*وقارِ نسواں اور قرآنی رہنمائی* 
 *سورۃ الأحزاب، آیت 35 کی روشنی میں* 

﴿اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِوَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّائِمِيْنَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا﴾

ترجمہ:
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں،
ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں،
فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں،
سچے مرد اور سچی عورتیں،
صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں،
عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں،
صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں،
روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں،
اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں،
اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں،
اللہ نے ان سب کے لیے بخشش اور عظیم اجر تیار کر رکھا ہے۔

قرآنِ مجید کی یہ آیت اُن معدودے چند آیات میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو نہ صرف مرد کے ساتھ شریکِ خطاب بنایا بلکہ ہر ہر صفت میں اسے الگ نام لے کر ذکر فرمایا۔ یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اللہ کے نزدیک قدر و قیمت، فضیلت اور نجات کا معیار جنس نہیں بلکہ ایمان اور کردار ہے۔ سورۃ الأحزاب کی یہ آیت عورت کے مقام، اس کی ذمہ داری اور اس کی اصل پہچان کو نہایت متوازن اور باوقار انداز میں واضح کرتی ہے۔

عورت آج کے دور میں مختلف آوازوں کے نرغے میں کھڑی ہے۔ کہیں آزادی کے نام پر اسے اس کی فطرت سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کہیں ترقی کے عنوان سے اس کے کردار کو ثانوی بنا دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن عورت کو اس کے اصل مرکز کی طرف لوٹاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اس کی اصل پہچان نہ سماجی نعروں سے بنتی ہے، نہ وقتی رجحانات سے، بلکہ ان صفات سے بنتی ہے جنہیں اللہ خود پسند فرماتا ہے۔

معارف القرآن میں مفتی محمد شفیعؒ اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ قرآن میں اکثر مقامات پر مردوں کا خطاب آتا ہے، عورتوں کا ذکر صراحت کے ساتھ کم محسوس ہوتا ہے۔ یہ سوال شکوے کے طور پر نہیں بلکہ فہمِ دین کی طلب کے طور پر تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، جس میں مردوں اور عورتوں کو ہر صفت میں الگ الگ ذکر کیا گیا، تاکہ یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اجر و ثواب میں کسی قسم کی صنفی تفریق نہیں۔

اس آیت میں سب سے پہلے اسلام اور ایمان کا ذکر آیا۔ اسلام سے مراد ظاہری اطاعت اور عملی سپردگی ہے، اور ایمان دل کی تصدیق اور باطنی یقین کا نام ہے۔ معارف القرآن کے مطابق اسلام اور ایمان کو الگ الگ ذکر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ دین کا کمال اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ظاہر اور باطن دونوں درست ہوں۔ اسلام ظاہری قول و قرار کا نام ہے ، جبکہ ایمان دلی تصدیق کا نام ہے۔
 اس کے بعد قنوت کا ذکر ہے، یعنی ہمہ وقت اور مسلسل اطاعت۔ یہ وہ صفت ہے جو بندے کو وقتی نیکی سے نکال کر مستقل بندگی تک پہنچاتی ہے۔ اور یہی بندۂ مومن کی پہچان بھی ہے، کہ وہ ہر وقت ہر حال میں اپنے آپکو اطاعت خداوندی کیلیے تیار رکھے، حالات خواہ کسی بھی موڑ پر ہو، نفس چاہے جس چیز پر ابھارے لیکن وہ حکم خداوندی کی اطاعت کو اپنی معراج سمجھے۔

اس کے بعد سچائی کا بیان ہے، جو قول، نیت اور عمل تینوں میں مطلوب ہے۔ مفتی شفیعؒ فرماتے ہیں کہ صدق ایمان کی بنیاد ہے اور نفاق کی ضد ہے۔ سچ میں نجات، اور جھوٹ میں ہلاکت ہے، سچائی انسان کو خداوند عالم کے دربار میں معروف بناتی ہے۔
پھر صبر کا ذکر ہے، جس میں عبادت پر ثابت قدمی، گناہ سے رکنے کا حوصلہ اور مصیبت پر شکوہ سے بچنا، تینوں شامل ہیں۔ صبر کا مفہوم ہی یہ ہیکہ آزمائشوں اور مصائب میں انسان کی زبان سے إنا للّه و إنا إليه رٰجعون ہی نکلے ، صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے اپنے لیے آسانی طلب کرے۔
 اس کے بعد خشوع کا بیان ہے، جو دل کی وہ کیفیت ہے جس میں بندہ اللہ کے سامنے عاجزی اور حضوری محسوس کرے، خصوصاً نماز میں۔ خشوع کے بغیر عبادت ایک بے روح عمل بن جاتی ہے۔

پھر صدقہ کرنے والوں کا ذکر آیا، جس میں فرض زکوٰۃ بھی شامل ہے اور نفلی صدقات بھی۔ زکوۃ، صدقہ، ہبہ ، تحفہ یہ سب محض رضائے خداوندی کیلیے مخلوق خدا کی مدد کرنے کیلیے ریاکاری سے بچتے ہوئے خرچ کرنا اللہ کے ہاں مقبول و معروف بنادیتا ہے۔
 معارف القرآن میں یہ نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ عورت اگر شوہر کے مال سے اجازت یا معروف عرف کے مطابق صدقہ کرے تو اسے پورا اجر ملتا ہے۔
 اس کے بعد روزے کا ذکر ہے، جو نفس کو قابو میں لانے اور تقویٰ پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے، خواہ وہ فرض ہوں یا نفل۔

اس کے بعد شرمگاہوں کی حفاظت کا ذکر ہے، جو پاکدامنی کی جامع صفت ہے۔ اس میں صرف بدکاری سے بچنا ہی نہیں بلکہ نگاہوں، خیالات اور اخلاقی حدود کی حفاظت بھی شامل ہے۔ یہی صفت معاشرے کی اخلاقی بنیاد ہے۔ 
آخر میں اللہ کے کثرت سے ذکر کرنے والوں کا ذکر آیا، اور معارف القرآن کے مطابق اسے آخر میں لانے کی حکمت یہ ہے کہ ذکر تمام عبادات کی روح ہے، کیونکہ اللہ کی یاد کے بغیر کوئی عمل زندہ نہیں رہتا۔ 

آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ان تمام اوصاف کے حامل مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا۔ مغفرت سے مراد گناہوں کی معافی ہے اور اجرِ عظیم سے مراد جنت اور اللہ کا قرب، اور یہ دونوں نعمتیں مرد و عورت کے لیے یکساں ہیں۔

اگر اس آیت کو آج کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صفات جتنی بلند ہیں، اتنی ہی کمیاب بھی ہوتی جا رہی ہیں۔ آج کی عورت بظاہر بہت سی سہولتوں اور مواقع کی حامل ہے، مگر باطنی استقامت، مسلسل اطاعت، خشوع اور صبر میں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ عبادت رسم بننے لگی ہے، سچائی مفاد کے نیچے دبتی جا رہی ہے، اور پاکدامنی کو قدامت کا نام دے کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، خاص طور پر نگاہوں، گفتگو اور آن لائن زندگی میں۔
ایسے ماحول میں اگر کوئی عورت قرآن کے بتائے ہوئے ان اوصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ عورت واقعی نایاب ہو جائے گی۔ وہ خاموشی سے اپنے گھر کو سنوارے گی، اپنی اولاد کی تربیت کرے گی اور اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں توازن اور وقار پیدا کرے گی۔ اس کی طاقت نعروں میں نہیں بلکہ استقامت میں ہوگی، اور اس کی پہچان شور میں نہیں بلکہ خاموش عمل میں ہوگی۔

سورۃ الأحزاب کی یہ آیت عورت کو یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ اس کی اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ وہ زمانے کے بدلتے ہوئے پیمانوں پر پوری اترے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے معیار پر پوری اتر جائے، اور نئے زمانے کی نسل کو اسی معیار پر اتارنے میں کامیاب ہوجائے۔کیونکہ جس مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ یہاں کیا گیا ہے، وہ کسی وقتی نظریے یا سماجی تعریف سے وابستہ نہیں، بلکہ انہی صفات سے مشروط ہے جو قرآن نے خود منتخب فرما کر بیان کی ہیں۔

اور یہی عورت کی اصل عزت، اصل طاقت اور اصل کامیابی ہے۔