نادان مسلمان سونا سمجھ کر قبول کرتا چلا جا تا ہے جب کہ وہ پیتل ہوتا ہے 
نتیجۃً وہ اتنا مرعوب ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی بھی تحقیق ہو وہ سب قبول کرتا چلا جاتا ہے
ثالثاً اس اہم مسئلہ اور تحریک عظیم پر سکوت اختیار کرنا عام مسلمانوں اس سے مرعوب کرتا ہے اور ان کے متاثر ہونے کی وجہ بنتا ہے 
تحریک استشراق کا حل اور عملی مشورہ
اس صورت حال کی اصلاح اور مستشرقین کی تخریبی اور تشکیکی اثرات کو روکنے کی صرف یہی صورت ہے کہ ان علمی موضوعات پر مسلمان محققین و اہلِ نظر قلم اٹھائیں اور مستشرقین کی ان تمام قابلِ تعریف خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بلکہ ان کو ترقی دیتے ہوئے جو ان کا حصہ سمجھی جاتی ہیں، مستند و صحتمند اسلامی معلومات اور نقطۂ نظر پیش کریں، یہ ایسی تصنیفات ہوں جو اپنی تحقیقات کی اصلیت( originality) مطالعہ کی وسعت، نظر کی گہرائی اور عمق، مأخذ کے اسناد صحت اور اپنے محکم استدلال میں مستشرقین کی کتابوں سے کہیں فائق و ممتاز ہوں، ان میں ان کی تمام خوبیاں ہوں، اور وہ ان کی کمزوریوں اور عیوب سے پاک ہوں، دوسری طرف مستشرقین کی کتابوں علمی محاسبہ کیا جائے اور ان تلبیسات کو بے نقاب کیا جائے، متن کے سمجھنے میں ان کی غلط فہمیوں اور ترجمہ و اخذ مطلب میں ان کی غلطیوں کو واضح کیا جائے، ان کے مآخذ کی کمزوری اور ان کے اخذ کیے ہوئے نتائج کی غلطی کو روشن کیا جائے، اور ان کی دعوت و تلقین میں ان کی جو بد نیتی، مذہبی اغراض اور سیاسی مقاصد شامل ہیں ان کو طشت از بام کیا جائے اور بتایا جائے کہ یہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف کیسے گہری اور خطرناک سازش ہے۔۔ 
( اقتباس: مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش از مولانا ابوالحسن علی ندوی 
صفحہ٢٦٧،٢٦٨) 
ختم شد