*میری فاتن جیسی گڑیا.....!* 💔
تین دن پہلے کسی نے آ کر بتایا کہ میں نے فلاں سڑک پر ایک ننھی سی بچی دیکھی ہے، جس کے نقوش اس قدر تیری شہید بیٹی فاتن سے ملتے تھے کہ میں ایک لمحے کو اُسے فاتن ہی سمجھ بیٹھا۔ یہ سنتے ہی میرا دل جیسے رک سا گیا۔ گڑیا کے فراق میں چھلنی جگر پہ گویا نمک چھڑک دیا گیا۔ اس بچی سے ملنے کا ایسا اشتیاق کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔ یوں لگا جیسے یادوں کا دروازہ یکایک کھل گیا ہو اور ہجر کی ساری کسک تازہ ہو اٹھی ہو۔
میں دیوانہ وار اس جگہ پہنچ گیا۔ مگر وہ بچی نظر نہیں آئی۔ پھر صبح شام کئی دن تک اُسی سڑک سے گزرتا رہا۔ دل میں ایک ہی آرزو تھی کہ شاید وہ بچی دوبارہ نظر آ جائے اور میں اُس کے گھر والوں سے صرف اتنی اجازت مانگ سکوں کہ ایک لمحے کو اُسے سینے سے لگا لوں… اپنی خالی بانہوں کی ویرانی کو اُس کی معصوم حرارت سے بھر لوں۔ مگر وہ مجھے کہیں نہ ملی۔
پھر اللہ نے میرے ٹوٹے دل پر مرہم رکھا۔ فاتن میرے خواب میں آ گئی۔ میں نے اُسے دیکھا تو دیوانہ وار اپنی آغوش میں بھر لیا۔ وہ لمحہ ایسا تھا کہ گویا پوری کائنات میری بانہوں میں سمٹ آئی ہو۔ میں نے پوچھا: “جان پدر، تم بابا کو تڑپتا چھوڑ کر کہاں چلی گئیں؟”
وہ مسکرا کر بولی: “ہم جنت میں ہیں، بابا…”
یہ سن کر دل میں ایک عجب سکون اتر آیا، اگرچہ آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں نے کہا: “مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو…” مگر وہ خاموش رہی، جیسے صبر کا پیغام دے رہی ہو۔
آنکھ کھلی تو دل شکستہ نہیں تھا، بلکہ رضا سے لبریز تھا۔ مجھے اتنا ہی کافی ہے کہ رب نے اُس کی ایک جھلک دکھا دی، اُسے گلے لگانے کا ایک خواب ہی سہی، عطا کر دیا۔
موت کی دعا نہیں مانگنی چاہیے۔ لیکن فاتن کے بغیر جیا بھی تو نہیں جاتا، اس کا اسکول بیگ، اس کے جوتے، کتابیں اور کپڑے، ایک ایک چیز، ہر یاد تڑپا رہی ہے۔ اس لیے دعا گو ہوں کہ اللہ مجھے بھی جنات النعیم میں اُس سے ملا دے اور اُس دن تک میرے دل کو صبر کی طاقت عطا فرمائے۔ آمین۔
(جہااد الشریف، غ۔ز۔ہ کا ایک زخمی دل)
🫵🏻 *آپ کا ایک ری ایکٹ… ہمارے ~~ لیے حوصلہ افزائی ہے*