🥰

*شہزادوں کا امتحان* 

*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*

*قسط نمبر 03*

انھوں نے شہزادے کو خوش آمدید کہا۔ سامنے ایک خوب صورت تخت پر ایک معمر جن بیٹھا ہوا تھا۔ شہزادہ اُسے دیکھ کر ڈرنے لگا تو سردارِ جن فوراً بولا:
"شہزادے! یہ ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں، انھیں سلام کرو۔"

شہزادے کو یہ شخص ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، لیکن اُس نے سلام کے انداز میں ہاتھ لہرا دیا۔ وزیرِ اعظم نے سر ہلا کر جواب دیا اور سردارِ جن سے کہنے لگا:
"شہزادے کو فوراً شاہی مہمان گاہ میں پہنچا دیا جائے۔"

سردارِ جن نے جھک کر کہا: "تعمیل ہوگی، حضور!"
اُس نے شہزادے کا ہاتھ پکڑا، پھر وہ دونوں ہوا میں اُڑنے لگے۔ کچھ دیر بعد ان کے قدم زمین پر لگے۔ اب وہ ایک قلعہ نما عمارت کے باہر کھڑے تھے، جو بڑے بڑے پتھروں سے بنی ہوئی تھی اور اس کی دیواریں تا حدِ نگاہ بلند تھیں۔

قلعے کے باہر بڑے بڑے خوفناک جن پہرہ دے رہے تھے۔ اُن کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی تیز دھار تلواریں تھیں۔ سردارِ جن کو دیکھ کر انھوں نے قلعے کا دروازہ کھول دیا۔ اندر کا منظر باہر سے زیادہ خوفناک تھا۔ یہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔

شہزادے نے کہا: "سردارِ جن! یہ ہم کہاں آ گئے ہیں؟"
جن نے عاجزی سے جواب دیا: "حضور! اس سرنگ کے آخری سرے تک جانا ہے، آپ میرا ہاتھ پکڑے رہیں۔"

شہزادے کو اپنے قدم زمین سے اُٹھتے محسوس ہوئے۔ وہ سمجھ گیا کہ جن سرنگ میں اُڑتا چلا جا رہا ہے۔ اُس نے سرنگ میں کئی موڑ کاٹے اور آخر کار ایک جگہ رک گیا۔ یہاں تھوڑی تھوڑی روشنی تھی۔ سرنگ کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے۔

جن اور شہزادہ ایک کمرے میں داخل ہو گئے۔ اُن کے اندر داخل ہوتے ہی کمرے کے دروازے کی جگہ موٹی موٹی آہنی سلاخیں لگ گئیں۔ شہزادہ کمرے میں بند ہو چکا تھا۔ اُس نے ایک دم جن کا ہاتھ پکڑنا چاہا، لیکن وہ بھی بجلی کی طرح کمرے سے باہر اُڑ گیا۔ باہر جا کر وہ دوبارہ اصل حالت میں آ گیا۔

شہزادے نے اونچی آواز میں کہا:
"تم نے مجھے یہاں کیوں بند کر دیا ہے؟"

سردارِ جن ہنس کر بولا:
"ہمارا بادشاہ واقعی بیمار ہے، لیکن اُس کی بیماری پر وزیرِ اعظم بہت خوش ہے۔ بادشاہ کا کوئی بیٹا نہیں ہے اور اُس کے مرنے کے بعد وزیرِ اعظم ہی سارے ملک کا بادشاہ بن جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے بادشاہ کے تیار کیے ہوئے دستے سے پہلے ہمیں بھیج کر تمھیں اغوا کروا لیا ہے۔ اب اُس وقت تک تم ہماری قید میں رہو گے، جب تک وزیرِ اعظم تمھارے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر دیتا۔"

یہ کہہ کر سردارِ جن نے ایک قہقہہ لگایا اور غائب ہو گیا۔ شہزادہ اس تاریک کمرے میں قید ہو چکا تھا اور اب اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ بری طرح جنوں کے چنگل میں پھنس چکا تھا۔

 *رحم دل شہزادہ اور صحرائی ڈاکو* 

بڑھیا اور اُس کے ڈاکو بیٹے، رحم دل شہزادے کو لوٹنے کے بعد ایک درخت کے ساتھ باندھ کر فرار ہو گئے تھے۔ وہ پورا دن اونٹوں پر سوار سفر کرتے رہے اور جب خوب تھک گئے تو ایک جگہ کھانے پینے کے لیے رُک گئے۔ یہاں سے اُن کا ٹھکانہ آدھے دن کی مسافت پر تھا۔

پانچوں ماں بیٹے چٹائی پر بیٹھ کر کھانے میں مشغول ہو گئے۔ کھانے کے بعد بڑھیا کا بڑا بیٹا کہنے لگا:
"ماں! میں ذرا ہیرے جواہرات تو نکال لاؤں۔ بڑے دنوں بعد کوئی امیرزادہ ہاتھ لگا ہے، ہیروں کی چمک ہم بھی تو دیکھیں۔"

اس نے شہزادے کے گھوڑے سے تھیلیاں اُتاریں اور چٹائی پر کپڑا بچھا کر تھیلیوں کو اس پر الٹنے لگا۔ ہیروں کی چمک اتنی زیادہ تھی کہ سہ پہر کے وقت بھی چٹائی روشن ہو گئی۔ سب نے ہیروں کو اُٹھا اُٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا۔ اس سے پہلے انھوں نے ایسے ہیروں کے بارے میں صرف سنا تھا۔ بڑھیا کا بڑا بیٹا کہنے لگا:
“ماں! اس خوشی میں ٹھنڈا سا مشروب بنا کر لاتا ہوں، قسم سے مزا دوبالا ہو جائے گا۔”

بڑھیا نے خوشی خوشی اُسے شربت بنانے کی اجازت دے دی۔ اُس نے شربت بناتے وقت اس میں ایک ایک چٹکی سفوفِ بے ہوشی ملا دیا۔ پھر سب کے سامنے ایک ایک گلاس رکھ دیا اور ایک خالی گلاس جھوٹ موٹ اپنے منھ سے لگا لیا۔ ٹھنڈا میٹھا شربت دیکھ کر سب نے ایک ہی سانس میں اُسے ختم کر دیا اور مستقبل کے منصوبے بنانے لگے۔

تھوڑی دیر بعد ان کے سر بھاری ہونے لگے اور پھر وہ سب بے ہوش ہو کر وہیں لمبے لیٹ گئے۔ بڑے ڈاکو نے فوراً تلوار نکالی اور بڑی بے دردی سے تینوں بھائیوں کو قتل کر دیا۔ بڑھیا نے بھی ہمیشہ اپنے بیٹوں کو ظلم کی تعلیم دی تھی اور اُس کا نتیجہ آج اُس کے سامنے تھا۔ بے رحم ڈاکو اب تلوار نکالے ماں کے سر پر کھڑا تھا۔ پھر اُس نے بڑی سفاکی سے بڑھیا کا سر بھی تن سے جدا کر دیا۔

اس نے وہیں ایک گڑھا کھودا۔ چٹائی سمیت سب کو گڑھے میں دفن کر دیا۔ ہیرے جواہرات کی تھیلیاں وہ پہلے ہی اونٹ پر لاد چکا تھا۔ اُس نے شہزادے کے گھوڑے کو آزاد کر دیا تاکہ باقی سفر اونٹوں پر تیزی سے طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب ٹھکانے سے ضروری ضروری سامان لے کر کسی شہر میں جا بسوں گا۔ شہر میں کسی امیرزادی سے شادی کر کے باقی زندگی مزے سے گزاروں گا۔

وہ اسی سوچ میں گم ابھی چند فرلانگ ہی گیا تھا کہ سامنے سے آندھی اور طوفان نظر آنے لگا۔ وہ اس سے بچنے کی تدبیر سوچنے لگا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ طوفان اُس کے چاروں طرف پہنچ گیا۔ جب گرد کم ہوئی تو اُس نے چند نوجوانوں کو اپنے ارد گرد گھیرا ڈالے ہوئے دیکھا۔ اُن کے چہرے نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے۔ تین آدمی آگے بڑھے اور اُسے مارتے ہوئے اونٹ سے اُتارا، پھر رسیوں سے باندھ کر اسی اونٹ پر ڈال دیا۔ یہ لوگ بڑے بڑے سنہرے اونٹوں پر سوار تھے۔ اس کے اونٹ پر پڑی تھیلیاں چمک رہی تھیں۔ انھوں نے تھیلیاں اُتار کر ایک اونٹ پر ڈال لیں اور اُسی طرف چل پڑے، جہاں شہزادہ درخت کے ساتھ رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔

 رحم دل شہزادے کی حالت لمحہ بہ لمحہ بگڑتی جا رہی تھی۔ اُسے اپنی موت کا یقین ہو چکا تھا۔ بھوک پیاس کی وجہ سے وہ چند گھڑیوں کا مہمان لگتا تھا۔ اسی دوران اُس کے کانوں میں انسانوں اور جانوروں کی اونچی اونچی آوازیں پڑنے لگیں۔ اس نے سوچا کہ شاید اب میرے کان بجنے لگے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد کسی کی نظر اس پر پڑی:
“وہاں کوئی ہے… وہ دیکھو!” ایک آدمی چلا کر کہہ رہا تھا۔

اُس کے اشارہ کرنے پر تین چار آدمی دوڑے دوڑے درخت کے پاس آئے۔ انھوں نے شہزادے کی رسیاں کھولیں اور اُسے کھانا کھلایا۔ پانی وغیرہ پی کر شہزادے کی حالت بہتر ہونے لگی۔ اُس نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور انھیں بتایا کہ میں ایک تاجر ہوں۔ سفر پر جا رہا تھا کہ چار ڈاکوؤں اور ایک بڑھیا نے دھوکے سے مجھے یہاں باندھ دیا اور میرے پاس موجود ہیرے جواہرات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اصل میں یہ لوگ بھی ڈاکو تھے اور قافلوں کو لوٹا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگوں کو قابو کر کے انھیں انسانی منڈیوں میں مہنگے داموں فروخت کرتے تھے۔ وہ شہزادے کو اُس آدمی کے پاس لے گئے جو رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ شہزادے نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا:
“یہی ہے وہ… یہی ہے… اسی نے مجھے لوٹا تھا، لیکن اس کے ساتھ بڑھیا اور تین ساتھی اور بھی تھے۔”

شہزادے کی بات سن کر ڈاکوؤں کے سردار نے اُس سے بڑھیا اور باقی ساتھیوں کے بارے میں پوچھا تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ ڈاکو سمجھے کہ شاید ان کے پاس بھی اسی طرح کے ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن آخرکار وہ یہ بتانے پر مجبور ہو گیا کہ اُس نے اپنے تینوں بھائیوں اور ماں کو قتل کر دیا ہے۔

ڈاکوؤں کے سردار نے ایک دم نیام سے تلوار کھینچی اور اس کا سر تن سے جدا کرنا ہی چاہتا تھا کہ اس کا ساتھی بول پڑا:
“سردار! اسے قتل مت کرو۔ یہ ساری زندگی اپنے کیے کی سزا بھگتے گا، ہم اسے غلاموں کی منڈی میں بیچ دیں گے!”

اپنے ساتھی کی بات سن کر سردار نے تلوار دوبارہ نیام میں ڈال لی اور اُسے غصے سے دیکھتا ہوا واپس ہو لیا۔

اب رات گہری ہونے لگی تھی۔ ہیروں کی چمک بڑھتی جا رہی تھی اور ہر طرف روشنی کی کرنیں پھیل چکی تھیں۔ دو آدمی اُٹھ کر پہرہ دینے لگے اور باقی چٹائیاں بچھا کر لیٹ گئے۔

موقع پا کر شہزادے نے سردار سے کہا:
“سردار! اگر آپ میرا مال و اسباب واپس کر دیں تو میں اپنی منزل پر روانہ ہو جاتا ہوں!”

یہ سن کر سردار نے کہا کہ میں اپنے آدمیوں سے کہتا ہوں، وہ تمھارا سامان تمھیں لا دیتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ کچھ دور لیٹے آدمیوں کی طرف چلا گیا۔ شہزادہ خوش تھا کہ اُس کی جان چھوٹ گئی تھی، مگر واپسی پر سردار کے ساتھ دو آدمی تھے اور اُن کے ہاتھوں میں مضبوط رسیاں تھیں۔ انھوں نے شہزادے کو مضبوطی سے باندھ کر اُس قاتل ڈاکو کے ساتھ ڈال دیا جو ایک اونٹ کے پاس بندھا ہوا پڑا تھا۔

سردار نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:
“ہا ہا ہا… اب مانگے گا اپنا سامان؟ ہم صرف لوگوں کو لوٹتے نہیں ہیں، انھیں بیچتے بھی ہیں۔ امید ہے تمھیں بیچ کر ہمیں اچھے دام ملیں گے اور تم اچھے غلام ثابت ہو گے۔”

سردار کی بات سن کر شہزادہ لرز کر رہ گیا۔ اُن دنوں غلام کی پہچان یہ تھی کہ اُس کے کان کٹے ہوئے ہوتے تھے۔ سردار نے مزید کہا کہ تم دونوں کے کان میں نہیں کاٹوں گا، بلکہ تمھارا خریدار خود ہی کاٹے گا۔

صبح صبح سارا قافلہ نامعلوم سمت کی طرف روانہ ہو گیا۔ رسیوں سے جکڑا ہوا قاتل ڈاکو اور شہزادہ ایک ہی اونٹ کے دونوں طرف سوار تھے، جنھیں بے ہوش کر دیا گیا تھا۔

پورا دن چلنے کے بعد قافلہ ایک محل نما عمارت کے پاس رکا۔ سردار محل کے اندر داخل ہوا۔ جب اُس کی واپسی ہوئی تو دو موٹے تازے آدمی اس کے ساتھ تھے۔ انھوں نے شہزادے اور قاتل ڈاکو کو بندھی ہوئی حالت میں کندھوں پر ڈالا اور محل میں داخل ہو گئے۔ سردار ان کے پیچھے پیچھے تھا۔

اُن آدمیوں نے ان دونوں کو ایک کمرے کے فرش پر پہنچایا اور ہاتھ باندھ کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ پھر ایک خوب صورت نوجوان اندر داخل ہوا۔ اُس نے غور سے قاتل ڈاکو اور شہزادے کو دیکھا اور پھر دو تھیلیاں سردار کی طرف پھینک دیں۔ سردار نے دونوں تھیلیاں اُٹھائیں اور جلدی سے باہر کی راہ لی۔

اُس آدمی کے اشارے پر ان دونوں کو کھول کر الگ الگ کوٹھڑیوں میں ڈال دیا گیا جو ساتھ ساتھ تھیں۔ شہزادہ جس کوٹھڑی میں تھا، وہ انتہائی تنگ اور بدبودار تھی۔ اس کی پچھلی دیوار میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی، جس میں لوہے کی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔

شہزادے نے باہر کی طرف دیکھا تو وہاں سرسبز درخت ہی درخت تھے۔ وہ سوچنے لگا کہ ایک بار موت کے منھ سے نکل کر دوسری مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اُسے ساتھ والی کوٹھڑی سے قاتل ڈاکو کی چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:
“میرے کان مت کاٹو… اللہ کا واسطہ ہے، میرے کان مت کاٹو…!”

پھر اُس کی آواز ڈوبتی چلی گئی۔ شاید اُس کے کان کاٹ دیے گئے تھے۔ اسی لمحے شہزادے کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا جانے لگا اور شہزادہ دل ہی دل میں اللہ سے مدد مانگنے لگا۔

*جاری ہے ۔۔۔۔۔///*
🌹🤲🌸♥️🌼🥰

*شہزادوں کا امتحان* 

*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*

*قسط نمبر 03*

انھوں نے شہزادے کو خوش آمدید کہا۔ سامنے ایک خوب صورت تخت پر ایک معمر جن بیٹھا ہوا تھا۔ شہزادہ اُسے دیکھ کر ڈرنے لگا تو سردارِ جن فوراً بولا:
"شہزادے! یہ ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں، انھیں سلام کرو۔"

شہزادے کو یہ شخص ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، لیکن اُس نے سلام کے انداز میں ہاتھ لہرا دیا۔ وزیرِ اعظم نے سر ہلا کر جواب دیا اور سردارِ جن سے کہنے لگا:
"شہزادے کو فوراً شاہی مہمان گاہ میں پہنچا دیا جائے۔"

سردارِ جن نے جھک کر کہا: "تعمیل ہوگی، حضور!"
اُس نے شہزادے کا ہاتھ پکڑا، پھر وہ دونوں ہوا میں اُڑنے لگے۔ کچھ دیر بعد ان کے قدم زمین پر لگے۔ اب وہ ایک قلعہ نما عمارت کے باہر کھڑے تھے، جو بڑے بڑے پتھروں سے بنی ہوئی تھی اور اس کی دیواریں تا حدِ نگاہ بلند تھیں۔

قلعے کے باہر بڑے بڑے خوفناک جن پہرہ دے رہے تھے۔ اُن کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی تیز دھار تلواریں تھیں۔ سردارِ جن کو دیکھ کر انھوں نے قلعے کا دروازہ کھول دیا۔ اندر کا منظر باہر سے زیادہ خوفناک تھا۔ یہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔

شہزادے نے کہا: "سردارِ جن! یہ ہم کہاں آ گئے ہیں؟"
جن نے عاجزی سے جواب دیا: "حضور! اس سرنگ کے آخری سرے تک جانا ہے، آپ میرا ہاتھ پکڑے رہیں۔"

شہزادے کو اپنے قدم زمین سے اُٹھتے محسوس ہوئے۔ وہ سمجھ گیا کہ جن سرنگ میں اُڑتا چلا جا رہا ہے۔ اُس نے سرنگ میں کئی موڑ کاٹے اور آخر کار ایک جگہ رک گیا۔ یہاں تھوڑی تھوڑی روشنی تھی۔ سرنگ کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے۔

جن اور شہزادہ ایک کمرے میں داخل ہو گئے۔ اُن کے اندر داخل ہوتے ہی کمرے کے دروازے کی جگہ موٹی موٹی آہنی سلاخیں لگ گئیں۔ شہزادہ کمرے میں بند ہو چکا تھا۔ اُس نے ایک دم جن کا ہاتھ پکڑنا چاہا، لیکن وہ بھی بجلی کی طرح کمرے سے باہر اُڑ گیا۔ باہر جا کر وہ دوبارہ اصل حالت میں آ گیا۔

شہزادے نے اونچی آواز میں کہا:
"تم نے مجھے یہاں کیوں بند کر دیا ہے؟"

سردارِ جن ہنس کر بولا:
"ہمارا بادشاہ واقعی بیمار ہے، لیکن اُس کی بیماری پر وزیرِ اعظم بہت خوش ہے۔ بادشاہ کا کوئی بیٹا نہیں ہے اور اُس کے مرنے کے بعد وزیرِ اعظم ہی سارے ملک کا بادشاہ بن جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے بادشاہ کے تیار کیے ہوئے دستے سے پہلے ہمیں بھیج کر تمھیں اغوا کروا لیا ہے۔ اب اُس وقت تک تم ہماری قید میں رہو گے، جب تک وزیرِ اعظم تمھارے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر دیتا۔"

یہ کہہ کر سردارِ جن نے ایک قہقہہ لگایا اور غائب ہو گیا۔ شہزادہ اس تاریک کمرے میں قید ہو چکا تھا اور اب اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ بری طرح جنوں کے چنگل میں پھنس چکا تھا۔

 *رحم دل شہزادہ اور صحرائی ڈاکو* 

بڑھیا اور اُس کے ڈاکو بیٹے، رحم دل شہزادے کو لوٹنے کے بعد ایک درخت کے ساتھ باندھ کر فرار ہو گئے تھے۔ وہ پورا دن اونٹوں پر سوار سفر کرتے رہے اور جب خوب تھک گئے تو ایک جگہ کھانے پینے کے لیے رُک گئے۔ یہاں سے اُن کا ٹھکانہ آدھے دن کی مسافت پر تھا۔

پانچوں ماں بیٹے چٹائی پر بیٹھ کر کھانے میں مشغول ہو گئے۔ کھانے کے بعد بڑھیا کا بڑا بیٹا کہنے لگا:
"ماں! میں ذرا ہیرے جواہرات تو نکال لاؤں۔ بڑے دنوں بعد کوئی امیرزادہ ہاتھ لگا ہے، ہیروں کی چمک ہم بھی تو دیکھیں۔"

اس نے شہزادے کے گھوڑے سے تھیلیاں اُتاریں اور چٹائی پر کپڑا بچھا کر تھیلیوں کو اس پر الٹنے لگا۔ ہیروں کی چمک اتنی زیادہ تھی کہ سہ پہر کے وقت بھی چٹائی روشن ہو گئی۔ سب نے ہیروں کو اُٹھا اُٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا۔ اس سے پہلے انھوں نے ایسے ہیروں کے بارے میں صرف سنا تھا۔ بڑھیا کا بڑا بیٹا کہنے لگا:
“ماں! اس خوشی میں ٹھنڈا سا مشروب بنا کر لاتا ہوں، قسم سے مزا دوبالا ہو جائے گا۔”

بڑھیا نے خوشی خوشی اُسے شربت بنانے کی اجازت دے دی۔ اُس نے شربت بناتے وقت اس میں ایک ایک چٹکی سفوفِ بے ہوشی ملا دیا۔ پھر سب کے سامنے ایک ایک گلاس رکھ دیا اور ایک خالی گلاس جھوٹ موٹ اپنے منھ سے لگا لیا۔ ٹھنڈا میٹھا شربت دیکھ کر سب نے ایک ہی سانس میں اُسے ختم کر دیا اور مستقبل کے منصوبے بنانے لگے۔

تھوڑی دیر بعد ان کے سر بھاری ہونے لگے اور پھر وہ سب بے ہوش ہو کر وہیں لمبے لیٹ گئے۔ بڑے ڈاکو نے فوراً تلوار نکالی اور بڑی بے دردی سے تینوں بھائیوں کو قتل کر دیا۔ بڑھیا نے بھی ہمیشہ اپنے بیٹوں کو ظلم کی تعلیم دی تھی اور اُس کا نتیجہ آج اُس کے سامنے تھا۔ بے رحم ڈاکو اب تلوار نکالے ماں کے سر پر کھڑا تھا۔ پھر اُس نے بڑی سفاکی سے بڑھیا کا سر بھی تن سے جدا کر دیا۔

اس نے وہیں ایک گڑھا کھودا۔ چٹائی سمیت سب کو گڑھے میں دفن کر دیا۔ ہیرے جواہرات کی تھیلیاں وہ پہلے ہی اونٹ پر لاد چکا تھا۔ اُس نے شہزادے کے گھوڑے کو آزاد کر دیا تاکہ باقی سفر اونٹوں پر تیزی سے طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب ٹھکانے سے ضروری ضروری سامان لے کر کسی شہر میں جا بسوں گا۔ شہر میں کسی امیرزادی سے شادی کر کے باقی زندگی مزے سے گزاروں گا۔

وہ اسی سوچ میں گم ابھی چند فرلانگ ہی گیا تھا کہ سامنے سے آندھی اور طوفان نظر آنے لگا۔ وہ اس سے بچنے کی تدبیر سوچنے لگا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ طوفان اُس کے چاروں طرف پہنچ گیا۔ جب گرد کم ہوئی تو اُس نے چند نوجوانوں کو اپنے ارد گرد گھیرا ڈالے ہوئے دیکھا۔ اُن کے چہرے نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے۔ تین آدمی آگے بڑھے اور اُسے مارتے ہوئے اونٹ سے اُتارا، پھر رسیوں سے باندھ کر اسی اونٹ پر ڈال دیا۔ یہ لوگ بڑے بڑے سنہرے اونٹوں پر سوار تھے۔ اس کے اونٹ پر پڑی تھیلیاں چمک رہی تھیں۔ انھوں نے تھیلیاں اُتار کر ایک اونٹ پر ڈال لیں اور اُسی طرف چل پڑے، جہاں شہزادہ درخت کے ساتھ رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔

 رحم دل شہزادے کی حالت لمحہ بہ لمحہ بگڑتی جا رہی تھی۔ اُسے اپنی موت کا یقین ہو چکا تھا۔ بھوک پیاس کی وجہ سے وہ چند گھڑیوں کا مہمان لگتا تھا۔ اسی دوران اُس کے کانوں میں انسانوں اور جانوروں کی اونچی اونچی آوازیں پڑنے لگیں۔ اس نے سوچا کہ شاید اب میرے کان بجنے لگے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد کسی کی نظر اس پر پڑی:
“وہاں کوئی ہے… وہ دیکھو!” ایک آدمی چلا کر کہہ رہا تھا۔

اُس کے اشارہ کرنے پر تین چار آدمی دوڑے دوڑے درخت کے پاس آئے۔ انھوں نے شہزادے کی رسیاں کھولیں اور اُسے کھانا کھلایا۔ پانی وغیرہ پی کر شہزادے کی حالت بہتر ہونے لگی۔ اُس نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور انھیں بتایا کہ میں ایک تاجر ہوں۔ سفر پر جا رہا تھا کہ چار ڈاکوؤں اور ایک بڑھیا نے دھوکے سے مجھے یہاں باندھ دیا اور میرے پاس موجود ہیرے جواہرات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اصل میں یہ لوگ بھی ڈاکو تھے اور قافلوں کو لوٹا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگوں کو قابو کر کے انھیں انسانی منڈیوں میں مہنگے داموں فروخت کرتے تھے۔ وہ شہزادے کو اُس آدمی کے پاس لے گئے جو رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ شہزادے نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا:
“یہی ہے وہ… یہی ہے… اسی نے مجھے لوٹا تھا، لیکن اس کے ساتھ بڑھیا اور تین ساتھی اور بھی تھے۔”

شہزادے کی بات سن کر ڈاکوؤں کے سردار نے اُس سے بڑھیا اور باقی ساتھیوں کے بارے میں پوچھا تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ ڈاکو سمجھے کہ شاید ان کے پاس بھی اسی طرح کے ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن آخرکار وہ یہ بتانے پر مجبور ہو گیا کہ اُس نے اپنے تینوں بھائیوں اور ماں کو قتل کر دیا ہے۔

ڈاکوؤں کے سردار نے ایک دم نیام سے تلوار کھینچی اور اس کا سر تن سے جدا کرنا ہی چاہتا تھا کہ اس کا ساتھی بول پڑا:
“سردار! اسے قتل مت کرو۔ یہ ساری زندگی اپنے کیے کی سزا بھگتے گا، ہم اسے غلاموں کی منڈی میں بیچ دیں گے!”

اپنے ساتھی کی بات سن کر سردار نے تلوار دوبارہ نیام میں ڈال لی اور اُسے غصے سے دیکھتا ہوا واپس ہو لیا۔

اب رات گہری ہونے لگی تھی۔ ہیروں کی چمک بڑھتی جا رہی تھی اور ہر طرف روشنی کی کرنیں پھیل چکی تھیں۔ دو آدمی اُٹھ کر پہرہ دینے لگے اور باقی چٹائیاں بچھا کر لیٹ گئے۔

موقع پا کر شہزادے نے سردار سے کہا:
“سردار! اگر آپ میرا مال و اسباب واپس کر دیں تو میں اپنی منزل پر روانہ ہو جاتا ہوں!”

یہ سن کر سردار نے کہا کہ میں اپنے آدمیوں سے کہتا ہوں، وہ تمھارا سامان تمھیں لا دیتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ کچھ دور لیٹے آدمیوں کی طرف چلا گیا۔ شہزادہ خوش تھا کہ اُس کی جان چھوٹ گئی تھی، مگر واپسی پر سردار کے ساتھ دو آدمی تھے اور اُن کے ہاتھوں میں مضبوط رسیاں تھیں۔ انھوں نے شہزادے کو مضبوطی سے باندھ کر اُس قاتل ڈاکو کے ساتھ ڈال دیا جو ایک اونٹ کے پاس بندھا ہوا پڑا تھا۔

سردار نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:
“ہا ہا ہا… اب مانگے گا اپنا سامان؟ ہم صرف لوگوں کو لوٹتے نہیں ہیں، انھیں بیچتے بھی ہیں۔ امید ہے تمھیں بیچ کر ہمیں اچھے دام ملیں گے اور تم اچھے غلام ثابت ہو گے۔”

سردار کی بات سن کر شہزادہ لرز کر رہ گیا۔ اُن دنوں غلام کی پہچان یہ تھی کہ اُس کے کان کٹے ہوئے ہوتے تھے۔ سردار نے مزید کہا کہ تم دونوں کے کان میں نہیں کاٹوں گا، بلکہ تمھارا خریدار خود ہی کاٹے گا۔

صبح صبح سارا قافلہ نامعلوم سمت کی طرف روانہ ہو گیا۔ رسیوں سے جکڑا ہوا قاتل ڈاکو اور شہزادہ ایک ہی اونٹ کے دونوں طرف سوار تھے، جنھیں بے ہوش کر دیا گیا تھا۔

پورا دن چلنے کے بعد قافلہ ایک محل نما عمارت کے پاس رکا۔ سردار محل کے اندر داخل ہوا۔ جب اُس کی واپسی ہوئی تو دو موٹے تازے آدمی اس کے ساتھ تھے۔ انھوں نے شہزادے اور قاتل ڈاکو کو بندھی ہوئی حالت میں کندھوں پر ڈالا اور محل میں داخل ہو گئے۔ سردار ان کے پیچھے پیچھے تھا۔

اُن آدمیوں نے ان دونوں کو ایک کمرے کے فرش پر پہنچایا اور ہاتھ باندھ کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ پھر ایک خوب صورت نوجوان اندر داخل ہوا۔ اُس نے غور سے قاتل ڈاکو اور شہزادے کو دیکھا اور پھر دو تھیلیاں سردار کی طرف پھینک دیں۔ سردار نے دونوں تھیلیاں اُٹھائیں اور جلدی سے باہر کی راہ لی۔

اُس آدمی کے اشارے پر ان دونوں کو کھول کر الگ الگ کوٹھڑیوں میں ڈال دیا گیا جو ساتھ ساتھ تھیں۔ شہزادہ جس کوٹھڑی میں تھا، وہ انتہائی تنگ اور بدبودار تھی۔ اس کی پچھلی دیوار میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی، جس میں لوہے کی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔

شہزادے نے باہر کی طرف دیکھا تو وہاں سرسبز درخت ہی درخت تھے۔ وہ سوچنے لگا کہ ایک بار موت کے منھ سے نکل کر دوسری مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اُسے ساتھ والی کوٹھڑی سے قاتل ڈاکو کی چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:
“میرے کان مت کاٹو… اللہ کا واسطہ ہے، میرے کان مت کاٹو…!”

پھر اُس کی آواز ڈوبتی چلی گئی۔ شاید اُس کے کان کاٹ دیے گئے تھے۔ اسی لمحے شہزادے کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا جانے لگا اور شہزادہ دل ہی دل میں اللہ سے مدد مانگنے لگا۔

*جاری ہے ۔۔۔۔۔///*
🌹🤲🌸♥️🌼