ہماری زندگیاں:
مشکل آئے یا کوئی تکلیف ملے ، تھوڑا سا اپنی سوچ کو بدل کر دیکھیں، اپنے عمل کو نکھارنے کی کوشش کریں۔ یہ جو جو کچھ آپ کی زندگی میں چل رہا ہے، یہ شکل بدل بدل کر چلتا رہے گا۔ آج یہ حالات ہیں، کل دوسرے ہوں گے۔ آج ایک نے دل دکھایا ہے، کل تین دکھائیں گے۔ آج یہ مشکل ہے، کل دوسری ہو گی۔ تکلیف، مشکل، اور مصیبت کی صرف شکل بدلتی ہے، ورنہ یہ زندگی میں سائے کی طرح ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ انہیں تسلیم کریں، ان سے مقابلہ کریں۔ گرمیوں میں ہم سیکھ جاتے ہیں کہ گرمی سے کیسے بچنا ہے سردیوں میں سردی سے ۔ طوفان کتنا ہی شدید ہو انسان اس سے نپٹ لیتا ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے طوفان کو قوی نہیں بنایا، انسان کو قوی بنایا ہے۔ بیٹھنا تو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں بھی آسان نہیں تھا لیکن یہ اللہ پر یقین تھا کہ انہیں زمین کا ٹکڑا ضرور دکھائی دے گا کہ وہ تسلی سے بیٹھے رہے۔ وہ کشتی بھی پانی کے طوفان میں ہچکولے کھاتی رہی تھی۔ زمین ساری پانی میں ڈوب گئی ہو اور صرف ایک کشتی طوفان کے حوالے ہو، یہ سننا آسان ہے، بتانا آسان ہے، لیکن اس سے گزر جانا آسان نہیں. کشتی میں بیٹھ کر جو طوفان سے گزر گئے۔ آج ہم انہی کی بنائی دنیا میں آبا دہیں۔ اس لیے اپنی تکلیفوں کے طوفان کو قومی نہ سمجھیں بلکہ اپنی قوتوں کو پہچانیں۔ اللہ سے شکوہ کی بجائے تعلق بنائیں۔ ویسے بھی اس بھری دنیا، اس پوری کائنات میں ہے ہی کون ؟ جب اس ایک کو پہچان لیں گے تو ڈریں گے نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ دل چھوٹا کریں گے. اللہ نے کسی سے فیری ٹیل لائف کا وعدہ نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے کہا ہے کہ مشکل آئے، مجھے پکارو۔ اس پر پر لبیک کہنے کا اللہ کا وعدہ ہے۔ تکلیف میں ہو مجھے پکارو۔ پھر امید دی ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ پھر کہا میری رحمت تمہاری تلاش میں ہے۔ میری طرف چل کر آؤ میں دوڑ کر آؤں گا ۔۔ تو اللہ نے یہ سب وعدے کیے ہیں،
اور وہ ان میں سچا ہے، آپ صرف یقین رکھیں۔
الاعظمی✍️