*یہ دنیا تو عارضی ہے....!* 💔
چار ماہ پہلے کی بات ہے۔ ایک دن میں کلاس سے فارغ ہو کر ہاسٹل پہنچا ہی تھا کہ ابو جی کا فون آیا۔
کہنے لگے: “تنویـر بیٹا، میں ایک کام سے فلاں جگہ آ رہا ہوں، تم سے صرف پندرہ بیس کلومیٹر دور ہوں۔”
میں نے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔ ہاسٹل میں سب کچھ ویسے ہی چھوڑا، موٹر سائیکل لی اور ابو جی کے پہنچنے سے پہلے مقررہ جگہ پر جا کر انتظار کرنے لگا۔ ادھر اُدھر نظریں دوڑاتا رہا۔ کافی دیر بعد دور سے بائیک پر ابو جی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ میں خود کو روک نہ سکا، دوڑ کر اُن کے گلے لگ گیا۔
ہم نے مل کر اُن کا سارا کام کروایا۔ وہ صرف ایک گھنٹے کی ملاقات تھی، مگر اتنی خوشگوار، اتنی محبت بھری کہ بیان نہیں کر سکتا۔ نہ جانے کیوں اُسی وقت دل میں خیال آیا کہ ابو جی کے ساتھ ایک تصویر لے لوں۔ تصویر لیتے وقت میں نے محسوس کیا کہ وہ کتنے خوش تھے۔
کچھ دیر پیار بھری باتیں ہوتی رہیں۔ پھر کہنے لگے:
“بیٹا، اب واپس جاؤ اور پڑھائی کرو، سنا ہے تمہارا پاسنگ کریٹیریا سخت ہو گیا ہے۔”
میں واپس آ گیا، مگر اُس دن کے بعد میرے دل میں ایک عجیب سا خوف بیٹھ گیا۔ بار بار دل میں عجیب سے خیالات آنے لگے۔ جب بھی ایسے خیالات آتے، میں فوراً اللہ سے دعا کرتا:
“یا اللہ، امی جان تو مجھے بطور میڈیکل اسٹوڈنٹ نہیں دیکھ سکیں، مگر میرے ابو جی میرے خواب کی تکمیل کے لیے بہت جدوجہد کر رہے ہیں۔ یا اللہ، میں اپنی زندگی میں اپنے وقت پر اپنے ابو جی کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں۔ یا اللہ، میرے ابو جی کو میرے لیے سلامت رکھنا۔”
مجھے آج تک کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میرا کوئی بھائی نہیں، میری امی جان نہیں رہیں، یا میرے زیادہ دوست نہیں… کیونکہ میرا بھائی، میرا بہترین دوست، میرا لیڈر، میری حوصلہ افزائی، امی جان کے بعد مختصر یہ کہ میرا سب کچھ — میرے ابو جی تھے۔
وقت گزرتا رہا اور میں ہر لمحہ اُن کی سلامتی کی دعا کرتا رہا۔ جب بھی ابو جی کی کال آتی، میں سب کچھ چھوڑ کر کال سنتا۔ اُن کی آواز مجھے بے حد سکون دیتی تھی۔
جب سیکنڈ ائیر ایم بی بی ایس کے امتحانات آ گئے۔ میں ایک ماہ ہاسٹل میں تیاری کے لیے رکا رہا۔ اس دوران ابو جی سے ملاقات نہ ہو سکی، مگر ہر دن کئی بار فون پر بات ہوتی۔ نہ جانے کیوں میرے دل میں ان کا خیال بڑھتا چلا گیا۔
جب written دے کر میں گھر جانے لگا تو بے حد خوش تھا کہ اب ابو جی کے پاس جا رہا ہوں۔ گھر جاتے ہوئے ہر دس منٹ بعد فون آتا:
“بیٹا، کب تک پہنچ رہے ہو؟”
گھر پہنچا تو مجھے اندازہ بھی نہ تھا کہ جس بات سے میں ڈرتا تھا، وہ وقت آ چکا ہے۔ ابو جی دن رات مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھاتے، باتیں کرتے، مسکراتے۔
ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ۔
9 فروری کو کہنے لگے:
“بیٹا، واپس جاؤ، تمہارے vivas قریب ہیں۔”
میں نے کہا: “ابو، دو دن بعد جاؤں گا۔”
یہ سننے پر میں نے ان کے چہرے پر ایک سکون سا محسوس کیا اور فورا انہوں نے اپنے کام سے چھٹی کی اور میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ ساری رات پیار بھری باتیں ہوئیں، خوب ہنسی مذاق ہوا، دل کی باتیں کیں۔ میں مطمئن تھا کہ میرے ابو جی بالکل صحت مند ہیں — نہ بخار، نہ زکام، نہ درد، نہ کوئی بیماری۔
10 فروری کی صبح ہونے سے پہلے رات کے آخری پہر انہوں نے کہا:
“بیٹا، مجھے تھوڑا سا درد محسوس ہوا تھا، مگر چائے پینے کے بعد ٹھیک ہو گیا ہوں، اب سونے جا رہا ہوں۔”
وہ سو گئے…
اور میں انتظار کرتا رہا کہ کب اُٹھیں گے اور میں اُنہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا۔
اچانک ایک زور دار چیخ کی آواز آئی۔ میں دوڑا، ابو جی کو پکڑا، رونے لگا…😭😭
مگر وہ بولنا، دیکھنا، سننا چھوڑ چکے تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ انہیں heart attack ہوا ہے۔ 😭
چند لمحوں میں سب کچھ بدل گیا۔ فوری انتظام کر کے ہسپتال لے کر روانہ ہوئے، مگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے جا چکے تھے۔
میری دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کی بخشش فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے 🤲🏻 آمین!
Copied
🫵🏻 *آپ کا ایک ری ایکٹ… ہمارے ~~ لیے حوصلہ افزائی ہے*