🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

یہ کیسی غفلت ہے جو ہماری آنکھوں پر چھا گئی ہے؟
یہ کیسا سکون ہے جو دراصل تباہی کا پیش خیمہ ہے؟
یہ کیسی اطمینان کی چادر ہے جو ہمیں حقیقت کی سردی محسوس ہی نہیں ہونے دیتی؟
وقت… خاموشی سے گزر رہا ہے۔
نہ اس کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے، نہ اس کی رفتار کا اندازہ ہوتا ہے۔
مگر ہر گزرتا لمحہ ہماری زندگی کے چراغ سے ایک بتی کم کر دیتا ہے۔
ہم کیلنڈر کے صفحے بدلتے ہیں
مگر کیا کبھی دل کے صفحے بھی پلٹے ہیں؟
ہم سالگرہ کے سال گنتے ہیں
مگر کیا کبھی اپنی عمر کے کم ہونے پر آنکھ نم ہوئی ہے؟

 وقت ختم ہو رہا ہے… اور ہم اب بھی مطمئن ہیں!

ہم سمجھتے ہیں ابھی بہت وقت ہے۔
ابھی جوانی باقی ہے۔
ابھی صحت ساتھ ہے۔
ابھی موت دور ہے۔
مگر موت کبھی اعلان کر کے نہیں آتی۔
نہ وہ عمر دیکھتی ہے، نہ منصب، نہ خواب، نہ منصوبے۔
وہ بس آتی ہے… اور سب کچھ خاموش کر دیتی ہے۔

قرآن ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔
قرآنِ مجید میں بار بار وقت کی قسم کھا کر انسان کو خبردار کیا گیا۔
انسان خسارے میں ہے۔

خسارہ مال کا نہیں…
خسارہ وقت کا ہے۔
وہ لمحے جو اللہ کی یاد کے بغیر گزر گئے
وہ ساعتیں جو غفلت میں ڈوب گئیں
وہ دن جو سجدے سے خالی رہے۔

ہم دنیا کی دوڑ میں اتنے مصروف ہیں کہ ہمیں اپنی روح کی سانسیں سنائی نہیں دیتیں۔
ہم نے گھر سنوارے، کاروبار بڑھائے، نام کمایا
مگر کیا دل آباد کیا؟

راتیں موبائل کی روشنی میں گزر جاتی ہیں
مگر تہجد کی روشنی نصیب نہیں ہوتی۔
آنکھیں سیریز دیکھتے نہیں تھکتیں
مگر قرآن پڑھتے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔

یہ کیسا سکون ہے؟
یہ کیسی تسلی ہے؟
کہ ہم جانتے بھی ہیں کہ وقت محدود ہے
پھر بھی گویا ہمیشہ رہنے آئے ہیں۔
قبریں خاموش نہیں ہوتیں
وہ ہر دن نئے مکینوں کو قبول کرتی ہیں۔
کل تک جو ہمارے ساتھ تھے
آج مٹی کے نیچے ہیں۔

اور ہم؟
ہم اب بھی مطمئن ہیں۔

کیا ہم نے کبھی سوچا
کہ اگر آج ہماری زندگی کا آخری دن ہو؟
اگر آج کی مغرب ہماری آخری مغرب ہو؟
اگر آج کی رات آخری رات ہو؟
ہماری تیاری کیا ہے؟
ہماری زادِ راہ کیا ہے؟
کیا ہمارے اعمال اس سفر کے قابل ہیں؟

وقت تلوار ہے۔
اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو وہ تمہیں کاٹ دے گا۔

زندگی ایک سانس کا نام ہے۔
ایک سانس اندر گئی… واپس نہ آئی تو کہانی ختم۔
نہ توبہ کا موقع، نہ معافی کی مہلت۔

لیکن ابھی
ابھی دروازہ بند نہیں ہوا۔
ابھی سانس جاری ہے۔
ابھی دل دھڑک رہا ہے۔
ابھی رب کی رحمت وسیع ہے۔
وہ رب جو رات کے آخری پہر پکارتا ہے
ہے کوئی مانگنے والا؟
ہے کوئی توبہ کرنے والا؟
ہے کوئی لوٹنے والا؟
ہم کب لوٹیں گے؟
کیا قبر کے اندھیرے میں؟
یا اس سے پہلے؟

آج اگر دل میں ہلکی سی چبھن محسوس ہو رہی ہے
تو سمجھ لو یہ اللہ کی رحمت ہے۔
یہ بے چینی عذاب نہیں… بیداری کی ابتدا ہے۔

اٹھو
اپنی نماز درست کرو۔
اپنے گناہوں پر آنسو بہاؤ۔
اپنے رب سے معافی مانگو۔

کیونکہ کل کا کوئی وعدہ نہیں۔
وقت ختم ہو رہا ہے…
اور اگر ہم آج بھی مطمئن رہے
تو کل پچھتاوا بھی فائدہ نہ دے گا۔

آج فیصلہ کرتے ہیں
ہم اپنی باقی زندگی کو غفلت میں نہیں گزاریں گے۔
ہم ہر دن کو آخری دن سمجھ کر جئیں گے۔
ہم ہر نماز کو آخری نماز سمجھ کر پڑھیں گے۔
ہم ہر سجدے میں ایسے گریں گے جیسے دوبارہ موقع نہ ملے گا۔

کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے…
کہ وقت ختم ہونے سے پہلے ہم سنبھل جائیں۔

اللہ ہمیں بیدار دل، نرم آنکھیں، اور سچی توبہ نصیب فرمائے۔
آمین۔ 🤍