🌸


*میں کہیں بستر ہی پر نہ مر جاؤں* 

 حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بصرہ کے گورنر مقرر ہوئے تو قریب واقع شوستر کے ایرانی علاقے خوزستان کے رئیسوں نے مسلمانوں کے خلاف شورش پر کمر باندھی اور اعلانیہ بغاوت کا اظہار کیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کی ایک مضبوط جمعیت کے ساتھ خوزستان پر یلغار کر دی اور وہاں کے اہم شہروں اجواز، مناذر، سوس اور رامہر مز کو یکے بعد دیگرے فتح کر لیا۔ شاہِ ایران یزدگرد، جو اس وقت مدائن میں مقیم تھا، کو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی فتوحات کی خبریں پہنچیں تو اس نے اپنے ایک سردار ہرمزان کو حکم دیا کہ وہ فوراً جا کر اہواز اور فارس کی حکومت سنبھالے اور مسلمانوں کو ان علاقوں سے باہر نکال دے۔

ہرمزان کا تعلق ایران کے شاہی خاندان سے تھا اور وہ بڑا صاحبِ تدبیر اور بارسوخ آدمی تھا۔ اس نے ایک زبردست لشکر لے کر خوزستان کے صدر مقام تستر (شوستر) کو اپنا مستقر بنایا اور بڑے زور و شور سے مسلمانوں سے رزم آرائی کی تیاریاں کیں۔ اس نے ایرانیوں کی قومی عصبیت کو ابھار کر ان میں آگ سی لگا دی اور ایرانی جنگجوؤں کی ایک کثیر تعداد تستر میں اس کے جھنڈے تلے لڑنے مرنے کے لیے آمادہ ہو گئی۔ ہرمزان نے قلعۂ شہر کی دیواروں، برجوں اور خندق کی مرمت کروائی اور اس کو اپنی طرف سے ناقابلِ تسخیر بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے تستر کا رخ کیا اور شہر کے قریب پہنچ کر خیمہ زن ہو گئے۔ مجاہدینِ اسلام میں حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ دونوں بھائی جلیل القدر صحابی تھے اور میدانِ جہاد میں متعدد موقعوں پر اپنی شجاعت اور بسالت کا لوہا منوا چکے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اگرچہ بر بنائے احتیاط حضرت براء رضی اللہ عنہ کو فوج کا افسر بنانے سے منع کیا تھا، لیکن حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی صواب دید پر انہیں میمنہ کا افسر بنا دیا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کو سواروں کی قیادت سپرد کی۔

ہرمزان نے اپنی فوج کی کثرت کے بل پر شہر سے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کیا، لیکن مجاہدینِ اسلام تلوار پر سر رکھ کر لڑے اور ہرمزان کو پسپا کر کے قلعہ بند ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد جب بھی اس کی باسی کڑھی گرم ہوتی، وہ شہر سے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کرتا، لیکن ہر بار منہ کی کھا کر واپس جاتا۔

ان معرکوں میں حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کمال درجے کی جانبازی دکھائی اور تنہا دشمن کے سو آدمی ہلاک کیے۔ ان کے علاوہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے اس قدر ایرانی قتل کیے کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے۔ اثنائے محاصرہ میں ایک دن حضرت براء رضی اللہ عنہ خوش الحانی سے شعر پڑھ رہے تھے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ان کے خیمے میں پہنچ گئے اور کہا: ”بھائی جان! اللہ عزوجل نے آپ کو اس سے اچھی چیز (یعنی قرآنِ حکیم) سے نوازا ہے، آپ اس کو کیوں خوش الحانی سے نہیں پڑھتے؟“ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”انس رضی اللہ عنہ! شاید تمہیں یہ خوف ہے کہ کہیں میں بستر پر ہی نہ مر جاؤں؟ خدا کی قسم ایسا نہیں ہو گا، میری موت میدانِ جنگ ہی میں آئے گی۔“

ایک دن دشمن نے باہر نکل کر مسلمانوں پر ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ان کے قدم ڈگمگا گئے۔ مسلمانوں کو حضرت براء رضی اللہ عنہ کے متعلق سرورِ عالم ﷺ کی حدیث یاد تھی۔ وہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”آج قسم کھائیے کہ خدا فتح دے گا۔“ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فوراً دست بدعا ہو کر کہا: ”الٰہی عزوجل! میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ مسلمانوں کو مظفر و منصور کر، کفار کو ان کے ہاتھوں میں دے دے اور مجھ کو میرے آقا ﷺ کی زیارت نصیب فرما۔“

اس کے بعد وہ فوج لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ جو سامنے آیا اسے مار گرایا۔ اسی طرح دادِ شجاعت دیتے ہوئے قلعے کے پھاٹک تک جا پہنچے۔ یہاں ہرمزان خود ان کے مقابل ہوا۔ وہ سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق تھا اور بالکل تازہ دم۔ دونوں میں بڑے زور کا مقابلہ ہوا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کو اس کے ہاتھ سے ایک کاری زخم لگا اور حق کا یہ جانباز سپاہی جامِ شہادت پی کر عازمِ فردوسِ بریں ہو گیا، لیکن اللہ عزوجل کے اس شیر کا خون رائیگاں نہ گیا۔ مسلمانوں نے ان کی شہادت کے بعد فتحِ عظیم حاصل کی اور ایرانیوں کو پسپا ہو کر قلعے میں پناہ لینی پڑی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت براء رضی اللہ عنہ کی قسم پوری کر دی۔

چند دن بعد مسلمانوں نے نہ صرف تستر کو فتح کر لیا بلکہ ہرمزان کو گرفتار کر کے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حفاظت میں بارگاہِ خلافت میں روانہ کر دیا۔ وہاں اس نے ایک حیلے سے اپنی جان بچائی اور پھر اسلام کے دامن میں پناہ لی۔

حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ علیہم الرضوان میں ہوتا ہے۔ حافظ ابن عبد البر نے تو ان کو فضلاءِ صحابہ علیہم الرضوان میں شامل کیا ہے، کیونکہ وہ برسوں فیضانِ نبوی ﷺ سے فیضیاب ہوئے، تاہم ان سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے۔ بظاہر اس کا سبب یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک مردِ سپاہی تھے۔ ساری زندگی میدانِ جہاد میں گزار دی اور حدیث بیان کرنے کی طرف توجہ ہی نہ دی۔ تمام اہلِ سیر ان کی بے مثل شجاعت، جرات اور بے خوفی کے معترف ہیں، اور اس کے ساتھ ان کے مستجاب الدعوات ہونے پر بھی سب کا اتفاق ہے۔
🌼🌸🌹♥️🤲