تہجد اللہ سے وفا ۔۔۔۔
تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا و طمعا و مما رزقنٰھم ینفقون ۔
اس آیت میں میرا رب تعریف کر رہا ہے جو تہجد کے وقت اٹھتے ہیں ، اپنے رب سے باتیں کرتے ہیں ، اس کے سامنے روتے ہیں ، سجدوں میں سر رکھتے ہیں، اللہ انہیں دیکھ کے خوش ہوتا ہے۔
تہجد اللہ اور بندے کے درمیان ایک خاموش تعلق ہوتا ہے جب بندہ اپنے رب سے ہمکلام ہوتا ہے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ساری دنیا سوئی ہوئی ہوتی ہے صرف وہی اٹھتا ہے جسے رب اٹھانا چاہے اس وقت اٹھنا اپنے رب سے باتیں کرنا اپنی ہر بات بتانا اس وقت کوئی نہیں ہوگا جو اپ کو پریشان کرے ، اپ کو پکارے ، نہ لوگوں کی آواز ، نہ شور ، نہ کوئی کام ، بس بندہ اور اس کا رب ، کتنا سکون دے لمحہ ہوتا ہے جب رب متوجہ ہوتا ہے اور کہتا ہے مانگ میرے بندے کیا مانگتا ہے۔
تہجد پڑھنے والے کی مثال اس بلب کی طرح ہے جو روشن ہوتا ہے اندھیروں میں ، ایسے ہی تہجد پڑھنے والے اپنے اس پاس سوئے ہوئے لوگوں کے درمیان اسی روشن بلب کے مانند ہوتے ہیں۔
اللہ خوش ہوتا ہیکہ میرے بندے نے ارام کو ترجیح نہیں دی یہ میرے پیارے بندے ہیں جو اپنے بستروں کے بے وفا بن جاتے ہیں ،جسم ٹوٹتا ہے ،نیند اتی ہے ، لیکن اپنے کو اٹھاتے ہیں منہ دھوتے ہیں اور جائے نماز بچھاتے ہیں اور کھڑے ہو جاتے ہیں میرا رب ان کو دیکھ دیکھ کے خوش ہوتا ہے کیسا سکون ہے اس وقت صرف بندہ اور اس کا رب اور بندے کی سرگوشیاں۔
رب سے باتیں کیا کریں تنہائی میں سکون سے تہجد اللہ سے وفا ہوتی ہے میرا رب تعریف کرتا ہے رات کی اٹھنے والوں کی۔
تہجد کو زندگی کا حصہ بنا لو،کیونکہ جوانی کی عبادت اللہ سے محبت کے ایسے رشتے بنا دیتی ہے جو سانسوں کے ٹوٹنے پر ہی ختم ہوتی ہے۔یہ دنیا بہت رنگین ہے اور دل بہت کمزور۔اس کی رنگینی میں کھو کر اللہ کو ہی بھول جاتا ہے۔
تنہائی ہی تو ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے، لوگوں کے چھوڑ جانے سے گھبرایا نہ کرو،جب ساتھ کوئی نہ ہو تو دل خود ہی اللہ کی طرف رجوع کرنے لگتا ہے۔ہم خود ہی اپنی باتیں اللہ سے شیئر کرنے لگتے ہیں۔وہ آنسو جو دن بھر روک کر رکھے ہوتے ہیں رات کو اللہ کو اپنی کہانی سناتے ہیں اس لںٔے خود کو تنہا محسوس نہ کیا کرو اللہ ہے نا وہی تمہاری تنہاںٔی کا سکون ہے
تنہا سجدوں میں بہتے ہیں اشک ندامت کے دھارے
یہی ہے وفا کے قصے، یہی عشق کے اشارے۔
تہجد اللہ سے وفا کا حسین اظہار ہے یہ عبادت بندے کو دنیا کی بے ثباتی سے نکال کر اللہ کی دائمی محبت کی طرف لے جاتی ہے جو شخص تہجد کو اپنا معمول بنا لیتا ہے وہ دراصل اپنے رب سے سچی وفا کا عہد کر لیتا ہے۔
جو اٹھے تیرے لںٔے وہ کبھی خالی نا جاے
تیری رحمت کا سمندر اسے آغوش میں سماے
انمول ✍️