علماء فتوى بازی میں کتنے محتاط ہیں !

ہمارے ایک بھائی نے شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ سے سوال کیا :
بتاتا چلوں کہ شیخ مدینہ طیبہ میں اس وقت کے سب سے بڑے محدث ہیں اور 38 سال سے مدینہ طیبہ میں مسجد نبوی ، مدینہ یونیورسٹی اور مختلف مقامات پر عوام کو ہی نہیں بلکہ علماء كو بهی حديث پڑها رہے هیں ، ان سے سوال کیا کہ ... شیخ یہ بتائیں کہ میری بیوی 5 ماه کی حاملہ ہے اور ڈاکٹر اس کی کمزوری کی وجہ سے حمل گرانے کا کہہ رہے ہیں ... کیا یہ جائز هے؟ 

شیخ نے فرمایا: لا ادری.... میں نہیں جانتا .... پوچهنے والے کو سخت حیرانی ہوئی کہ اتنے بڑے شیخ ہیں اور ... کیا فرما رهے ہیں کہ میں نہیں جانتا..  
اگلے دن اس نے پهر الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ وہی سوال کیا تو شیخ نے پهر فرمایا ... لا ادری ... اب تو اور تعجب میں پڑ گیا... 
تیسرے دن پهر پوچها ... تو شیخ نے وہی جواب دیا...
اب تو اس سے رہا نا گیا وه پهٹ ہی پڑا کہ شیخ! آپ مجهے جواب کیوں نہیں دیتے؟؟؟

شیخ فرمانے لگے کہ 
اس کا بوجھ میں قیامت کے دن اٹها نهیں سکتا اس لئے جواب نہیں دے رہا ۔

اگر میں حمل گرانے سے روک دوں اور عورت میں چونکہ اس کی قوت نہیں اور وه اس کی وجہ سے مر جائے تو اس عورت کا خون میری گردن پر ہے۔
اور اگر میں حمل گرانے کا کہہ دوں تو اس بچے کا خون میری گردن پر ہے۔

میں کہاں اس کی طاقت رکهتا ہوں۔۔ کہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کے ساتھ ان کے خون بهی اپنی گردن پر لاد لوں ۔

آپ دیکهئے! فتوى بازی میں کتنے محتاط ہیں اتنے بڑے بڑے محدثین کرام اور مفتیان عظام ۔۔۔

اور جب کہ ہمارے ہاں بهرمار ہے فیس بکئے اور واٹس ایپئے مفتیان کرام کی... 

فتوی میں جلدی اور جرآت کرنا جاہلوں کا طریقہ ہے ۔
اور صرف جلد بازی ہی نهیں بلکہ دوسرے پر زبردستی اپنی رائے کو مسلط کرنے کی سر توڑ کوشش بهی۔۔۔ اور نہ ماننے والوں کے لئے اگلا فتویٰ پهر تیاررر ...

جب کہ علماء حق تو بهت احتیاط کرتے هیں۔۔۔ سچ فرمایا .. اللہ رب العزت نے کہ..
"بے شک الله سے ڈرنے والے... اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی ہيں.." (القرآن)