*امام احمد رضا خان بریلوی کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے پڑھنا شرط ہے*

امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت کا تذکرہ ایک ایسی علمی و روحانی سحر کا آغاز ہے جس نے پورے عالمِ اسلام کو منور کر دیا، ۱۰ شوال المکرم ۱۲۷۲ ہجری (۱۴ جون ۱۸۵۶ء) بروز ہفتہ، ظہر کے وقت ہندوستان کے شہر بریلی کے محلے جسولی میں جس سورج نے طلوع ہو کر چودھویں صدی کے اندھیروں کو چھانٹ دیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے۔
*چار سال کی عمر میں ناظرہ مکمل کر لیا ہے،چھ سال کی عمر میں عربی میں گفتگو کی ہے،سات سال کی عمر سے مرتے دم تک بغداد کی طرف پاؤں پھیلا کر نہیں سویا ہے،آٹھ سال کی عمر میں ھدایۃ النحو کی شرح لکھی ہے،نو سال کی عمر میں مسلم الثبوت کی شرح لکھی ہے،تیرہ سال دس ماہ پانچ دن کی عمر میں فارغ ہو گئے ہیں،بائیس سال کی عمر میں بیعت خلافت ہوئی ہے، ۱۳۱۸ ھ میں امیـــــــــــــن احمد فردوسی کی موجودگی میں ہونے والے جلسے میں مجدد ابن عطا حاضرہ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے،۱۳۲۴ ہجری میں علماء عرب اور عجم نے اپنا مجدد تسلیم کر لیا ہے،۱۲۳۰ ہجری میں قوم کو کنز الایمان اور فتاوی رضویہ دیا ہے*
*فتاوی رضویہ اور کنز الایمان کودین ہی کتاب نہ سمجھیں بلکہ جب نظر عمیق سے پڑھیں گے تو اس میں یہ بات بھی نظر آئے گی کہ ۱۸۹۶عیسوی میں جس نے سب سے پہلے ٹوکولاجی کا نظریہ پیش کیا امام احمد رضا خان کی ذات ہے، ۱۹۰۸ عیسوی میں دنیا میں سب سے پہلے جس سائنٹسٹ نے لیبوریسی نم کمنی کیشن کی ڈسکبری کی امام احمد رضا خان کی ذات ہے، ۱۹۰۹ عیسوی دنیا میں سب سے پہلے جس سائنٹسٹ نے ساؤنڈ سسٹم پر (الکشف الشافیہ) لکھا امام احمد رضا کی ذات ہے،۱۹۱۵ عیسوی دنیا میں جس سائنٹسٹ نے سب سے پہلے فلوئک ڈائنہ اک سمیت نام وہ شرعی حکم کے ساتھ پانی کی تین سو پچاس قسمیں لکھیں، ۱۹۱۶ عیسوی دنیا میں سب سے پہلے جس سائنٹسٹ نے منیرل فیزکس مٹی اور پتھر کی باب تیمم میں تین سو گیارہ قسمیں کی ہیں، ۱۹۱۹ عیسوی دنیا میں جس سائنٹسٹ نے سب سے پہلے ایٹمی پاور پر الکلمۃ الملہمہ لکھ کر چار دلیلوں سے نیوٹن اور انسٹائن کا جنازہ نکال کر ہمیشہ کے لیے زیر زمیں دفن کر دیا ہے امام احمد رضا خان کی ذات ہے،جن کی لکیروں کی پیمائش رسد گاہوں میں ہے،جن کی معنوی تحقیق کی گہرائی ریسرچ سینٹروں میں ہے،جن کی عرشی مفاہیم کی کمانے چاند و سورج ہی نہیں دائرۃ البروج کو اپنے احاطہ میں لے چکی ہے،جن کی محبت سے پیکر عشق کو پرواز مدینہ کا سلیقہ ملتا ہے،جن کے سکے کو چلانے کے لیے عرب و عجم رائج الوقت کی ضمانت دینے پر تفاخر محسوس کرتے ہیں*
جن کے قلم کی جنبش نے باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے،جس نے عشقِ رسول ﷺ کو ایمان کی روح قرار دے کر مردہ دلوں میں محبت کی شمع روشن کی، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے، ۱۹۰۵ عیسوی میں جس مفکر نے *الدولۃ المکیہ* جیسی شاہکار کتاب محض چند گھنٹوں میں بغیر کسی مآخذ کے لکھ کر حرم مکہ کے علماء کو حیران کر دیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے۔
جس نے ریاضی (Mathematics) کے پیچیدہ ترین مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کر کے دنیا کے بڑے بڑے ماہرینِ فلکیات کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے، جس نے *سبحان السبوح* لکھ کر منکرینِ عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کے تمام اعتراضات کو خاک میں ملا دیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے،
جس کے *حدائقِ بخشش* کے کلام نے اردو نعت گوئی کو وہ عروج بخشا کہ آج دنیا کا کوئی گوشہ *مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام* کی گونج سے خالی نہیں، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے،
جن کی فقہی بصیرت *فتاویٰ رضویہ* کی صورت میں بارہویں صدی کا سب سے بڑا علمی خزانہ ہے،
جن کی سیاسی بصیرت نے دو قومی نظریے کی بنیادوں کو مستحکم کیا،
جن کا ہر لفظ سنتِ نبوی کا آئینہ دار اور جن کا ہر قدم اتباعِ شریعت کا علمبردار ہے۔
ایسی ہمہ گیر شخصیت کے حضور ہم اپنے عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں اور ان کے فیضانِ علم و عشق سے سیراب ہونے کی دعا کرتے ہیں،جس نے لاکھوں احادیثِ مبارکہ، ان کے اسما و رجال اور جرح و تعدیل کے فن پر ایسی دسترس رکھی کہ عرب و عجم کے محدثین نے آپ کو اپنا پیشوا تسلیم کیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے، جس نے احادیث سے احکام کے استنباط میں وہ مہارت دکھائی کہ ایک حدیث سے بیسیوں مسائل نکال کر علمِ حدیث کی وسعتوں کو آشکار کیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے، جس نے *الدولۃ المکیہ* میں احادیثِ رسول ﷺ کے ذریعے علمِ غیبِ مصطفیٰ ﷺ کا وہ مقدمہ لڑا کہ مکہ و مدینہ کے کبار محدثین دنگ رہ گئے، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے،
*​وہ عظیم مفسر* جس نے قرآنِ کریم کی آیات کے مفاہیم کو *حاشیہ معتقد المنتقد* اور دیگر تفسیری رسائل میں اس طرح بیان کیا کہ ہر آیت سے عظمتِ الٰہی اور شانِ رسالت کے موتی برآمد کیے، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے، جس نے تفسیرِ قرآن میں لغت، نحو اور بلاغت کے وہ باریک نکات بیان کیے جو قدماء کے تفسیری ذخیرے میں بھی نایاب تھے، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے، جس نے قرآنی سورتوں کے فضائل اور ان کے باہمی ربط کو علمی پیرائے میں اس طرح پرویا کہ قرآن کا اعجاز کمالِ عروج پر نظر آیا، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے۔
*​وہ عظیم فلسفی* جس نے قدیم یونانی فلسفے اور جدید مغربی افکار کے تار و پود بکھیر کر *فلسفہِ اسلامیہ* کا پرچم بلند کیا، جس نے مادہ پرستی اور دہریت کے فلسفوں کا عقلی و منطقی رد کر کے ثابت کیا کہ عقلِ سلیم وحیِ الٰہی کے تابع رہ کر ہی فلاح پا سکتی ہے، جس نے کائنات کی تخلیق، وقت کی حقیقت اور وجود و شہود کے دقیق مسائل پر وہ فلسفیانہ کلام کیا کہ بڑے بڑے فلاسفرز آپ کی فکر کے سامنے سرنگوں نظر آئے، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے۔
*جس کی عبقری شخصیت اور علمی بصیرت پر آج دنیا کی نامور یونیورسٹیاں بشمول الازہر یونیورسٹی (مصر)، کولمبیا یونیورسٹی (امریکہ)، اور لندن یونیورسٹی تحقیقی مقالے (Ph.D) لکھوا رہی ہیں، وہ امام احمد رضا خان کی ذات ہے۔*
*وہ کتب جن پر یونیورسٹیاں PHD کر رہی ہیں*
​فتاویٰ رضویہ (فقہ و علمِ کلام کا انسائیکلوپیڈیا)
​کنز الایمان (قرآنِ کریم کا مایہ ناز اردو ترجمہ)
​الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ (علمِ غیب کے موضوع پر علمی شاہکار)
​فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین (طبیعیات اور فلکیات پر سائنسی تحقیق)
​کفل الفقیہ الفاہم (کاغذی کرنسی اور اسلامی معاشیات پر مقالہ)
​جد الممتار علی رد المحتار (فقہِ حنفی کی باریکیوں پر حاشیہ)
​حدائقِ بخشش (اردو و فارسی نعتیہ ادب کا مجموعہ)
​الزلال الانقیٰ من بحر سبقۃ الاتقیٰ (افضلیتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ پر تحقیق)
​سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح (عقائد اور علمِ کلام کی اہم کتاب)
​اجلیٰ الاعلام ان الفتویٰ مطلقاً علی قول الامام (اصولِ فقہ پر تحقیقی رسالہ) اور بہت سی کتب ہیں جن پر یونیورسٹیاں PHD کرا رہی ہیں۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*