روزہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ ہے ۔

:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
_اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِهٖ

 روزہ میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ بھی میرے   ذمہ ہے 
چنانچہ باقی ہر قسم کی عبادت کا ثواب فرشتے لکھتے ہیں ، مگر روزے کے بارے میں فرشتے یہ لکھتے ہیں کہ، اس نے روزہ رکھا اس کا اجر اور بدلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دیں گے ۔

اس میں ایک نکتہ ہے اس کو خوب اچھے سے سمجھ لیں ۔ ہر دینے والا اپنے مقام کے مطابق دیتا ہے ۔ فرض کریں کہ اگر کوئی ساںٔل آکر ہم سے مانگے تو ہم اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ایک روپیہ ، پانچ روپے جیسی ہماری حیثیت
ہوگی ہم وہ دے دیں گے ۔لیکن اگر وہی ساںٔل ملک کے کسی امیر آدمی سے مانگے تو وہ ایک روپیہ دیتے ہوئے شرماۓ گا ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ہزار روپیہ دے دے ۔اور اگر وہی ساںٔل سعودی عرب کے بادشاہ سے جاکر مانگے تو وہ ایک ہزار بھی دیتے ہوئے شرماۓ گا ۔ وہ اسے ایک لاکھ روپیہ دے گا ۔ بلکہ ہم نے سنا کہ وہاں کروڑوں چلتے ہیں ۔ اس سے کم کی بات ہی نہیں ہوتی ۔

جب دنیا کے بڑے لوگ اپنے مقام اور حیثیت کے مطابق دیتے ہیں تو یہاں سے یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کے دن جب روذہ کے عبادت کا اجر اللہ تعالیٰ دیں گے تو وہ بھی اپنی شان کے مطابق عطا فرماںٔیں گے ۔

بعض محدثین فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ تو یہی ہیں مگر اعراب میں فرق ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں ہے
اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اُجْزیٰ بِهٖ ۔

روزہ میرے لیے ہے اور روزہ کا بدلہ بھی میں خود ہوں
یعنی قیامت کے دن روزے کے بدلے اللہ تعالیٰ اپنا دیدار نصیب فرمائیں گے ۔