*حیا فقط چند لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایمان کی خوشبو ہے*
حیا چند لفظوں کا نام نہیں یہ روح کا سکون ہے دل کی طہارت ہے۔ کردار کا جمال ہے۔ حیا کوئی لباس نہیں جو تن پر اوڑھ لیا جائے بلکہ یہ وہ نور ہے جو دل سے پھوٹتا ہے یہ ایمان کی سانس ہے انسانیت کی پہچان ہے اور مومن کی آنکھوں کا اجالا ہے۔
جب حیا کسی دل میں اترتی ہے تو نگاہیں جھک جاتی ہیں لب خاموش ہو جاتے ہیں کردار خود بولنے لگتا ہے یہی حیا قوموں کو عزت دیتی ہے معاشروں کو برکت دیتی ہےاور انسان کو رب کے قریب کر دیتی ہے۔
یہی حیا ہے جب ایک ہندوستان کی مسلم لڑکی عائشہ نے اپنایا تو ظالموں کے مجمع میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم مسلمان بچیاں بھوک برداشت کر سکتیں ہیں ہم اپنے وجود کو ختم کر سکتے ہیں، ہم عصری تعلیمات کو ٹھوکر مار سکتے ہیں، ہم دولت و شہرت و عزت کو ٹھوکر مار سکتے ہیں ہیرے جواہرات کو پانیوں میں بہا سکتے ہیں ہم کائنات کی ہر شیئ برباد کر سکتے ہیں لیکن اپنی حیا نہیں کھو سکتے اپنے وقار کو آنچ نہیں آنے دیں گے ہم دنیا کے تمام آلام و مصائب کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن اگر ہماری حیا کو چھیننے کی بات کی جائے تو یہ گردن کٹ تو سکتی ہے لیکن بے حیائی کو پروموٹ نہیں کر سکتی۔
جب یہی حیا صدیق اکبر کے سینے میں بسی تو وہ صداقت کے پیکر بن گئے ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ حق بن گیا ان کی خاموشی درس بن گئی ان کی آنکھوں میں اللہ کا خوف چمکنے لگا، جب یہی حیا عمر ابن الخطاب کے دل میں اتری تو وہ فاروق اعظم کہلائے ان کی غیرت ایمان کی علامت تھی ان کی عدالت حیا کا اعلان تھی خود شیطان ان کے راستے سے گزرنے سے گھبراتا تھا، جب یہی حیا عثمان غنی کے وجود میں بسی تو فرشتے بھی ان سے حیا کرنے لگے ان کی نگاہوں میں نور تھا ان کے چہرے پر طہارت تھی ان کی خاموشی میں ایمان کی روشنی بولتی تھی، جب علی کے کردار میں حیا نے گھر کیا تو ان کی تلوار میں عدل کی خوشبو پیدا ہوئی ان کی گفتگو میں علم تھا ان کے فیصلوں میں تقویٰ تھا۔ ان کے سکوت میں معرفت بولتی تھی۔
یہی حیا جب فاطمہ زہرا کے دل میں اتری تو عصمت و طہارت کی وہ مثال قائم ہوئی کہ زمانہ جھک گیا لیکن ایک قدم بھی انکی جرأت و استطاعت کو کمزور نا کر سکی ان کی چادر میں نور چھپا تھا ان کے گھر میں سکون بسا تھا ان کی گود سے وہ پھول نکلے جنہوں نے کربلا کو ایمان کا نشان بنا دیا، جب یہی حیا عائشہ صدیقہ کے دل میں بسی تو علم نے حیا کا روپ دھار لیا ان کی بات میں وقار تھا ان کے علم میں برکت تھی ان کے کردار میں روشنی تھی، اور زینب جب مصیبتوں میں بھی ان کی حیا برقرار رہی تو کربلا کے بعد شام کے بازار میں سر جھکا کر انہوں نے عزت کا پرچم بلند کر دیا ان کی حیا نے دکھ کو طاقت میں بدلا خاموشی کو للکار میں بدلا اور صبر کو ایمان کی علامت بنا دیا۔
جب ماں میں حیا ہوتی ہے تو اس کی گود جنت بن جاتی ہے جب بیٹی میں حیا ہوتی ہے تو باپ کا سر فخر سے بلند رہتا ہے۔ جب بیٹا حیا دار ہوتا ہے تو گھر کی فضا امن سے مہک جاتی ہے۔ جب استاد میں حیا ہوتی ہے تو علم میں تاثیر آتی ہے شاگردوں میں سچائی پنپتی ہے۔ جب دوستوں میں حیا ہوتی ہے تو رفاقت عبادت بن جاتی ہے، جب عورتوں میں حیا ہوتی ہے تو گھروں میں جنت اتر آتی ہے نگاہیں جھک جاتی ہیں دل پاکیزہ ہو جاتے ہیں سماج میں سکون کے چراغ جل اٹھتے ہیں جب مردوں میں حیا ہوتی ہے تو غیرت جاگتی ہے دیانت زندہ رہتی ہے معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
حیا دراصل اللہ کی صفت ہے رسول اکرم ﷺ کی سنت ہے اور مومن کی پہچان ہے یہ دلوں کو نرم کرتی ہے نگاہوں کو پاک کرتی ہے ارادوں کو مضبوط کرتی ہے اور انسان کو فرشتوں کے قریب کر دیتی ہے۔
آج حیا پر حملے ہیں مگر اہل ایمان اب بھی بیدار ہیں کیونکہ ہم اپنے شعار سے محبت کرتے ہیں ہم حیا کے محافظ ہیں یاد رکھو جس دل میں حیا زندہ ہے وہاں ایمان سانس لیتا ہے اور جس قوم میں ایمان زندہ ہو اسے کوئی طاقت زیر نہیں کر سکتی۔
یہی حیا صدیق کے ایمان کا جلال بنی یہی حیا عثمان کے وقار کی خوشبو بنی یہی حیا فاطمہ کے پردے کا نور بنی یہی حیا زینب کے صبر کا وقار بنی اور یہی حیا آج بھی مومن کے دل کا زیور ہے، حیا وہ چراغ ہے جو بجھ جائے تو ایمان اندھیرا ہو جاتا ہے اور جل اٹھے تو دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*