43 مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

"نسلِ نو کا بحران _ تربیت کی کمزوری یا معاشرتی زہر؟"

     تمہید

اولاد اللہ کی وہ نعمت ہے جسے انسان اپنی زندگی کا سکون اور آخرت کا سرمایہ سمجھتا ہے۔ مگر یہی نعمت اگر تربیت سے محروم رہ جائے تو باعثِ آزمائش بن جاتی ہے۔ آج کے اس دورِ فتن میں جب گناہوں کی یلغار ہر سمت ہے، اور میڈیا، ماحول، اور معاشرہ مل کر کردار سازی کو کھوکھلا کر رہے ہیں، ایسے میں والدین پر ایک دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ایمان کی حفاظت کریں بلکہ اپنی نسلوں کی تربیت کو بھی ایمان کا حصہ سمجھیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

> "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا"

(سورۃ التحریم: 6)

"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ والدین پر نہ صرف اپنی اصلاح فرض ہے بلکہ اپنی اولاد کو گمراہی اور برائی کے راستے سے بچانا بھی عین دینی فریضہ ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

> "کُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ"

(صحیح بخاری و مسلم)

"تم میں ہر شخص نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"

یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ تربیت صرف تعلیم دینے کا نام نہیں، بلکہ جواب دہی کی ایک امانت ہے۔

زمانہ بدل گیا، لیکن افسوس کہ اس کے ساتھ انسان کی اقدار، شرم و حیا، اور تربیت کا توازن بھی بگڑ گیا۔ آج والدین کے چہروں پر سب سے بڑی تشویش یہی ہے کہ ’’آخر ہم اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟‘‘ کیونکہ وہ معاشرہ جس میں آج کے بچے پرورش پا رہے ہیں، وہ خود گناہوں اور فتنوں کا گڑھ بن چکا ہے۔

یہ کوئی مبالغہ نہیں — حقیقت یہی ہے کہ آج ہر گھر خواہ حاجی و نمازی کا ہو یا ایک عام انسان کا، کسی نہ کسی شکل میں زہرِ معاشرت میں ڈوبا ہوا ہے۔ گھروں میں وہ آلہ جسے ہم "ٹی وی" کہتے ہیں، آج تربیت کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ "کڈس چینلز" کے نام پر کارٹون، مغربی نظریات، بے مقصد تفریح، اور وقت کا زیاں بچوں کی معصومیت کو نگل رہا ہے۔ جو چیز کبھی علم و اخلاق کا ذریعہ تھی، وہ اب نفس و شہوت کا ذریعہ بن گئی ہے۔

بچوں کے دل و دماغ پر وہ تصویریں، وہ آوازیں، اور وہ کردار چھا گئے ہیں جو دین، ادب اور اخلاق سے کوسوں دور ہیں۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ آج کے بچے نہ صرف زبان درازی کرتے ہیں بلکہ "مرنے"، "خودکشی کرنے" یا "گھر چھوڑ دینے" جیسی دھمکیاں دینے لگے ہیں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں کبھی والدین اپنے کانوں سے سننے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔

آخر یہ بیماریاں کہاں سے آئیں؟

جواب آسان ہے: یہ بگاڑ صرف والدین کی کوتاہی کا نہیں بلکہ پورے معاشرتی نظام کا نتیجہ ہے۔

آج نہ گھر محفوظ ہیں، نہ گلیاں، نہ اسکول، نہ سوشل میڈیا۔

ہر طرف ایک "ٹچ کلچر" پھیل چکا ہے. 

جہاں ایک بچہ دوسرے کی عادتوں سے، زبان سے، اور رویے سے متاثر ہوتا ہے۔

والدین اگر ایک بچے کو روکتے ہیں تو وہ باہر جا کر دوسرے سے وہی چیز سیکھ لیتا ہے۔

یقیناً، والدین کی نیت اچھی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے نیک اور صالح بنیں۔ مگر جب پورا ماحول زہر آلود ہو جائے تو ایک فرد کی کوشش کب تک کامیاب رہے؟

یہی وجہ ہے کہ آج کے والدین اپنے ہی گھروں میں بے بس ہیں، ان کے چہروں پر شرمندگی، دل میں درد، اور زبان پر ایک ہی فریاد ہے:

“ہم کیا کریں؟”

حقیقت یہ ہے کہ تربیت محض نصیحت سے نہیں، ماحول سے ہوتی ہے۔

اگر والدین خود موبائل میں ڈوبے ہوں، اگر گھر میں ٹی وی دن رات چل رہا ہو، اگر گفتگو میں دنیاوی لذتوں کا ذکر زیادہ ہو تو پھر بچہ کہاں سے نیکی سیکھے گا؟

آج کے دور میں تربیت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ بچے کو نماز پڑھنا سکھا دیا جائے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے دل میں خوفِ خدا، محبتِ رسول ﷺ اور حیا کی جڑیں مضبوط کی جائیں۔

والدین کو چاہیے کہ:

گھر میں "تربیتی ماحول" قائم کریں، نہ کہ تفریحی شورگاہ۔

بچوں سے روزانہ بات کریں، ان کے احساسات سنیں۔

موبائل، انٹرنیٹ، اور ٹی وی کے استعمال پر حد مقرر کریں۔

بچوں کے دوستوں، اسکول، اور آن لائن سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں۔

خود اپنی زندگی کو وہ نمونہ بنائیں جو بچے دیکھ کر سیکھیں۔

یاد رکھیں. بچے وہ نہیں بنتے جو آپ ان سے کہتے ہیں، بلکہ وہ بنتے ہیں جو آپ کر کے دکھاتے ہیں۔

آج کا بچہ کل کا معاشرہ ہے، اور اگر ہم نے آج اسے گمراہ میڈیا، جھوٹی چمک، اور دنیاوی دوڑ میں کھو دیا، تو کل کی نسل ایمان، اخلاق اور انسانیت سے خالی ہو جائے گی۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اپنی اصلاح کریں، اپنے گھروں سے برائیوں کے دروازے بند کریں، اور تربیت کو ایک عبادت سمجھ کر انجام دیں۔

ورنہ آنے والے وقت میں ہم صرف ایک جملہ کہنے کے قابل رہ جائیں گے:

“کاش ہم نے وقت پر اپنے بچوں کو بچا لیا ہوتا۔۔۔

     اختتام

بچوں کی تربیت صرف نصیحت نہیں، قربانی مانگتی ہے. وقت، توجہ، اور ایک صالح ماحول کی قربانی۔

اگر ہم نے آج قربانی نہ دی، تو کل نسلیں ہم سے سوال کریں گی۔

  بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com