"اب مجھ سے یہ ہر دم کی روک ٹوک برداشت نہیں ہوتی..."
فون پر محوِ گفتگو بہو کو اس بات کا ادراک ہی نہ تھا کہ لہجے کی یہ تمازت اور الفاظ کی یہ کاٹ کسی کی روح کو تاحیات زخمی کر سکتی ہے۔ دروازے پر شربت کا گلاس لیے ماں کھڑی تھی، جس نے اپنی محبت کا نذرانہ پیش کرنے سے پہلے ہی اپنی تذلیل کا نوحہ سن لیا۔ وہ وہیں سے خاموشی سے پلٹ گئی، اس ڈر سے نہیں کہ اس کی انا کو ٹھیس پہنچی، بلکہ اس لیے کہ بہو کی "پرائیویسی" میں خلل نہ پڑے۔ مگر اس واپسی میں قدموں کی چاپ نہیں، ایک ٹوٹتے ہوئے وجود کی سسکیاں تھیں۔
یہ ہماری جدید نسل (Gen Z) کا ایک المیہ ہے؛ وہ نسل جو ٹیکنالوجی میں روشنی کی رفتار رکھتی ہے، جس کی صلاحیتیں آسمان چھوتی ہیں، مگر جس کا ظرف "برداشت" کے نام پر کھوکھلا ہو چکا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ ماں جس نے اپنے لختِ جگر کو زمانے کی سرد و گرم ہواؤں سے بچا کر، پچیس تیس سال کی کٹھن محنت کے بعد ایک تناور درخت بنا کر تمہارے حوالے کر دیا تاکہ تم اس کے سائے میں سکون پاؤ، آج
وہی ہستی تمہارے لیے بوجھ بن گئی؟
ہمیں لوٹنا ہوگا اپنی اصل کی طرف!
ہم اس نبیِ رحمت ﷺ کی امت ہیں جنہوں نے طائف کے بازاروں میں لہولہان ہو کر بھی بددعا نہ دی، جنہوں نے اپنوں کے دیے ہوئے زخموں پر صبر کا مرہم رکھا۔ مگر آج ہمارے آئیڈیل سیرتِ طیبہ کے بجائے وہ ڈرامے اور فلمیں ہیں جو ساس بہو کے مقدس رشتے کو ایک جنگ کا میدان بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہم ان فرضی مظلوم کرداروں میں خود کو اتنا ڈھال لیتے ہیں کہ حقیقت کے رشتوں کی خوشبو بھول جاتے ہیں۔ شوہر اور بیوی کو اللہ نے ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا ہے اور ہم بیویوں میں کہیں نہ کہیں یہ عدم برداشت بے سکونی کا سبب بن رہا ہے۔
قرآنِ کریم نے والدین کے معاملے میں کتنا سخت اور واضح حکم دیا ہے:
"فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا"
(ترجمہ: تو ان سے 'اُف' بھی نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے خوبصورت (ادب والی) بات کرنا۔) — (سورۃ الاسراء: 23)
اے بنتِ حوا! یاد رکھو کہ تم گھر جوڑنے والی بن سکتی ہو، توڑنے والی نہیں۔ تم وہ پل ہو جو بھائیوں کو بھائیوں سے،بہنوں سے اور بیٹوں کو ماؤں سے جوڑتا ہے۔ اللہ نے تمہیں ایک خوبصورت رشتے میں پرویا ہے، اسے اپنے تلخ لہجے کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔ کیا ہوا اگر ساس نے کچھ کہہ دیا؟ وہ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں زمانے کی تلخیوں نے شاید ان کے لہجے میں تھوڑی سختی پیدا کر دی ہو، مگر ان کا تجربہ اور ان کی دعائیں تمہارے گھر کی برکت ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت و توقیر نہ پہچانے۔" — (جامع ترمذی)
تم اپنے شوہر کی جنت (یعنی اس کی ماں) کو اجاڑ کر خود اپنی جنت کیسے پا سکتی ہو؟ تم چاہتی ہو کہ تمہارا شوہر تمہارے لیے بہترین ہو، مگر کیا تم چاہتی ہو کہ وہ اپنی اس جنت سے محروم ہو جائے جس کے قدموں تلے رب نے اس کی کامیابی رکھی ہے؟
بدگمانی کے جال سے نکلیں اور درگزر کو اپنا شیوہ بنائیں۔ یاد رکھیں، کل آپ نے بھی ساس بننا ہے۔ جو بیج آج آپ بو رہی ہیں، کل وہی فصل آپ کو کاٹنی پڑے گی۔ اپنے گھر کو 'سیرت' کے نور سے منور کریں، 'ڈراموں' کی آگ سے نہیں۔
ساس کو چاہیے کہ وہ بہو کو "پرايا" سمجھنے کے بجائے اسے اپنی بیٹی کا مقام دے۔ یاد رکھیں، وہ آپ کے بیٹے کی شریکِ حیات اور آپ کی نسلوں کی امین ہے۔ اگر آپ اس کی چھوٹی غلطیوں پر شفقت کا پردہ ڈالیں گی، تو وہ آپ کے گھر کو جنت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ ہر دم کی "روک ٹوک" اور "تجسس" رشتوں کی خوشبو کو ختم کر دیتا ہے۔ اسے سانس لینے کی جگہ (Space) دیں تاکہ وہ آپ سے ڈرے نہیں، بلکہ آپ سے محبت کرے۔
بدگمانی سے بچیں اور صلہ رحمی کو اپنائیں۔ بہو اپنے شوہر کی جنت (ماں) کا خیال رکھے، اور ساس اپنے بیٹے کی خوشی (بیوی) کا پاس رکھے۔ جب دونوں طرف سے "انا" ختم ہو کر "احترام" شروع ہوگا، تبھی ایک ایسا گھرانہ وجود میں آئے گا جس پر فرشتے بھی رشک کریں گے۔بیٹوں کو چاہیٔے کی ہر کہی ہوئی بات پر بلا تحقیق فوراً ردعمل نہ ظاہر کرے خواہ وہ بیوی کی طرف سے ہو یا بجانب ماں۔
نوٹ: مضمون پڑھتے ہوۓ اپنامحاسبہ کریں ناکہ اپنے مقابل کی خامیوں کو کریدیں!
از قلم:زا-شیخ