🥰
*شہزادوں کا امتحان*
*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*
*قسط نمبر 04*
*بہادر شہزادہ جلتی بستی میں*
جڑی بوٹی کھانے کے بعد بہادر شہزادہ کتنی دیر سویا رہا، یہ اسے معلوم نہ ہو سکا۔ اُسے دھوپ کی سخت تپش محسوس ہوئی تو اُس کی آنکھیں کھل گئیں۔ شہزادے کو اپنے جسم میں سستی سی محسوس ہو رہی تھی۔ اُس کے ذہن میں گزرے ہوئے واقعات ایک ایک کر کے گھومنے لگے اور نگاہیں بے اختیار پہاڑ کی چوٹی کی جانب اُٹھ گئیں، جہاں اُس نے آخری مرتبہ لوگوں کو ڈھول بجاتے ہوئے دیکھا تھا، لیکن اب وہاں کچھ بھی نہ تھا۔
اس کا گھوڑا ابھی تک اپنی سابقہ حالت میں لیٹا ہوا تھا۔ شاید اُس نے بوٹی کی زیادہ مقدار کھا لی تھی۔ شہزادے نے گھوڑے کے پاس بیٹھ کر اس کے جسم پر مالش کرنے کے انداز میں ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ دھوپ کی وجہ سے اُس کا جسم پہلے ہی گرم ہو رہا تھا۔ شہزادے نے اپنی چھاگل سے پانی نکال کر کچھ خود پیا اور تھوڑا سا ہاتھ میں لے کر گھوڑے کے منہ میں ڈالا۔ گھوڑے نے زبان باہر نکالی تو شہزادے نے اس کی زبان پر پانی ٹپکایا۔ اب گھوڑے کے جسم میں بھی حرکت پیدا ہونا شروع ہو گئی تھی۔
شہزادے نے گھوڑے کو اُسی حالت میں چھوڑا اور خود اُس بوٹی کو چل پھر کر دیکھنے لگا، جس کے اثرات نے ان دونوں کو گہری نیند سلا دیا تھا۔ اُس نے ساری جگہ کا جائزہ لیا۔ یہ جنگلی بوٹی صرف سو میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ شہزادے نے بوٹی کے کافی سارے پتے توڑ کر ایک تھیلے میں ڈال لیے اور واپس گھوڑے کے پاس آ گیا۔ گھوڑا اُٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد وہ کامیاب ہو گیا۔
شہزادہ بڑی گہری نظروں سے گھوڑے کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ وہ مستقبل میں اس جڑی بوٹی کو کام میں لانا چاہتا تھا۔ وہ حیران تھا کہ گھوڑے جیسا قوی جانور اس بوٹی کے اثر سے نہ بچ سکا، اور وہ خود جو اکیلا ہو کر سو جنگجو آدمیوں کو ایک ہی حملے میں شکست دے دیتا تھا، اتنی آسانی سے نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا۔
کافی دیر بعد اُس کا گھوڑا سفر کے لیے تیار تھا۔ شہزادے نے اپنا مال و اسباب گھوڑے پر لادا اور دوبارہ آگے بڑھنے لگا۔ آدھا دن سفر کرنے کے بعد پہاڑیوں کا سلسلہ کم ہوا تو شہزادے کی نظر دور ایک بستی پر پڑی۔ وہ گھوڑے سے اتر کر اسی طرف چلنے لگا۔ گھوڑا اس کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔
بستی کے نزدیک پہنچ کر شہزادے نے دیکھا کہ ساری بستی کے گھر جلے ہوئے تھے۔ یہاں کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اُس کا تجسس بڑھتا گیا اور وہ بستی میں داخل ہو گیا۔ بستی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ آٹھ دس گلیاں گھومنے کے بعد بستی ختم ہو گئی۔ شہزادے نے گھاس پھونس سے بنے گھروں میں جا کر دیکھا، جہاں ابھی تک اناج موجود تھا۔ جلنے کی بو بھی ابھی تک آ رہی تھی، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اسے جلے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری۔
شہزادے کی سمجھ میں اس کے جلنے کی وجہ نہ آ سکی اور وہ بوجھل قدموں سے ایک نسبتاً چھوٹی پہاڑی کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے ایک ٹیلے کے پاس اُسے زمین پر سرخ دھبا نظر آیا۔ اُس نے ہاتھ لگا کر سونگھا تو شہزادے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یہ انسانی خون تھا۔
وہ دیوانہ وار ادھر اُدھر دیکھنے لگا اور پھر ایک چھوٹے سے گڑھے میں اُسے انسانی جسم پڑا نظر آیا۔ وہ بھاگ کر اس تک پہنچا اور نبض پر ہاتھ رکھ دیا۔ نبض چل رہی تھی اور اُس کے سر کے ایک طرف خون جما ہوا تھا۔ شہزادے نے اُسے کندھے پر ڈال کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے لٹا دیا اور پانی سے زخم صاف کر کے سر کو کپڑے سے باندھ دیا۔
پانی پڑنے کی وجہ سے وہ نوجوان ہوش میں آنے لگا۔ اُس کی عمر اٹھارہ اور بیس سال کے درمیان تھی۔ اُس کی آنکھیں کھلنے لگیں۔ شہزادے کو قریب دیکھ کر وہ دہشت سے کانپنے لگا اور اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی، لیکن دو قدم کے بعد گر گیا۔
شہزادہ دوبارہ اس کے پاس آیا اور اسے تسلی دی کہ میں تمھارا دوست ہوں۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے شہزادے کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں سے ابھی تک خوف جھلک رہا تھا۔ شہزادے نے گھوڑے پر لدے تھیلے میں سے پانی اور خوراک نکال کر اُس کے سامنے رکھی تو اُس کی جھجک قدرے کم ہوئی۔
“کھاؤ! شاباش، تھوڑا سا کھا لو، تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگتی۔”
شہزادے نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا تو وہ ہڑبڑا کر کھانے لگا۔ شہزادے نے بھی تھوڑا سا کھانا کھایا اور گھوڑے کو گھاس چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔
“کیا تمھارا تعلق اس بستی سے ہے؟” شہزادے نے نوجوان سے پوچھا۔
اُس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“اچھا، مجھے بتاؤ کہ اس بستی کی یہ حالت کیسے ہوئی؟” شہزادے نے دوبارہ پوچھا۔
نوجوان روتے ہوئے بتانے لگا:
“پہلے ہم بہت دور، پہاڑوں کے اُس طرف رہتے تھے، جہاں اور بھی بہت ساری چھوٹی چھوٹی بستیوں کا ایک مجموعہ تھا۔ ایک دن بڑے میلے میں ہماری بستی کے ایک لڑکے سے دوسری بستی کا لڑکا زخمی ہو گیا۔ زخمی ہونے والا لڑکا بستی کے سردار کا بیٹا تھا۔ وہ سردار بہت طاقت ور تھا۔ اس نے ہمارے سردار سے کہا کہ وہ لڑکا میرے حوالے کرو جس نے میرے بیٹے کو زخمی کیا ہے، لیکن ہمارے سردار نے لڑکا اُس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
وہ اُس وقت تو کچھ نہ بولا، لیکن ہمارے سردار کو پتا تھا کہ وہ ہماری بستی پر ضرور حملہ آور ہوگا۔ اُس نے بستی کی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو فوری طور پر وہاں سے نکال کر بہت دور اس جگہ بھیج دیا، تاکہ وہ ان کی طرف سے بے فکر ہو کر دشمن کا مقابلہ کر سکے۔
ہمارے سردار کی توقع کے مطابق اُنھوں نے رات کو حملہ کر دیا۔ ہمارے جوان بڑی بہادری سے لڑے، لیکن دشمن تعداد میں زیادہ تھے، اس لیے ہمارے کافی لوگ ہلاک ہو گئے اور باقی ہار ماننے پر مجبور ہو گئے۔ دشمن ہماری بستی میں لوٹ مار کر کے چلے گئے۔
ہم پچھلے آٹھ سال سے یہاں آباد ہیں۔ ان بستیوں کے لوگ اس طرف نہیں آتے۔”
قسمتی سے دو دن پہلے یہاں سے کچھ وحشی قبائل گزرے تو اُن کی نظر ہماری اس بستی پر پڑ گئی۔ اُنھوں نے ظالم سردار کو اس کی اطلاع دے دی۔ اس نے رات کو حملہ کر کے ساری بستی کو جلا دیا۔ وہ ہمارے سارے لوگوں کو پکڑ کر لے گئے۔ میں اُس وقت ادھر بھاگا اور کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ اس کے بعد مجھے اب ہوش آیا ہے۔
شہزادے کو یہ سارا واقعہ سن کر بہت افسوس ہوا۔ نوجوان داستان سنا کر پھر رونے لگ گیا تھا۔ اُسے اپنی بستی کے لوگ یاد آ رہے تھے۔ شہزادے نے اُسے رونے دیا تاکہ اس کا غم کم ہو جائے۔ جب وہ جی بھر کر رو چکا تو شہزادے نے اُس سے پوچھا:
“کیا تم مجھے اُن بستیوں کی طرف لے کر جا سکتے ہو؟ میں تمھاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔”
نوجوان ڈرتے ہوئے بولا:
“آپ اُس طرف جانے کے بارے میں کچھ مت سوچیں! وہ لوگ آپ کو بھی مار ڈالیں گے!”
اُس کی بات سن کر شہزادہ ہنس پڑا:
“میں ایک مہم جو ہوں اور ایک ہی حملے میں سو جنگجوؤں کا اکیلے خاتمہ کر سکتا ہوں!”
نوجوان شہزادے کی بات سن کر اُسے غور سے دیکھنے لگا۔
“اب زیادہ نہ سوچو بلکہ اُن لوگوں تک میری رہنمائی کرو، تاکہ تمھاری بستی کے لوگوں کو اُن سے چھڑا سکوں۔”
شہزادے نے اُسے سہارا دے کر اٹھایا اور دونوں گھوڑے کی طرف بڑھ گئے۔ دونوں گھوڑے پر سوار ہوئے اور نوجوان کی رہنمائی میں ظالم سردار کی بستی کی طرف روانہ ہو گئے۔
*عقل مند شہزادہ تاریک سرنگ میں*
عقل مند شہزادے کو جنّوں کی قید میں دس دن گزر چکے تھے۔ کھانے کے وقت اُس کے سامنے اچانک دسترخوان بچھ جاتا اور جب وہ کھا چکتا تو خود بخود غائب ہو جاتا۔
دسویں دن جیسے ہی وہ کھانے سے فارغ ہوا تو اُسے باریک سی آواز سنائی دی۔ وہ اُسے واضح طور پر نہ سمجھ سکا۔ وہی باریک آواز دوبارہ سنائی دینے لگی۔ اب شہزادے نے غور کیا تو اُسے الفاظ سمجھ آنے لگے۔ کوئی کہہ رہا تھا:
“شہزادے! جواب دو، کیا تم میری آواز سن سکتے ہو؟ جواب دو!”
شہزادہ سرگوشی کے انداز میں بولا:
“ہاں، میں سن رہا ہوں، مگر تم کون ہو؟”
آواز آئی:
“تمھاری طرح میں بھی یہاں ساتھ والی کوٹھڑی میں قید ہوں۔ میرا نام حازم جن ہے۔ میری طرح یہاں اور بھی بہت سے جن قید ہیں جو بادشاہ کے فرمانبردار ہیں، لیکن غدار وزیر نے ہمیں یہاں قید کر دیا ہے۔ وہ جادوگر بھی ہے اور اُس نے جادو کے زور سے ہماری طاقتیں بھی ختم کر دی ہیں۔ تمھارے یہاں آنے سے ہماری طاقتیں آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہیں۔ ہم سب ساتھیوں نے آپس میں رابطہ کیا ہے… کیا آپ کو میری آواز آ رہی ہے؟”
حازم جن نے درمیان میں بات روکتے ہوئے پوچھا۔
“جی ہاں! میں آپ کی آواز سن رہا ہوں۔ آپ اپنی بات جاری رکھیں۔”
شہزادے نے بے تابی سے کہا۔ اُسے اندھیرے میں اُمید کی کرن نظر آنے لگی تھی۔
حازم جن دوبارہ بولا:
“میں کہہ رہا تھا کہ ہم سب قیدی ساتھیوں نے آپس میں رابطہ کیا ہے اور ہم سب کی طاقت واپس آ رہی ہے۔ یقیناً بادشاہ سلامت بھی تیزی سے تندرست ہو رہے ہوں گے۔ اُنھیں آپ کی آمد کی اطلاع مل چکی ہوگی۔ اب ہم یہاں سے فرار کا منصوبہ بنا رہے ہیں، لیکن ہمارے فرار ہونے کے بعد آپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔”
شہزادے نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے کہا:
“جادوگر وزیر مجھے قتل بھی تو کروا سکتا ہے!”
حازم جن بولا:
“جناب، آپ مجھے بات مکمل کرنے دیں کیونکہ کسی بھی وقت سردار جن آ سکتا ہے۔ وزیرِ جادوگر آپ کو ہرگز قتل نہیں کرے گا، کیونکہ شاہی نجومی کے مطابق جو شخص آپ کو قتل کرے گا یا کسی دوسرے سے قتل کروائے گا، اگلے ہی لمحے وہ خود مچھلی بن کر جادوئی نہر میں جا گرے گا اور وہاں سے بادشاہ سلامت کا پالتو بگلا اُسے شکار کر لے گا۔”
شہزادہ اس جواز پر کچھ مطمئن ہو گیا۔
حازم بولتا جا رہا تھا:
“ہمیں امید ہے کہ آج رات تک ہماری اتنی طاقت لوٹ آئے گی کہ ہم اپنی صورت تبدیل کر سکیں، لیکن ہم آپ کو کسی اور شکل میں تبدیل نہیں کر سکتے۔ آپ اسی حالت میں ہمارے ساتھ یہاں سے نکلیں گے۔ صبح تک آپ انتظار کریں۔ ہم آپس میں مشورہ کر رہے ہیں اور میرے ساتھی ضرور کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔”
حازم جن خاموش ہو گیا۔
عقل مند شہزادہ سوچنے لگا کہ کہیں اُس کے ساتھ دوبارہ دھوکا نہ ہو جائے، لیکن یہ سوچ کر خاموش رہا کہ قید سے نکلنے کا کوئی راستہ تو نظر آ رہا ہے۔ یہاں سے نکلنے کے بعد ہی اگلا منصوبہ بنایا جا سکتا تھا۔
شہزادے کو رہائی کی خوشی میں رات بھر نیند نہ آئی۔
اگلے دن صبح صبح وہی پتلی سی آواز پھر سنائی دینے لگی:
“کیا آپ میری آواز سن رہے ہیں؟”
شہزادہ فوراً بولا:
“جی، بالکل سن رہا ہوں!”
حازم جن جلدی جلدی کہنے لگا:
“رات کو ہمارا ایک ساتھی سانپ کی شکل اختیار کر کے ساری سرنگ کا جائزہ لے چکا ہے۔ اس سرنگ کے بائیس دروازے ہیں۔ ان سب پر جادوگر وزیر نے ایسے جنوں کو پہرے پر بٹھا رکھا ہے جو جادو جانتے ہیں۔ ہم نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ خرگوش کی شکل اختیار کر کے سرنگ کے نیچے ایک اور سرنگ بنائیں، جو جادوگر وزیر کے زیرِ اثر علاقے سے باہر جا کر نکلے۔ اس سلسلے میں رات بھر کام جاری رہا ہے اور ہمیں بہت کامیابی ملی ہے۔”
امید ہے کہ ہم آج اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ آپ تیار رہیں۔ کسی بھی وقت ہم آپ کو یہاں سے نکلنے کا اشارہ دے سکتے ہیں۔ اور ہاں! ہم نے سرنگ اتنی چوڑی کھود دی ہے کہ اُس میں سے آپ بہ آسانی نکل سکتے ہیں۔ اب آپ نے کوئی سوال نہیں کرنا کیونکہ سردار جن آپ کے لیے ناشتہ لانے والا ہے۔
ایک دم آواز بند ہو گئی اور دوسرے ہی لمحے شہزادے کے سامنے دسترخوان سج گیا۔ شہزادے نے حسبِ معمول ناشتہ کیا، حالاں کہ آج اُس کا ناشتہ کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ جیسے ہی وہ ناشتے سے فارغ ہوا، دسترخوان غائب ہو گیا۔ اس کا مطلب تھا کہ سردار جن جا چکا ہے، لیکن حازم جن کی ہدایت کے مطابق وہ خاموش رہا۔
انتظار طویل ہوتا جا رہا تھا اور ایک لمحہ گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ اگر شہزادے کو رہائی کی خبر نہ سنائی جاتی تو شاید وہ پہلے کی طرح یہ دن بھی گزار دیتا، لیکن آج وہ ایک ایک پل گن کر گزار رہا تھا۔
پھر دوپہر کا کھانا آ گیا۔ شہزادے نے بڑی مشکل سے کھانا کھایا۔ جب دسترخوان واپس چلا گیا تو شہزادے کو وہی پتلی سی آواز سنائی دینے لگی:
“شہزادے! مبارک ہو، سرنگ مکمل ہو چکی ہے۔ اب آپ تیار ہو جائیں۔”
شہزادہ فوراً اٹھتے ہوئے بولا:
“میں تیار ہوں!”
حازم کی آواز دوبارہ سنائی دی:
“ہم سانپوں کا روپ اختیار کر کے باہر نکلیں گے اور دو سانپ آپ کی کوٹھڑی کی سلاخوں کو ٹیڑھا کر کے آپ کے نکلنے کا راستہ بنائیں گے۔ آپ نے ڈرنا نہیں ہے۔ میرے ساتھی آ رہے ہیں۔”
اسی وقت شہزادے کو سلاخیں ٹیڑھی ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ وہ جلدی سے سلاخوں کی طرف بڑھا۔ اُس نے پہلا قدم باہر رکھا ہی تھا کہ چاروں طرف سانپ رینگتے ہوئے نظر آنے لگے۔ ایک سانپ نے شہزادے کی ٹانگوں کے گرد کنڈلی مار لی۔ شہزادے کو اپنے قدم زمین سے اُٹھتے محسوس ہوئے۔
چند لمحوں بعد وہ ایک تنگ سی سرنگ میں اُڑتا جا رہا تھا۔ سانپوں کی رفتار بہت تیز تھی اور اُن کے اُڑنے سے خوف ناک آوازیں پیدا ہو رہی تھیں۔ شہزادے نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔
پھر اُسے ایک ناگوار سی بو محسوس ہونے لگی اور اُس کا دماغ چکرا کر رہ گیا۔ سانپوں کی آوازوں میں بھی تیزی آ گئی تھی۔ پھر شہزادے کے حواس اُس کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ آخری لمحوں میں اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے اُسے زور سے زمین پر پٹخ دیا ہو۔
پھر اُسے کچھ ہوش نہ رہا۔
*جاری ہے ۔۔۔۔۔/////*
🌸🌹♥️🌼