*غور و فکر کی اہمیت*
بقلم: معاذ حیدر
٣/ رمضان ١٤٤٧ھ
ذہنی مشق اور فکری کاوش سے زود فہمی بڑھتی ہے، دماغی قوت میں اضافہ ہوتا ہے، اس مرحلے سے گزری ہوئی باتیں اکثر یاد رہتی ہیں، *فقہاءِ اسلام* کی *"استنباطی کاوشیں"* اصول میں غور وخوض کا نتیجہ ہیں، علمی دنیا میں *"تدبر"* کو ایک مستقل عمل کی حیثیت دی گئ ہے، *حضرت الاستاذ بحرالعلوم مولانا نعمت اللہ اعظمی صاحب -دامت برکاتہم-* سے بارہا اس کی تاکید سنی ہے۔
ایک مرحلہ میں پہنچنے کے بعد متون میں محض غور وخوض سے ہی معانی ومفاہیم آشکارا ہونے لگتے ہیں، ابتدائی مراحل میں اس کی مشق ہوجانے سے بے شمار فائدے حاصل ہوتے ہیں، ماضی میں استاذ کے زیرِ نگرانی بغیر حاشیہ والی کتاب پڑھنے کی عادت ڈلوائی جاتی تھی۔
*حضرت سیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی -رحمہ اللہ-* نے *اپنے والد ماجد؛ مولانا یحییٰ صاحب -نور اللہ مرقدہ-* کے طریقۂ تدریس کے بارے میں لکھا ہے:
"ادب کی کتابوں میں وہ (والد صاحب) محشی کتابوں میں پڑھانے کے مخالف تھے، میں نے جو "مقامات" پڑھی.......اس میں نہ کوئی حاشیہ تھا نہ اعراب، "سبعہ معلّقہ" انھوں نے اپنے دستِ مبارک سے لکھ کر پڑھایا؛ اس لیے کہ موجودہ "سبعہ معلّقہ" سب محشی تھے، اسی طرح "متنبی" بھی ان کے دستِ مبارک کی لکھی ہوئی پوری موجود ہے"
(آپ بیتی: ١/ ٧٤)
یہ طرزِ عمل ذکاوت میں ترقی کا ذریعہ ہے، حلِ عبارت کے لیے غور وفکر سے پہلو تہی اختیار کر کے شروحات یا اس سے بھی نیچے درجے کی چیزوں کی عادت بنالینا "ذہانت" کے لیے بے حد مضر ہے۔
نفسِ متن میں غور کیے بغیر، متعلقات کی مدد سے مسئلہ تو حل ہوجاتا ہے؛ لیکن وہ دیرپا نہیں ہوتا۔
*حضرت الاستاذ مفتی نذیر صاحب قاسمی -دامت برکاتہم-* اکثر کہا کرتے تھے: "آسانی سے حاصل ہونے والی باتیں ذہن سے آسانی سے نکل جاتی ہیں"۔