دعاؤں کی قبولیت – رمضان کی خاص نعمت 🌙

رمضان المبارک دعا کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

**وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ**
(البقرہ: 186)
ترجمہ: “اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیجئے) میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔”

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:

**ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ**
(غافر: 60)
ترجمہ: “تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”

📖 حدیث مبارکہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

**ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا تُرَدُّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الصَّائِمِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ**
(سنن ترمذی)
ترجمہ: “تین دعائیں رد نہیں کی جاتیں: والد کی دعا، روزہ دار کی دعا اور مسافر کی دعا۔”

ایک اور حدیث میں ہے:

**إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ دَعْوَةً لَا تُرَدُّ**
(سنن ابن ماجہ)
ترجمہ: “بے شک روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی۔”


رمضان خاص طور پر دعا کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ افطار کے وقت، سحری کے وقت اور خصوصاً آخری دس راتوں میں عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت مانگیں۔