*چھٹی کی بے برکتی*
بقلم معاذ حیدر
٢٨/ شعبان ١٤٤٧ھ
چھٹیاں آنے سے پہلے دل میں عزائم کی ایک طویل عمارت کھڑی رہتی ہے کہ ایامِ تعطیل میں یہ بھی کرنا ہے اور وہ بھی؛ مگر جوں ہی چھٹیوں کا آغاز ہوتا ہے، تو معاملہ "آج" اور "کل" پر ٹلتا رہتا ہے۔
درس کے دنوں میں جتنے کام اسباق کے ساتھ ساتھ انجام پاجاتے ہیں، وہی کام چھٹی کے دنوں میں نہیں ہوپاتے۔
میں نے کئ مرتبہ اپنے اساتذۂ کرام سے اس کا ذکر کیا کہ پورا ہفتہ درس سننے کے ساتھ مطالعہ اور دیگر خارجی موضوعات پر بھی خاصی پیش رفت ہو جاتی ہے، لیکن تعطیل کے دنوں میں خارجی مطالعہ کی یومیہ مقدار بھی پوری نہیں ہوپاتی۔
پڑھائی کے زمانہ میں مستعدی کی کئ وجوہات ہوسکتی ہیں، ان میں ایک مؤثر ترین وجہ اساتذہ کرام کی صحبت ہے، ان کی صحبت کی تاثیر سے قلوب میں ایسی استعداد پیدا ہوجاتی ہے جس سے علم کے دہانے کھل جاتے ہیں، اور انہی نفوسِ قدسیہ کی برکت سے انسان کا علم اغلاط سے محفوظ ہوجاتا ہے، محض ذاتی مطالعہ سے معلومات تو حاصل ہو جاتی ہیں، علم کا زعم بھی پیدا ہوجاتا ہے، لیکن حقیقی علم تک کما حقہ رسائی نہیں ہوپاتی۔
مولانا *بدر عالم میرٹھی* رحمہ اللہ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف *"ترجمان السنّۃ"* (١/ ٥٠) میں اس بابت بڑی بصیرت افروز بات لکھی ہے:
*"یہ کچھ قدرتی نظام بھی ہے کہ جب ایک جماعت تشنہ لب، دستِ حاجت دراز کیے ہوئے تحصیلِ علم کے لیے آتی ہے تو اس اجتماع میں ایک عجیب برکت پیدا ہو جاتی ہے؛ یعنی معلم میں قوتِ افادہ اور متعلم میں وہبی طور پر قوتِ استفادہ اس طرح جلوہ گر ہوتی ہے کہ علوم جس انداز سے وہاں منکشف ہوتے ہیں، محض اپنے مطالعے سے اس طرح نہیں کھلتے۔"*
حضرت کی اس عبارت سے جہاں صراحۃً یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صحبت کے بغیر علم کی حقیقت تک رسائی ممکن نہیں، وہیں اشارۃً یہ نکتہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ درس کے ایام میں اساتذہ کی صحبتِ با برکت کی وجہ سے قوتِ استعداد اپنے عروج پر ہوتی ہے، جب کہ تعطیل کے دنوں میں اس قوت میں نمایاں فرق آجاتا ہے۔